واہگہ سے گوادر تک عوام ،اپنی سیاسی اور فوجی قیادت کی امریکہ ایران مذاکرات میں نتیجہ خیزی کے ثمرات اپنے مسائل کے حل تک پہنچنے کی امید کر رہے ہیں۔ہمیں اچھی حکمرانی کا تجربہ تو نہیں ہو سکا لیکن سفارت کاری میں سرخروئی دیکھ چکے ہیں ۔دنیا کی سپر طاقت کو تمام تر دعووں کے باوجود اپنے جارحانہ عزائم کو لگام دینا پڑی ۔اب تاریخ اور جغرافیہ کے ہم سے کیا تقاضے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کیلئے یقیناََ یہ لمحہ فکریہ بھی ہے اور سنہری موقع بھی کہ عالمی افق پر اس کامیابی کے بعد ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہئیں۔ مہلت 60دن کی ہے جس میں ہمارا 80 واں یوم آزادی بھی آ رہا ہے۔ اپنے 79 سال کی کامیابیوں ناکامیوں کا تجزیہ بھی کرنا ہوگا ۔ملک کے 25 کروڑ جیتے جاگتے انسانوں کی بہتر زندگی ہماری حقیقی ذمہ داری ہے۔ اس وقت ہمارے مرکزی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومتوں میں بہت تجربہ کار حکمران مسندوں پر بٹھائے گئے ہیں۔ 1985 سے یہ قومی سیاسی پارٹیاں اور فوجی قیادت باری باری حکمرانی کرتے رہے ہیں۔ ان کی پالیسیاں حکمت عملی اکثریت کے سامنے ہے ۔اب ایک فیصلہ کن موقع ہمیں نصیب ہوا ہے کہ جب آئی ایم ایف ،عالمی بینک ،عالمی ادارہ صحت ،عالمی تجارتی آرگنائزیشن ،اقوام متحدہ سے سب کچھ کروا سکنے والا امریکہ ہمارا مرہون منت ہے ۔پہلے بھی تاریخ میں ایسے کئی موڑ آئے قوم مطالبے کرتی رہی کہ اپنے قرضے معاف کروا لیں۔ افغانستان میں کمیونسٹ فوجوں کے مقابلے میں امریکہ اور سی آئی اے سے کامیاب اتحاد کے باوجود ہم اپنی معیشت کو استحکام نہ دے سکے۔
پھر نائن الیون کے بعد ہم امریکہ کے نان نیٹو اتحادی بن گئے ۔ہماری زمین اڈے اور ہم خود استعمال ہوتے رہے۔ اس وقت ہمیں باور کروایا گیا کہ ہم امریکہ سے کشمیر کا مسئلہ حل کروا لیں گے۔ کئی فارمولے بھی وضع کیے گئے لیکن کشمیر پر بھارت کا جابرانہ قبضہ جاری رہا پھر اس نے اپنے آئین میں بھی تبدیلی کر ڈالی۔ قوم سمجھتی ہے کہ یہی وہ سازگار وقت ہے جب امریکہ پر دباؤ ڈالا جائے۔صدر ٹرمپ ویسے بھی وزیراعظم مودی کو اپنے طنز اور ناپسندیدگی کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ کشمیر تاریخ کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔جنوبی ایشیا میں تنازعات کا تسلسل ہے۔ دو جنگیں اسی بنیاد پر لڑی جا چکی ہیں ۔اس کیلئے بھی ویسی ہی سفارتکاری کی جائے۔ جیسے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے کی گئی ۔
دوسرا اہم مسئلہ سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور اس پر حقیقی عمل درآمد ہے ۔پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے معرکہ حق میں شکست فاش کے بعد پانی کو اپنا ہتھیار بنایا اور اس معاہدے پر عمل درآمد سے دستبرداری اختیار کر لی۔ دریائے چناب پر کئی ڈیم بنانے کی اطلاعات بھی ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ اب سندھ طاس معاہدے کیلئے عالمی پلیٹ فارموں پر آواز بلند کرے۔ باضابطہ طور پر ہمارے وزیراعظم امریکی صدر سے بات کریں اور اس کیلئے ایک ہدف بھی مقرر کیا جائے۔
آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں، بہووں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن ۔کبھی کبھی اپنے بھائیوں بھتیجوں بھتیجیوں کو بھی بلا لیں۔ اپنی بہنوں ،بہنوئیوں ۔بھانجوں ۔بھانجیوں کو بھی دعوت دیں۔ سب کچھ نہ کچھ سوچتے رہتے ہیں اور جو عزیز و اقارب سمندر پار مقیم ہیں وہ ہم سے زیادہ پاکستان کا درد رکھتے ہیں اور وہ ایسے مہذب ملکوں میں رہتے ہیں۔ جہاں قانون کی حکمرانی ہے ۔ وہ ہمارے مسائل پر زیادہ اچھے مشورے دے سکتے ہیں۔ اتوار کیلئے ہماری گزارش یہ بھی ہوتی ہے کہ محلے داری بھی برتیں۔ ملک کے استحکام کیلئےاپنے گھر، اپنے محلے میں استحکام بنیادی ضرورت ہے۔
امریکہ ایران اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے بعد 60دن میں یعنی 17اگست تک ایک حتمی قابل عمل معاہدے کے حصول کیلئےکوششیں بھی جاری رکھنی ہیں۔ مگر اس زریں موقع کو پاکستان اپنے غیر ملکی قرضے معاف کروانے کیلئے اول تو امریکہ سے معاہدہ کرے ورنہ ایم او یوپر تو ضرور دستخط کریں۔ امریکہ اپنے قرضے بھی معاف کر سکتا ہے اور دوسرے ملکوں سے بھی کہہ سکتا ہے پاکستان پر 138 بلین ڈالر غیر ملکی قرضے اور واجبات ہیں ان دنوں ہماری آمدنی ویسے بھی کم ہے۔ برآمدات بھی محدود ہیں۔ روزگار کے مواقع بھی کم ہیں۔ عالمی بینک کی ہدایت کے باوجود ہم 50لاکھ نوکریاں نوجوانوں کیلئے نہیں نکال سکے۔ ہم جو بھی کما رہے ہیں وہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے ۔
امریکہ نے ایران سے تجارت اور بالخصوص گیس پائپ لائن پر پابندی عائد کی ہوئی ہے اس کیلئےپاکستان کو امریکہ سے خصوصی اجازت لینی چاہیے۔ پائپ لائن کی کل لمبائی2775 کلومیٹر ہے۔ ایران پاکستان کی سرحد تک اپنی لائن بچھا چکا۔ اس منصوبے کے ذریعے 750 ملین مکعب فٹ گیس پاکستان کو روزانہ فراہم کی جا سکتی ہے ۔پاکستان کو بجلی اور کھاد کی پیداوار میں بہت مدد ملے گی پاکستان کو 785کلومیٹر پائپ لائن بنانا ہے جو بلوچستان میں خضدار سے سیدھی ملتان جائیگی اور ایک شاخ کراچی آئے گی اب ایران پر اس ثالثی کے بعد پابندیاں ہٹائی جا رہی ہیں۔ پاکستان میں توانائی کے سنگین مسئلے کے حل کیلئے اس پائپ لائن کی تعمیر ہماری ترجیحات میں سر فہرست ہونی چاہئے ۔ثالثی کے ثمرات اسی طرح 25 کروڑ ہم وطنوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایرانی صدر جناب مسعود پزشکیان کا اسلام آباد کا دورہ بروقت تھا اور بہت کامیاب۔ ہمیں اس پذیرائی سے بھی پاکستان کے مفادات کو پروان چڑھانا چاہیے۔ ایرانی تیل دوسرے ملکوں سے درآمدہ تیل کے مقابلے میں ہمیں بہت سستا پڑ سکتا ہے۔ اس کی اسمگلنگ تو ہوتی رہتی ہے لیکن ایران پاکستان اس کیلئے باضابطہ معاہدہ کر لیں تو زمینی راستے سے زیادہ اخراجات بھی نہیں ہوں گے اور تاخیر بھی نہیں ہوگی۔ امریکہ ایران کے درمیان مذاکرات میں کامیابی سے پاکستان کیلئے ایران سے تجارت میں زیادہ امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اس باہمی تجارت سے ایران کو بھی فائدہ ہوگا اور پاکستان کو بھی۔ ہمارے وزرائے تجارت کو اس سلسلے میں جلد میٹنگیں کرنی چاہئیں۔
جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کا معاہدہ سارک بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دوسرے معاہدوں کی طرح کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کی میٹنگ تک نہیں ہوتی۔ تعاون تو کیا ہوگا ۔ہمارے خیال میں پاکستان کو سوچنا چاہیے کہ یا تو سارک میں ایران کو باقاعدہ شامل کیا جائے یا پھر ایران، پاکستان ،ترکی کے سابقہ علاقائی تعاون کے معاہدوں کو زیادہ فعال کیا جائے۔
بلوچستان میں بہت محرومی ہے بہت کشیدگی ہے۔ ایران کے ذریعے بلوچستان میں بہت سے ترقیاتی علمی منصوبے شروع ہو سکتے ہیں۔ ایرانی قائدین خود بھی بہت پڑھے لکھے ہیں اور وہاں کی کئی یونیورسٹیاں دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں شامل کی جاتی ہیں ۔ ہماری گزارش ہوگی کہ ایران کی ان یونیورسٹیوں سے ہماری یونیورسٹیاں بھی باضابطہ معاہدے کریں۔