• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رواں سال کا ہر دن پاکستان کیلئے سفارتی محاذ پر کامیابیوں کے نئے جھنڈے گاڑنے کا باعث ثابت ہورہا ہے ، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے پڑوسی برادر ایران اور سپرپاور امریکہ کے مابین اسلام آبادمفاہمتی یاداشت پربطور ثالث دستخط کرکے پاکستان کا نام تاریخ میں ہمیشہ کیلئے سنہری حروف سے رقم کرالیا ہے،اسلام آباد میمورنڈم کی کامیابی کے بعد دنیا بھر کے عالمی میڈیا میں پاکستان کو بطور ذمہ دار، بااعتماد اورموثر سفارتی قوت سراہا جارہا ہے، ایران کے صدر کے حالیہ دورہ اسلام آباد کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملنا پاکستان کے تیزی سے بدلتے عالمی منظرنامے میں قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ اس وقت عالمی میڈیا یہ کھوج لگانے کی جستجو میں ہے کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران جیسے کٹر مخالفین کو ایک میز پر ساتھ بٹھا کر امن مذاکرات کی کامیابی کا ناقابل ِ یقین کارنامہ کیسے سرانجام دیا؟اس سوال کا جواب کھوجنے کیلئے ہمیں تھوڑا سا ماضی میں جھانکنا پڑئیگا جب گزشتہ برس 9 مئی کو مشرقی سرحدکی فضاؤں پر زبردست دفاعی کامیابی نے پاکستان کی عسکری طاقت، پیشہ ورانہ مہارت اور عزم و ولولے کو دنیا پر آشکار کیا،طاقتور پڑوسی کی جارحانہ پالیسیوں اور اشتعال انگیز اقدامات کے مقابلے میں پاکستان نے تحمل، حکمت اور بھرپور دفاعی تیاری کا مظاہرہ کیا، پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی اور دنیا نے دیکھا کہ امن کا خواہاں پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر تیار ہے۔ کچھ عرصے بعد ہمارے پڑوسی برادر ملک ایران کو جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو اسلام آبادکی امن کیلئے پُکار پوری دنیا میں گونجنے لگی، مجھے آج بھی وہ سیاہ رات یاد ہے جب دنیا دم سادھے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب التجائی نظروں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ ایران کی صدیوں پرانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی اپنی دھمکی پر کیسے عمل کرتے ہیں، تاہم آدھی رات کو وزیراعظم پاکستان کی جانب سے سیزفائراستدعا ٹوئٹ نے آناََ فاناََ صورتحال کوبدل ڈالا۔ جس وقت جنگ زدہ ایران کی فضاؤں میں ہر طرف بیرونی جارح قوتوں کا راج تھا، ایران کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو منظر سے ہٹایا جاچکا تھا،پاکستان کے بہادر دلیر دبنگ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران نے دنیا کو حیران کردیا ۔جب خطے کو درپیش سیکورٹی چیلنجز، سرحدی کشیدگی اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتےہوئے اختلافات نے مشرقِ وسطیٰ کومزید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا تو ایسے وقت سفارتی افق پر پاکستان امید کا ستارہ بنکر جگمگایا۔ دفاعی محاذ میں فقید المثال کامیابی کے اثرات سفارتی میدان پر بھی نمایاں طور پر سامنے آنے لگے، ازل سے عالمی سیاست کایہ اصول رہا ہے کہ مضبوط دفاع ہی مؤثر سفارت کاری کی بنیاد ہے، جب کوئی ملک اپنی سرحدوں، قومی مفادات اور عوام کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہو تو اسکی آوازعلاقائی و عالمی سطح پروزن رکھتی ہے۔ناقابلِ تسخیر دفاع نے حکومت ِ پاکستان کو یہ اعتماد فراہم کیا کہ وہ عالمی سطح پر مؤثر سفارت کاری کو آگے بڑھا سکے،عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی کے نتیجے میں اسلام آباد میمورنڈم نے ایک بار پھر دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان ڈائیلاگ، تعاون اور سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ قومی یکجہتی پاکستان کی اصل طاقت ہے، آج پوری قوم کو اپنی سیاسی و عسکری قیادت پر فخر ہے جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کیا اور دنیا بھرمیں پیارے وطن کا وقار بلند کیا۔آج مالک کے فضل و کرم سےپاکستان ایک ایسےذمہ دار ملک کے طور پرعالمی منظرنامے پر اُبھراہے جو تنازعات کے دیرپا، پُرامن حل کیلئے بہترین انداز میں تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے، جب دنیا کسی ملک کو امن اور استحکام کے ضامن کے طور پر دیکھتی ہے تو وہاں سرمایہ کاری، تجارت اور اقتصادی تعاون کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی کامیابیوں سے بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مضبوط ہوا ہے، جسکے نتیجے میں ملکی معیشت کو استحکام مل سکتا ہے، اسی طرح سیاحت، تجارت، علاقائی رابطہ کاری اور بین الاقوامی شراکت داری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم ہمیں حالیہ مثبت پیش رفت کو اپنے قومی مفادات کے حصول بالخصوص عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے کارآمد بنائیں۔

تازہ ترین