پوری دنیا خصوصاً پاکستان آج جن اندرونی اور بیرونی مشکلات کا شکار ہے اس کی جڑیں نام نہاد افغان جہاد کے ساتھ جڑی ہیں جس میں اس قوم کو دھکیلنے والا ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق تھا۔یہ افغان جہاد ہی تھا جس نے دنیا کےدو طاقتی نظام کو ختم کر کے امریکہ کو دنیا کی واحد سپر پاور بنا دیا جس نے ا پنے نیو ورلڈ آرڈر کے تحت پوری دنیا میں جنگ و جدل اور سازشوں کا ایک نیا دور شروع کر دیا۔دنیا کی دوسری سپر پاورسوویت یونین کی وجہ سے طاقت کا ایک توازن بنا ہوا تھا جس میں دنیا زیادہ محفوظ تھی سوویت یونین کے زوال کے فوراً بعد عراق نے کویت پر اور امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا یہاں سے اس افرا تفری کا آغاز ہوا جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کے اندر حکومتوں کے تختے الٹ دیے اور ہر طرف بد امنی کا دور شروع ہو گیا ۔ایران امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جنگ بھی اُسی سلسلے کا ایک حصہ ہے۔جس نے جنرل ضیا کے شروع کیے ہوئے نام نہاد افغان جہاد سے جنم لیا۔اس وقت پوری دنیا امریکی اور اسرائیلی غنڈہ گردی کا شکار ہے جسکے خلاف اب یورپ اور امریکہ میں بھی کئی تحریکیں جنم لے رہی ہیں ۔ افغان جہاد نے پاکستان کو بھی جس برے طریقے سے نقصان پہنچایا وہ ناقابل بیان ہےنظریاتی تصادم میں لاکھوں پاکستانیوں کی جانیں گئیں ہماری معیشت تباہ ہوئی اور ہم دنیا میں یک و تنہا رہ گئے اور اب طالبان بھی ہمارے خون کے پیاسے ہیں جنہیں ہم اپنی مغربی سرحدوں کے محافظ سمجھتے تھے۔ اس ساری بربادی کا واحد ذمہ دار جنرل ضیاء الحق ہے جس نے امریکی مفادات کی جنگ کو اسلامی جہاد قراردیا اور ہمیں اس آگ میں جھونک دیا۔ برسوں کے پر آشوب دور کے بعد عظیم بھٹو کی قیادت میں مستحکم ہوتے ہوئے جمہوری پاکستان پر ایسا کاری وار کیا کہ پاکستان سنبھلتے سنبھلتے اس طرح لڑکھڑا کر گر پڑا کہ ابھی تک اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو سکا ۔ ہر آنیوالا دن پاکستان کو تاریک راہوں میں مزید آگے کی طرف دھکیل رہا ہے جس کا تعین جنرل ضیا کے 11 سالہ دور استبداد نے کیا تھا ۔عالمی سامراج نے 74 میں ہونیوالی اسلامی سربراہ کانفرنس کی کامیابی، امتِ مسلمہ کے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور تیل کے ہتھیار کو سامراج کے خلاف استعمال ہونے کے بعد یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ طاقت کے نئے محور تشکیل دینے کی کوششیں کرنیوالے بھٹو اور شاہ فیصل کو راستے سے ہٹا کر دم لے گا۔ پاکستان اور اسلامی دنیا کو ایٹمی طاقت بنانے کے خواب دیکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو کو جب امریکی یہودی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے عبرت ناک مثال بنانے کی دھمکی دی تھی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ بھٹو کا قاتل ایک ایسا شخص ہوگا جو خود کو کٹر مسلمان اور بھٹو کو مسلمانوں کا نجات دہندہ سمجھتا تھا ۔ پانچ جولائی 1977 کی منحوس رات کو عوام کے اقتدار اعلیٰ پر شب خون مارنے والے ضیا نے 11 سال تک کانٹوں کی جو فصل بوئی اسے نصف صدی سے کاٹتے کاٹتے پوری قوم لہو لہان ہو چکی ہے۔ضیا کا نظریہ جھوٹ ،انتقام، چوراہوں پر کوڑے مارنے، سرعام پھانسی دینے، ہیروئن فروشی اور بہیمانہ تشدد کا دوسرا نام ثابت ہوا ۔جبکہ پاکستان کی سربلندی یوں ہوئی کہ جو جمہوریت کیلئے آواز بلند کرے اس کا گلا کاٹ دیا جائے جو انسانی حقوق اور عزت نفس کیلئے سر اٹھائے اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے آئین کوبارہ صفحات کی کتاب کہہ کر اس کی توہین کی جائے ۔سیاست دانوں کو کتے قرار دیا جائے۔ سیاست کو کرپشن کے داغوں سے داغدار کر دیا جائے تاکہ عوام عوامی نمائندگی کے تصور سے ہی نفرت کرنے لگیں۔ عوام کے حقیقی نمائندوں کو جیل جلاوطنی یا موت کے حوالے کر دیا جائے اور ایسے روبوٹ سیاستدان تیار کیے جائیں جن کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں رہے۔ اگرچہ پاکستان کو فوجی آمریت کے پہلے صدمے سے دوچار کرنیوالاجنرل ایوب خان تھا جسکی بوئی ہوئی نفرت نے علیحدگی کی فصل اگائی تھی لیکن مشرقی پاکستان کی المناک علیحدگی نے جنرل یحییٰ خان کے مزید اقتدار کو ناممکن بنا دیا تھا چنانچہ اس وقت کی اشرافیہ نے وقتی طور پر پسپائی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک مصلحت کے تحت اقتدار جناب بھٹو کے حوالے کردیا۔تاہم ضیا کی رسوائے عالم 58 ٹو بی آئینی ترمیم نے ایک بھی حکومت کو اس کی میعاد پوری کرنے نہیں دی۔آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں وہاں ماضی کی تلخیوں کو یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے لیے تجدیدِ عہد کرنے کی ضرورت بھی ہے کیونکہ پاکستان جیسے وہ ممالک جن کے جغرافیائی سرحدیں انتہائی حساس نوعیت کی ہیں وہ بار بار مارشل لاجیسے صدمے برداشت نہیں کر سکتیں۔ ہمیں یہ یقین کر لینا چاہیے کہ مارشل لا کے قبرستان جیسے سکوت سے جمہوری شورو غوغا بدرجہا بہتر ہے اگرچہ جمہوریت کے ابتدائی مراحل میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے جو ناگوار گزرتا ہے لیکن یہ ایک فطری عمل ہے کیونکہ ہر دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں سنجیدگی کا پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے اور جو قومیں برسوں کے جمہوری عمل کے بعد ایک مثبت جمہوری کلچر کے دور میں داخل ہو جاتی ہیں وہاں نہ صرف ان کا وجود مستحکم ہو جاتاہے بلکہ ان کی ترقی کی رفتار بھی تیز ہو جاتی ہے ہمیں ہر سطح اور ہر قیمت پر جمہوریت کے عمل کو جاری رکھنا چاہیے کیونکہ پانچ جولائی کی ہلاکت آفرینیوں سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ جمہوری عمل کو مستحکم کیا جائے۔