تائیوان کے ایک ماہر صحت نے کہا ہے کہ انڈے زیادہ انڈے کھانے یا انھیں کم پکانے سے ان کی غذائی افادیت کم ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ انڈے روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہیں لیکن روزانہ کتنے انڈے کھانے چاہئیں، یہ ایک اہم سوال ہے۔
تائیوان کے جنگ شینگ کلینک کے ڈائریکٹر چیو چینگ ہنگ نے میڈیا ادارے سے گفتگو میں کہا کہ بہت زیادہ انڈے کھانا یا انہیں غلط طریقے سے تیار کرنا ان کی غذائی افادیت کو کم کر سکتا ہے اور یہ خوراک میں زہر خورانی کے خطرے میں بھی اضافہ کر سکتا ہے۔
تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل 30 دن تک روزانہ تین انڈے کھانے سے خون میں نقصاندہ کولیسٹرول کی سطح بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں دل اور خون کی شریانوں کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2020 میں شائع ہونے والے 17 سائنسی تحقیقات کے ایک جامع تجزیے نے روزانہ تین انڈے کھانے کو دل کی بیماری کے خطرے سے منسلک قرار دیا۔
روزانہ صرف ایک انڈا کھانا چاہیے اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انڈے کی زردی میں موجود کولیسٹرول دل اور خون کی نالیوں کے نظام پر اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم ہر شخص کے جسم میں کولیسٹرول کو جذب کرنے اور اس کا میٹابولزم کرنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے انڈوں کی مناسب مقدار بھی ہر فرد کے لیے مختلف ہو سکتی ہے۔
چیو کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اپنے کولیسٹرول کی سطح جاننے کے لیے خون کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ زیادہ تر صحت مند بالغ افراد کے لیے ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح 130 ایم جی ڈی ایل سے کم ہونا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ سطح بالائی حد کے قریب ہو تو روزانہ دو سے زیادہ انڈے نہ کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کولیسٹرول کی سطح صحت مند حد میں ہو تو روزانہ تین سے چار انڈے کھانا تشویش کی بات نہیں ہے۔
اسکے علاوہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کچے انڈے زیادہ غذائیت بخش ہوتے ہیں، یا وہ کم ابلے ہوئے انڈوں کی ریشمی ساخت اور بہتی ہوئی زردی کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم، سائنسی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکمل طور پر پکے ہوئے انڈوں میں موجود پروٹین کے جذب ہونے کی شرح 90 فیصد سے زیادہ ہوتی ہے، جبکہ کچے انڈوں میں یہ شرح تقریباً 50 فیصد رہ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ کچے یا پوری طرح نہ پکے ہوئے انڈوں میں سالمونیلا بیکٹیریا کی آلودگی اور فوڈ پوائزننگ کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد، حاملہ خواتین، چھوٹے بچے اور بزرگ افراد کو خاص طور پر انڈوں کی ایسی شکلوں سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ معدے اور آنتوں کی سوزش یا سنگین بیماریوں سے بچا جا سکے۔
جہاں تک انڈے کے رولز، اسکرامبلڈ انڈوں (بھرجی) اور فرائیڈ انڈوں کا تعلق ہے، اگرچہ یہ اعلیٰ معیار کی پروٹین فراہم کرتے ہیں، لیکن انہیں پکانے کے عمل میں عموماً مکھن، کریم یا زیادہ مقدار میں تیل استعمال کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ان میں چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو نقصاندہ ہوسکتی ہے۔