ہر سال یکم جولائی کوکینیڈااور دنیا بھر میں مقیم کینیڈین اپنے ملک کا قومی دن ’’کینیڈا ڈے‘‘ نہایت جوش و جذبے سے مناتے ہیں۔ گزشتہ ماہ مجھے اپنے ہونہار بیٹے کِرش وانکوانی کی گریجویشن تقریب میں شرکت کیلئے ٹورنٹوجانے کا موقع ملا، جہاں دنیا کی ممتاز جامعات میں شمار ہونے والی یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں تعلیم مکمل کرنے والوں کے اعزاز میں انکی کامیابیوں کا جشن منانے کیلئے والدین بھی مدعو تھے۔آج جب یکم جولائی کو کینیڈا ڈے منایا جارہا ہے تو ایک مرتبہ پھر میری نظروں کے سامنے یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے خوشگوار لمحات گھومنے لگے ہیں جہاں ہر طرف چمکتے دمکتے چہرے خوشیوں کا اظہار کرتےہوئے اپنے روشن مستقبل کیلئے پُرامید تھے، وہیں یونیورسٹی میں کینیڈا ڈے منانے کی تیاریاں بھی زوروں پر تھیں۔ آج یہ دن نہ صرف کینیڈا کی آزادی، خودمختاری اور ترقی کی علامت ہے بلکہ اتحاد، جمہوریت اور قومی یکجہتی کے عزم کا بھی اعادہ کرتا ہے۔ آج کینیڈا دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں شامل ہے، اقوام متحدہ ، جی سیون، جی ٹوئنٹی، نیٹو سمیت متعدد اہم عالمی اداروں کا فعال رکن ہے، کینیڈین چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈمز ہر شہری کو مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ نسل، رنگ، مذہب، زبان یا صنف کی بنیاد پر نفرت پھیلانے کی سخت ممانعت ہے۔کینیڈا کی جامعات ہر سال دنیا بھر سے ہزاروں باصلاحیت طلبہ کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں کہ ایک علم دوست معاشرہ کا فروغ روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ اپنے حالیہ دورے کے دوران سب سے زیادہ متاثر کن پہلو کینیڈین معاشرے کی برداشت، قانون کی پاسداری اور ایک دوسرے کیلئے احترام کا جذبہ تھا۔ ٹورنٹو کی سڑکوں، پارکوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور تعلیمی اداروں میں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ نہایت احترام اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارتے دکھائی دیے۔ کینیڈا کی قومی پرچم کی دہائیوں پر محیط جدوجہد یہ سبق بھی سکھاتی ہے کہ مضبوط قومیں اپنے قومی مقاصد کے حصول کیلئے مستقل مزاجی سے کام کرتی ہیں اور بالآخر کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے۔ میرے لیے اپنے بیٹے کِرش وانکوانی کے ہمراہ یونیورسٹی آف ٹورنٹو میں گزارے خوشگوار لمحات ایک والد کی خوشی کے ساتھ ساتھ ایک ایسے معاشرے کو قریب سے دیکھنے کا سنہری موقع بھی تھے جو اپنےسماج میں اختلافات کو تقسیم نہیں بلکہ اپنی طاقت سمجھتا ہے۔آج کینیڈا ڈے کے موقع پرامن کا یہی وہ آفاقی پیغام ہے جسے آج کی نفرتوں سے بھرپوردنیا میں سب سے زیادہ فروغ دینے کی ضرورت ہے۔