میں نے گزشتہ سال گرین اکانومی، گرین انڈسٹریز اور گرین فنانسنگ پر کالم تحریر کیا تھا لیکن اب کئی برسوں سے بلیو اکانومی نے جنم لیا ہے اور دنیا بھر میں بلیو اکانومی پر سیمینارز اور کانفرنسز منعقد کی جارہی ہیں۔ بحریہ یونیورسٹی نے بھی اپنے میری ٹائم سائنس ڈگری پروگرامز میں بلیو اکانومی پر کورسز متعارف کرائے ہیں تاکہ بلیو اکانومی پر اہل نوجوان دستیاب ہوسکیں۔ اللّٰہ تعالیٰ نے پاکستان کو 5بڑے دریائوں، دنیا کے بڑے نہری نظام اور بے پناہ آبی وسائل سے نوازا ہے۔ بلیو اکانومی ان آبی وسائل کا موثر استعمال ہے۔ یہ ایک جدید معاشی ماڈل ہے جس میں معاشی ترقی کیلئے سمندری حدود میں موجود قدرتی آبی وسائل اور اس سے وابستہ معیشت کو بلیو اکانومی کا نام دیا گیا ہے جس میں تیل اور گیس کے ذخائر کیلئے آف شور ڈرلنگ، سی فوڈ، فشریز، ماہی گیری، شپنگ، سیاحت، ساحلی ہوائوں سے ونڈ اور شمسی توانائی پیدا کرنا، ایکوا کلچر، زیر آب معدنیات، قیمتی موتی، پتھر اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے کیلئے ڈی سیلی نیشن پلانٹس شامل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بحری راستے سے 80فیصد عالمی تجارت ہوتی ہے جبکہ پاکستان کی 70فیصد سے زائد تجارت سمندری راستے سے ہوتی ہے۔ پاکستان کی ساحلی پٹی 1046 کلومیٹر پر محیط ہے، ملک میں 3 بندرگاہیں کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ موجود ہیں۔ گوادر پورٹ سے خطے کا اہم ترین منصوبہ سی پیک منسلک ہے۔ سندھ اور بلوچستان کی ساحلی پٹی قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔ سندھ میں 280کلومیٹر اور بلوچستان میں 800کلومیٹر طویل ساحل ہے۔ کراچی میں ہاکس بے، پیراڈائز پوائنٹ، سینڈزپٹ اور فرنچ بیچ خوبصورت ساحلی مقامات ہیں۔ سومیانی میں دنیا کا سب سے بڑا شپ بریکنگ یارڈ قائم ہے۔ دنیا کی بلیو اکانومی کا سائز 24000 ارب ڈالر لگایا گیا ہے لیکن پاکستان کی میری ٹائم سیکٹر سے حاصل ہونیوالی آمدنی صرف 450ملین ڈالر ہے جبکہ بھارت کی 5.6ارب ڈالر اور بنگلہ دیش کی 6ارب ڈالر سالانہ ہے۔ پاکستان میں دنیا کی اعلیٰ قسم کی مچھلیاں لافسٹر اور ٹونا فش پائی جاتی ہیں لیکن ہماری سی فوڈ کا ایکسپورٹ بمشکل 500ملین ڈالر سالانہ ہے۔ فش ہاربر پر حفظان صحت کے اصولوں پر سی فوڈ کی پروسیسنگ نہ کرنے کی وجہ سے یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے پاکستان سے سی فوڈ ایکسپورٹ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ہمیں اپنے فشنگ ٹریلرز کو بھی جدید سہولتوں اور حفظان صحت کے معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔پاکستان اپنے اہم محل وقوع کی بدولت بلیو اکانومی سے بہت اچھی طرح مستفید ہوسکتا ہے۔ بحیرہ عرب میں پاکستان کا خصوصی بحری زون 240000 اسکوائر کلومیٹر پر محیط ہے جس میں اقوام متحدہ کی جانب سے 50000کلومیٹر مزید اضافہ کیا گیا ہے۔ اس معاشی زون کے تین حصے ہیں۔ پہلا حصہ سندھ سے متصل سمندر میں ’’انڈس آف شور‘‘ ہے جس کے ساحل کی لمبائی 270کلومیٹر ہے۔ دوسرا بلوچستان سے متصل سمندر میں’’ مکران آف شور‘‘ کی لمبائی 720کلومیٹر اور تیسرا بحیرہ عرب اور بحیرہ ہند کے درمیان ’’مرے راج‘‘ معاشی زون ہے جس میں معدنیات، تیل اور گیس کے ذخائر، مچھلیاں، جھینگے اور دیگر قدرتی وسائل موجود ہیں۔ پاکستان کا 1100کلومیٹر طویل ساحل بھارت اور ایران تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق پاکستان کی بلیو اکانومی کا ملکی جی ڈی پی میں 3سے 5فیصد حصہ ہے جس کی مالیت 8سے 15ارب ڈالر بنتی ہے۔ بلیو اکانومی ملک میں 10لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کرتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 2035ء تک یہ 50ارب ڈالر سالانہ تک ہو جائیگی اور ملکی معیشت کا سب سے بڑا سیکٹر بن جائیگا۔ پاکستان نے جولائی 2025ء میں بندرگاہوں اور بلیو اکانومی کے فروغ کیلئےنیشنل میری ٹائم پالیسی (NMP) کا اعلان کیا تھا۔ اسکے علاوہ حکومت نے سی فوڈ ایکسپورٹ کے فروغ کیلئے 10سالہ (2025-35ء) نیشنل فشریز اور ایکواکلچر پالیسی کا اعلان کیا ہے جبکہ میری ٹائم وزارت نے بلیو اکانومی کے فروغ کیلئے سی پیک اور گوادر کو خطے میں اہم تجارتی مرکز بنانے، شپنگ فلیٹ کی توسیع اور شپ بریکنگ انڈسٹری کے فروغ کیلئے میری ٹائم ویژن 100کا اعلان کیا۔ پاکستان کی بلیو اکانومی کا ملکی معیشت میں بہت کم حصہ ہے تاہم نیشنل میری ٹائم پالیسی، فشریز پالیسی اور میری ٹائم ویژن 100پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کرکے ہم بلیو اکانومی کو پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون بناسکتے ہیں جس سے نہ صرف ملکی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ اتنے زیادہ قدرتی آبی وسائل میسر ہونے کے باوجود ہم بلیو اکانومی سے جائز استفادہ نہیں کرسکے۔