کراچی(رفیق مانگٹ)امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز ایک بار پھر خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے،۔ ان واقعات کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں جنگی خدشات بڑھ گئے ہیں بلکہ عالمی تیل منڈی بھی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔تجارتی جہازوں پر متعدد حملوں سے عالمی تشویش،سنگاپور کے پرچم بردار جہاز پر ڈرون حملہ، ذمہ داری غیر واضح، برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2فیصد سے زائد اضافہ ہوا ،میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے باوجود تجارتی جہازوں پر حملوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ حملوں کی تفصیلات کے مطابق 25 جون کو ایک سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر جہاز کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ اس حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی، تاہم شبہ ظاہر کیا گیاکہ اس میں ایرانی عناصر ملوث ہو سکتے ہیں۔ اسی دوران 27جون کو ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم پراجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں جہاز کے برِج کو نقصان پہنچا، تاہم خوش قسمتی سے عملہ محفوظ رہا۔