شہری علاقوں میں رہنے والے مردوں میں موٹاپے اور میٹابولک سنڈروم کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
صحت سے متعلق بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ شہر میں رہنے والے مردوں میں زائد وزن اور موٹاپے کی شرح میں 9 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ شہری علاقوں میں تقریباً ہر 3 میں سے 1 مرد موٹاپے کا شکار ہے۔
ماہر امراض برائے ہارمونز کے مطابق موٹاپا صرف جسمانی وزن بڑھنے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ بلند فشارِ خون، ذیابیطس، کولیسٹرول کی خرابی، دل، جگر، گردوں اور دیگر سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پیٹ کے گرد چربی میٹابولک خرابی کی ابتدائی علامت ہوتی ہے اور صرف جسمانی وزن کے بجائے کمر کے حجم کی باقاعدہ جانچ بھی ضروری ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بیٹھ کر کام کرنا، غیر صحت بخش غذا، میٹھے مشروبات، ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی اس مسئلے کی بڑی وجوہات ہیں۔
ماہرین نے ہفتے میں کم از کم 150 منٹ ورزش، متوازن غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ طبی معائنے کو اس خطرے سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔