ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ جوہری مقامات پر آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو آنے کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کی سربراہ آئی اے ای اے رافیل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، ایرانی جوہری مراکز کے معائنے کے لیے آئی اے ای اے کے دوروں سے متعلق کوئی واضح شیڈول طے نہیں۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے فی الحال کوئی باقاعدہ طریقہ کار طے نہیں کیا گیا، جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے بحیثیت رکن ملک ایران موجودہ اور شفاف بین الاقوامی ضابطہ کار پر عمل کرے گا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کا ردِعمل انسان کی ثابت قدمی کی کہانی ہے، یہ ردِعمل دفاع، وقار اور قومی غیرت کے تحفظ کے لیے تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ اب ہم سب جان چکے کہ اس جنگ کا اصل مقصد ایران کی تہذیب کو ختم کرنا تھا، اب یہ مقصد تبدیل ہو کر منجمد ایرانی اثاثوں کے ذریعے امریکی کسانوں کو مالی فائدہ پہنچانے میں بدل گیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ہمیں ان فنڈز کے استعمال سے متعلق کسی قسم کی پابندی کا سامنا نہیں، ہمارے اثاثے مکمل آزادی کے ساتھ استعمال کیے جائیں گے۔
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک حالیہ برسوں میں اپنی پالیسیوں کے باعث خود کو سفارتی عمل سے الگ کر چکے، ایران پر مسلط کی گئی دونوں جنگوں کے دوران یورپی ممالک نے نامناسب مؤقف اختیار کیا، دنیا نے یورپی ممالک کا یہ طرز عمل دیکھا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر ذمے دارانہ رویہ یقیناً یورپی فریقوں کی ساکھ اور حیثیت میں اضافہ نہیں کرے گا، ایران کے پاس ناقابل تردید شواہد ہیں کہ خطے کے بعض ممالک نے اسرائیل جنگ میں حصہ لیا، ان بعض ممالک کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ہمیں اس صورتِ حال پر افسوس ہے، اس حوالے سے جو بھی ضروری اقدام ہوگا، کریں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں حالیہ مذاکرات تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہے، ڈیڑھ گھنٹے بعد مذاکرات میں وقفہ کیا گیا، وقفے کے بعد ایرانی وفد نے چار فریقی اجلاس دوبارہ شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔