• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانوں میں پچھلی نسل سے زیادہ تیزی سے کینسر کا خطرہ بڑھ رہا ہے، تحقیق

ایک نئی تحقیق کے مطابق موجودہ بالغ نوجوان اپنے سے پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہے ہیں، جس کے باعث ان میں کینسر کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔

اس سال کے آغاز میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ 20 سے 49 سال کی عمر کے بالغ افراد میں 11 اقسام کے کینسر کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، جن میں چھاتی، آنتوں اور لبلبے کا کینسر شامل ہے۔ روایتی طور پر یہ مہلک بیماری زیادہ عمر کے افراد میں عام سمجھی جاتی تھی، جس کی وجہ سے ماہرین اس تبدیلی کی وجوہات تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

اس رجحان کی وضاحت کے لیے کئی نظریات پیش کیے گئے ہیں، جن میں غیر صحت بخش غذا، موٹاپا، تمباکو اور شراب نوشی، آنتوں میں موجود مفید جراثیم (گٹ مائیکرو بائیوم) کے توازن میں خرابی اور حتیٰ کہ مائیکرو پلاسٹک کے ذرات کی ماحول میں موجودگی بھی شامل ہے۔

تاہم طبی جریدے نیچر میڈیسن میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں اس سلسلے میں مختلف وضاحت پیش کرتے ہوئے ہمارے جسم کے اندرونی طور پر عمر رسیدہ ہونے کے طریقے پر بات کی گئی ہے۔

سائنس دان اب صرف پیدائشی عمر پر انحصار نہیں کر رہے، جو کسی شخص کے زندہ رہنے کے سالوں کی تعداد ہوتی ہے۔ اس کے بجائے وہ حیاتیاتی عمر پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ حیاتیاتی عمر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جسم کتنی اچھی طرح کام کر رہا ہے اور کس رفتار سے بوڑھا ہو رہا ہے۔ اس کا تعین طرز زندگی، خوراک، نیند، ذہنی دباؤ، جسمانی فٹنس، سوزش اور مجموعی میٹابولک صحت جیسے عوامل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

برطانیہ اور امریکا کے تقریباً ایک لاکھ 64 ہزار بالغ افراد کے خون کے نمونوں کے تجزیے میں محققین نے 30 اور 40 سال کی عمر کے لوگوں میں تیز رفتار حیاتیاتی عمر رسیدگی کے شواہد دریافت کیے۔ یہ رجحان ان کے والدین کی نسل میں نہیں دیکھا گیا تھا۔

1965 سے 1974 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد میں ان لوگوں کے مقابلے میں جو دو دہائیاں پہلے پیدا ہوئے تھے، خلیاتی سطح پر زیادہ تیزی سے عمر بڑھنے کے آثار پائے گئے۔ دوسرے الفاظ میں ان کے جسم اپنی حقیقی عمر کے مقابلے میں زیادہ عمر رسیدہ نظر آئے۔

یہ نتائج اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جسم کے اندر تیزی سے بڑھتی ہوئی عمر کم عمر بالغوں میں کینسر کے بڑھتے ہوئے واقعات میں کردار ادا کر سکتی ہے، اگرچہ محققین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس کے پیچھے غالباً کئی عوامل کارفرما ہیں۔

سائنسدانوں نے مختلف عمر کے گروہوں کے خون کے نمونوں اور دیگر صحت سے متعلق اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات دریافت کی۔ اس دوران انہوں نے جسم میں موجود ٹوٹ پھوٹ کے عمل کی علامات کا جائزہ لیا، جیسے کہ ڈی این اے کو پہنچنے والا نقصان اور سوزش جو عموماً غیر صحت مند طرز زندگی اور آلودگی کے اثرات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔

تشویش کی بات یہ ہے کہ جو لوگ آج اپنی پچاس کی دہائی میں ہیں، ان میں کم عمری ہی سے حیاتیاتی عمر رسیدگی کے تیز آثار دیکھے گئے۔ یہ افراد ان لوگوں کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ تیزی سے بوڑھے ہوئے جو آج اپنی 70 کی دہائی میں ہیں۔

اس تحقیق کی مالی معاونت کینسر ریسرچ یو کے نے کی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ جن بالغ افراد کی حیاتیاتی عمر ان کی اصل عمر سے زیادہ تھی، انہیں 55 سال کی عمر سے پہلے کینسر لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ تھا۔ 

اس تحقیقی ٹیم کی سربراہ اور مصنفہ واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن پروفیسر یین کائو نے کہا کہ حیاتیاتی عمر رسیدگی صرف اس بات کا نام نہیں کہ آپ نے کتنی سالگرہ منائی ہیں، بلکہ یہ جسم کے اندر خلیاتی اور مالیکیولر سطح پر ہونے والے نقصانات اور ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں ایسی تبدیلیاں شامل ہو سکتی ہیں جو خلیات اور ٹشوز کے کام کرنے کے طریقے کو متاثر کرتی ہیں، مثلاً مسلسل سوزش، مدافعتی نظام کی کمزوری اور وقت کے ساتھ خلیات میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شامل ہے

پروفیسر یین کائو نے کہا ہماری تحقیق سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بعض کم عمر بالغ افراد میں یہ حیاتیاتی تبدیلیاں توقع سے پہلے رونما ہو رہی ہیں اور ممکن ہے کہ ان کا تعلق نوجوان نسلوں میں کینسر کی بڑھتی ہوئی شرح سے ہو۔

محققین نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق تھا، لہٰذا اس سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ حیاتیاتی عمر بڑھنے کا تیز عمل براہ راست کینسر کا سبب بنتا ہے۔

صحت سے مزید