کبھی پاکستان کے ہوائی اڈوں پر بیرونِ ملک سے آنے والوں کے استقبال کیلئے پھولوں کے ہار لیے خاندان کھڑے ہوتے تھے، اب انہی ہوائی اڈوں پر رخصت ہونے والوں کی آنکھوں میں نمی، والدین کے چہروں پر مسکراہٹ کی اوٹ میں چھپا درد، اور بہن بھائیوں کے دلوں میں ایک انجانا خوف دکھائی دیتا ہے۔ ماں بیٹے کو سینے سے لگاتی ہے مگر جانتی ہے کہ شاید اگلی ملاقات کئی برس بعد ہو۔ باپ بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دیتا ہے، مگر دل ہی دل میں ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ چھوٹے بہن بھائی سمجھ نہیں پاتے کہ آخر ایسا کیا ہے جو اپنے ہی وطن میں رہنے سے زیادہ پردیس کو بہتر بنا دیتا ہے۔یہ صرف میرے گھر کی کہانی نہیں، بلکہ لاکھوں پاکستانی خاندانوں کا مشترکہ دکھ ہے۔ چھوٹے بھائی ریحان کے پردیس چلے جانے کے بعد دل بہت اداس اور دکھی ہے۔ دل ودماغ میں باربار ایک ہی سوال اٹھتا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی تمام نعمتوںکے باوجود وہ پردیس کیوں چلا گیا؟ اگرچہ پاکستان سے نوجوانوں کی بیرونِ ملک ہجرت کوئی نئی بات نہیں، مگر گزشتہ چند برسوں میں اس رجحان نے غیر معمولی رفتار اختیار کی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2025 کے دوران تقریباً 7 لاکھ 62 ہزار پاکستانی روزگار کیلئے بیرونِ ملک گئے، جبکہ گزشتہ برسوں میں بھی لاکھوں افراد ملک چھوڑتے رہے۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 1971 سے اب تک ایک کروڑ سے زیادہ پاکستانی بیرونِ ملک روزگار کیلئے جا چکے ہیں۔یہ اعداد صرف نمبرز نہیں، بلکہ ان کے پیچھے لاکھوں خاندانوں کی کہانیاں، ٹوٹتے رشتے، ادھورے خواب اور وطن سے بچھڑنے کی اذیت چھپی ہوئی ہے۔سوال یہ نہیں کہ نوجوان بیرونِ ملک کیوں جا رہے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس وجہ سے اپنا وطن،والدین، اپنی مٹی، اپنی زبان اور اپنی پہچان چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں؟پاکستانی نوجوان کی پہلی خواہش آج بھی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں عزت کے ساتھ روزگار حاصل کرے، اپنے والدین کی خدمت کرے، اپنے بچوں کو دادا دادی کے سائے میں پروان چڑھتے دیکھے اور کامیابی کا سفر اپنی سرزمین پر طے کرے۔ مگر جب مہنگائی مسلسل بڑھتی جائے، تنخواہیں اخراجات کا ساتھ نہ دے سکیں، میرٹ پر سوال اٹھنے لگیں، معیاری تعلیم اور صحت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو جائیں اور مستقبل غیر یقینی محسوس ہونے لگے تو پھر ہجرت ایک خواہش نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کیلئے مجبوری بن جاتی ہے۔آج ایک متوسط طبقے کا سرکاری یا نجی ادارے کا ملازم اپنی پوری ایمانداری سے کام کرتا ہے، مگر مہینے کے آخر میں اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی تنخواہ بچوں کی تعلیم، گھر کے کرائے، بجلی، گیس، ادویات اور روزمرہ ضروریات کے سامنے بے بس ہے۔ جب محنت اور آمدنی کا توازن بگڑ جائے تو انسان صرف نوکری نہیں بدلتا، وہ ملک بدلنے کے بارے میں بھی سوچنے لگتا ہے۔اسی لیے آج ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، نرسیں، ہنر مند مزدور، الیکٹریشن، پلمبر اور یہاں تک کہ سرکاری ملازمین بھی بیرونِ ملک مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ یہ صرف برین ڈرین نہیں بلکہ ہوپ ڈرین بھی ہے، یعنی امیدوں کا ملک سے انخلا۔ دلچسپ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے یہی پاکستانی بعد میں اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیج کر ملکی معیشت کا سہارا بنتے ہیں۔2025 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے تقریباً 40 ارب ڈالر وطن بھیجے، جو پاکستان کیلئے زرمبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔مگر ایک لمحے کیلئے سوچئے، کیا کوئی بھی باپ صرف اس لیے اپنے بیٹے کو ہزاروں میل دور بھیجنا چاہے گا کہ وہ ڈالر کمائے؟ کیا کوئی ماں اپنی بیٹی کو صرف بہتر مستقبل کی خاطر اس ملک سے رخصت کرنا چاہے گی جہاں اسکی پیدائش ہوئی؟ یقینا ً نہیں۔ والدین کی پہلی خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان کی اولاد ان کی آنکھوں کے سامنے ترقی کرے۔ لیکن جب اپنے ہی وطن میں انہیں مستقبل دھندلا دکھائی دینے لگے تو دل پر پتھر رکھ کر پردیس کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔یہ ہجرت صرف معاشی نہیں، جذباتی بھی ہے۔ اس کی قیمت صرف ٹکٹ یا ویزا نہیں، بلکہ تنہائی، یادیں، عیدوں کی اداسی، والدین کی بڑھاپے میں جدائی اور بچوں کا دادا دادی سے دور ہو جانا بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اس انسانی سرمائے کو روکنے کیلئے وہ ماحول فراہم کر سکی ہے جس کا نوجوان حق دار ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ صرف نوجوانوں کا نہیں، بلکہ پورے نظام کا ہے۔یہ کہنا آسان ہے کہ پاکستانی نوجوان ڈالر کے لالچ میں وطن چھوڑ رہے ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی نوجوان ایسا ہو جو اپنی ماں کی دعائو ں، باپ کے سائے، بہن بھائیوں کی محبت، اپنے دوستوں، گلی محلوں اور بچپن کی یادوں کو چھوڑ کر اجنبی سرزمین پر نئی زندگی شروع کرنے کا خواب دیکھتا ہو۔ مگر جب حالات امید چھین لیں تو پھر انسان اپنے جذبات نہیں بلکہ اپنے بچوںکے مستقبل کا سوچتا ہے۔پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مہنگائی نے متوسط اور سفید پوش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ تنخواہوں میں معمولی اضافہ ہوا، لیکن آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس، پٹرول، کرایوں، ادویات اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات کئی گنا بڑھ گئے۔ لاکھوں خاندان ایسے ہیں جہاں مہینے کی آمدنی صرف بلوں اور بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں بچت، گھر خریدنے، کاروبار شروع کرنے یا بچوں کے مستقبل کیلئے سرمایہ جمع کرنا ایک خواب بن جاتا ہے۔اسی وجہ سے آج ایک ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہر، استاد یا نرس جب دیکھتا ہے کہ خلیجی ممالک، یورپ، برطانیہ، کینیڈا یا آسٹریلیا میں اس کی صلاحیت کی کئی گنا زیادہ قدر کی جا رہی ہے تو وہ مشکل مگر عملی فیصلہ کرتا ہے۔