• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افراط و تفریط کی اس دنیا میں، مہذب انسانیت کا یہ طےشدہ اصول ہے کہ، اپنےوطن، اپنی زبان ،قبیلے یا اپنی روایات و تاریخ سے محبت ہونا فطری امر ہے۔ البتہ اپنی اس محبت کی وجہ سے کسی دوسرے کے وطن ، زبان، قبیلے، روایات اور تاریخ کو حقیر سمجھنا تعصب کہلاتا ہے۔ ہم سب سے پہلے تو انسان ہیں اور رتبے میں سب انسان برابر ہیں مگر ہندوستان اور پاکستان میں اپنی ذات ،جاتی، قبیلے کو سب سے اعلیٰ اور برتر قرار دینا اور دوسروں کو کمتر سمجھنا ایک پرانی اور انتہائی بری رسم ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد بھی ہم نے کبھی صوبائی اور کبھی علاقائی بنیادوں پر ایک کو دوسرے سے برتر اور کمتر سمجھا۔ بنگالیوں کے بارے میں مغربی پاکستان کے لوگوں کا عمومی رویہ متعصبانہ اور متکبرانہ تھا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں یہ تعصب سب سے بڑی وجہ تھی ،افسوس تو یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے تعصب کا یہی رویہ صوبوں، قبیلوں ،ذاتوں اور برادریوںمیں آج تک موجزن ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کو، اسکے حکمران طبقے کی غلطیوں کا ذمہ دارٹھہراتے ہوئے ،پنجاب، اسکی زبان، تاریخ اور لوگوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے کا رواج عام ہے ۔بلوچستان، پختوانخوا اور سندھ کے سنجیدہ فکر سیاست دان اور دانشور اگر پنجابیوں کے سامنے گلے شکوے کرنے سے گریز بھی کریں تو ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ سے منسوب اصطلاح Freudian Slip میں ان کے منہ سے اصل بات نکل جاتی ہے۔ (فرائیڈین Slip دل میں چھپی ہوئی وہ بات ہوتی ہے جسکا اظہار غلطی سے یا نا دانستگی میں ہو جاتا ہے) سیاستدان تو معاشرے کے عقل مند ترین افراد ہوتے ہیں اور وہ اپنی بات چھپانے اور اپنا مدعا بہترین انداز میں پیش کرنےکے ماہر بھی ہوتے ہیں مگر عام آدمی کا تعصب چھپائے نہیں چھپتا۔ سندھ ہو یا بلوچستان، پختونخوا ہو یا چھوٹے صوبے اورخطوں کاکوئی بھی شہری۔

سب کے الزامات کا نشانہ عام طور پر پنجاب ہوتا ہے اور حد تو یہ ہے کہ کئی ڈراموں میں پنجابی زبان کا مذاق اڑا کر یا ادبی تحریروں میں بھی پنجاب کی تاریخ پر سوال اٹھا کر اس تعصب کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ یہ بیانیہ پتہ نہیں کس نے اور کب شروع کیا مگر مسلسل کہا جاتا ہے کہ پنجابی بزدل ہیں۔ پنجابی ہر حکمران کے سامنے سر جھکاتے رہے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر اس الزام سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی کہ قومیں ہارتی بھی ہیں جیتتی بھی ہیں ،بہادر بھی ہوتی ہیں اور کبھی بزدل بھی ہوجاتی ہیں۔ مثال کے طور پر کبھی برطانیہ کو رومیوں نے تاراج کیا اور کبھی جرمنی نے، برطانوی دربار فرانس سے اس قدر متاثر تھا کہ دربار میں فرانسیسی بولی جاتی تھی پھر دنیا نے یہ منظر بھی دیکھا کہ برطانوی سلطنت ، اتنی بڑی اور عظیم ہو گئی کہ اس میں سورج بھی غروب نہیں ہوتا تھا ۔پنجاب بھی کبھی پورس کی شکل میں سکندر اعظم سے نبرد آزما ہوا اور کبھی جے پال محمود غزنوی سے لڑا اور کبھی مہاراجہ رنجیت سنگھ اور ہری سنگھ نلوہ نے شہر کے شہر تاراج کیے۔

بزدلی کے طعنوں کا حقیقت میں جائزہ لیں تو گزشتہ 3سو سال میں سب سے بہادر سورما اور عقل مند لوگ پنجاب کے ثابت ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ 3صدیوں سے اس سارے خطے میں پنجاب کی بالا دستی قائم رہی ہے۔ دولت، بہادری اورعقل وہ تین اوصاف ہیں جو کسی قوم، قبیلے یا گروہ کو آگے لیکر جاتےہیں۔ 3 سو سال سے تو یہ تینوں اوصاف پنجاب کے پاس سب سے زیادہ ہیں۔ پنجاب کی Per Capita آمدنی سب سے زیادہ ہے، فوج میں سب سے زیادہ پنجابی ہیں اور چونکہ ان کی بالا دستی 3 صدیوں سے برقرار ہے اسلئے لازمی طور پر یہ نسبتاً عقل مند بھی ہونگے۔

میری خواہش ہے کہ باقی اقوام بھی یہی مقام حاصل کر لیں۔ مجھے ہمیشہ سندھ کے سیاستدان پسند رہے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے اپنی جانیں جس بہادری سے قربان کیں وہ میرے ہیرو ہیں۔ بلوچستان کے نواب اکبر بگٹی ہوں یا آج کی لیڈر شپ، مجھے ان کا بے حد احترام ہے مگر مسلسل پنجاب اور پنجابیوں کی تحقیر بین الاقوامی انسانی تقاضوں کے مطابق تعصب کہلاتی ہے۔ پاکستان ایک فیڈریشن ہے جس میں اکثریتی صوبہ پنجاب ہے قانون ،اصول اور تاریخ کے مطابق اپنی اکثریت کی وجہ سے پنجاب کا ملک بھر میں اثر اور طاقت سب سے زیادہ ہے، جہاں پنجاب چھوٹے صوبوں کا استحصال کرتا ہے میری رائےمیں اس کا فوری تدارک ہونا چاہیے ۔ مجھے اچکزئی صاحب اور ولی خان کی سیاست بھی بہت پسند ہے مگر پنجاب پر انکی تنقید بھی تحقیقی کی بجائے روایتی ہوتی ہے۔ پنجاب 75 سال سے ایک ہی طرح کے طعنے سن سن کر اس بارے میں حساس ہو چکا ہے اور اب عمومی رویہ اس تعصب کا اسی زبان میں جواب دینےکا ہو چلا ہے جو میرے خیال میں غلط ہے۔ صوبائی تعصب اور ایک دوسرے کوچھوٹا ثابت کرنا فیڈریشن کے لوگوں کا شیوہ نہیں ہوتا۔ ہمیں بلوچ روایات اور تاریخ کا احترام کرنا چاہیے اسی طرح بلوچ ،پٹھان اور سندھیوں پر پنجاب کی زبان، تاریخ اور ثقافت کا احترام کرنا واجب ہے ۔

جہاں تک چھوٹے صوبوں کو یہ اعتراض ہے کہ پنجابی عوام، پنجابی حکمرانوں کے شریک کار ہیں کیونکہ وہ اس استحصال کیخلاف آواز نہیں اٹھاتےتو حقیقت یہ ہے دنیا بھرکے حکمران کسی قوم قبیلے یا صوبےکے نہیں ہوتے، وہ مفادات کےبندے ہوتے ہیں، عام پنجابی عوام کسی کے استحصال میں نہ شریک ہیں اور نہ شریک ہونا چاہتےہیں۔ آج تک کسی بلوچ کاپنجاب میں بال بھی بیکا نہیں ہوا مگر بلوچستان میں عام غریب اور مزدور پنجابیوں کو موت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کیا بلوچ رہنمائوں کو سرعام اسکی مذمت نہیں کرنی چاہئے ۔مگر سب یا توڈر سے یا مصلحت کی وجہ سے خاموش ہیں۔

یہاں یہ اعتراف کرنا بھی ضروری ہے کہ پنجاب کے لوگوں نے خود بھی اپنی زبان سے محبت ،تاریخ سے آشنائی اور ثقافت سے وابستگی کا اس طرح اظہار نہیں کیا جیسا کہ کرنا فرض تھا پختونوں ، سندھیوں اور بلوچوں کو سلام کہ وہ جب بھی ملتے ہیں اپنی مادری زبان میں بات کرتے ہیں اپنی ثقافت اور تاریخ کے بارے میں مکمل آگاہی رکھتے ہیں لیکن پنجابیوں نے دنیاوی فائدے اور حب الوطنی کی خاطر اردو کو پنجابی پر اسقدر ترجیح دیدی کہ آنیوالے زمانے میں صوفیائے کرام کی زبان پنجابی کے معدوم ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے مرحوم امیر میاں طفیل محمد سمیت کئی پنجابی اپنی مادری زبان کو گالیوں کی زبان قرار دیتے ہیں حالانکہ گالیاں کس زبان میں نہیں ہوتیں؟ پنجابی صوفی شاعروں اور ہیر رانجھا،سوہنی مہینوال، مرزا صاحبان جیسے رومانوی قصوں نے پنجاب کو امن کا گہوارہ اور پیار کا خطہ بنانے کی بنیاد دی ہے۔سندھ کے اسکولوں میں سندھی، پختونخوا کے اسکولوں میں پشتو اور بلوچستان کے اسکولوں میں بلوچی پڑھائی جاتی ہے مگر پنجاب میں اس حوالے سے حساسیت کی شدید کمی ہے ۔یونانیوں نے یورپ سے آکر دریائے جہلم پر سکندر کی یادگار بنادی ہم پورس کا نام تک وہاں نہیں لکھ سکے۔احمد خان کھرل ایک عام قبرستان میں دفن ہے اور اسکے مخالف برکلے کی یاد گار اب بھی قائم ہے، تاریخ کا تقاضا ہے کہ سکندر کی یاد گار بنے تو پورس کی بھی بنے، برکلے کیساتھ ساتھ احمد خان کھرل کو بھی پنجاب سرکاری ہیرو مانے، نواب مظفر خان آف ملتان نے جس بہادری سے ملتان کا دفاع کیا اسے بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ انگریزوں کیخلاف آج کے پاکستان میں سب سے بڑی مزاحمت چیلیا ں والا میں مسلمانوں اور سکھوں نے ملکر کی۔ انگریزوں کی یاد گاریں اب بھی موجود ہیں نہ سردار شیر سنگھ اٹاریوالاکی کوئی علامت اور نہ پشاوری مسلمانوں کا کوئی نشان ہے۔

آخر میں عرض ہے کہ متعصب ہونا غلط، کسی کی تحقیر غلط لیکن پنجاب کو اپنی زبان ، تاریخ اور ثقافت سے محبت سےکون روک رہا ہے؟

تازہ ترین