لاہور (آصف محمود بٹ)پاکستان کا تعلیمی بحران، سروسز اکیڈمی کی پالیسی رپورٹ کے مطابق ڈھائی کروڑ بچے دہائیوں سے اسکول سے باہر، سول ایجوکیشن ایمرجنسی بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، ناکافی فنڈنگ، غیر مربوط نظام اور کمزور طرز حکمرانی بحران کی بنیادی وجوہ، تعلیمی گورننس میں انقلابی اصلاحات مربوط ڈیٹا سسٹم اور پائیدار مالیاتی وسائل کی فراہمی کی سفارش کی گئی ہے، پروفیسر فیصل باری کا کہنا ہے کہ اسکولوں، سہولتوں اور اساتذہ کی کمی کے باعث بچے تعلیم سے محروم ہیں، اقوام متحدہ کہتی ہے جی ڈی پی کا 4فیصد تعلیم پر خرچ کرو ہم 1.7فیصد خرچ کرتے ہیں وہ بھی اب ایک فیصد پہ اگیا، ایجوکیشن ایمرجنسی کا اعلان تو کرتے ہیں مگر اس کے مطابق عمل نہیں کرتے،ڈاکٹر عبدالحمید نے کہا اسکول سے باہر بچوں کی تعداد بڑی تشویشناک ہے، بنیادی وجوہ غربت، صنفی امتیاز، تعلیم کے بارے میں منفی سماجی رویے اور تعلیمی اداروں کا گھر سے دور ہونا ہے۔ اس حوالے محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب کے ایک اعلی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر "جنگ" کو بتایا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے کے لئے متعدد پروگرام شروع کئے جن میں بچوں کے لئے اسکولوں میں فری کھانے کی فراہمی، ہزاروں کم پرفارمنس والے اسکولوں کو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ذریعے آؤٹ سورس کرنا، 100 ٹیکنالوجی بیسڈ کے لئے لرننگ سنٹر قائم کرنا، نواز شریف اسکول آف ایمیننس کا قیام اور پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے ذریعے اسکولوں کی سبسڈی میں اضافہ شامل ہے۔ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے اعلی افسر کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اسکولوں 8لاکھ نئے طالبعلموں کی انرولمنٹٖ ہوئی ہے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کی کوششیں بدستور گہرے ساختی مسائل، مسلسل مالی کمزوری، غیر مربوط انتظامی ڈھانچے، ناقص گورننس اور صوبوں کی غیر مساوی استعداد کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔یہ انکشاف سول سروسز اکیڈمی (CSA) کی جانب سے تیار کی گئی ایک جامع تقابلی پالیسی جائزہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تمام صوبوں نے قومی تعلیمی ایکشن پلان (NEAP) 2026 کے تحت پرعزم تعلیمی روڈ میپس مرتب کیے ہیں، تاہم اصل مسئلہ پالیسی سازی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد ہے۔ پاکستان کو درپیش موجودہ تعلیمی بحران وقتی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (PIE) کے مطابق اسکول سے باہر بچوں سے متعلق دستیاب تاریخی اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ غربت، تیز رفتار آبادی میں اضافہ، کمزور حکمرانی اور تعلیم پر مسلسل کم سرمایہ کاری نے ہر گزرتے برس کے ساتھ بحران کو مزید سنگین بنایا۔ رپورٹ کے مطابق 1990ء کی دہائی سے لے کر 2010ء کی دہائی تک اسکول سے باہر بچوں کی نگرانی کی ذمہ داری اکیڈمی آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ مینجمنٹ (AEPAM) کے پاس رہی، تاہم اس پورے عرصے میں لاکھوں بچے تعلیمی نظام سے باہر رہے کیونکہ سرکاری تعلیمی انفراسٹرکچر آبادی میں اضافے کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکا، جس کے نتیجے میں کم لاگت نجی تعلیمی اداروں کا دائرہ مسلسل بڑھتا گیا۔پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کیمپس میں قائم پانچ پالیسی اینالیسز گروپس کی تیار کردہ اس رپورٹ میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی تعلیمی پالیسیوں کا مؤثریت، کارکردگی، مساوات، اخلاقیات اور قابلِ عمل ہونے کے پیمانوں پر تجزیہ کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ کے درمیان ہے، جس کے باعث آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت مفت اور لازمی تعلیم کی آئینی ضمانت کے باوجود پاکستان دنیا میں تعلیمی محرومی کا دوسرا بڑا بوجھ اٹھانے والے ممالک میں شامل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 8 مئی 2024 کو قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان سے سیاسی سطح پر غیر معمولی توجہ ضرور حاصل ہوئی، تاہم ہر صوبے کو مختلف نوعیت کے ساختی مسائل کا سامنا ہے، اس لیے یکساں قومی حکمت عملی سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔جائزے کے مطابق پنجاب کا بنیادی مسئلہ اسکول سے باہر بچوں کی بہت بڑی تعداد ہے، سندھ پرائمری تعلیم کے بعد تعلیمی نظام کے انہدام اور موسمیاتی آفات سے دوچار ہے، خیبرپختونخوا میں شورش، دشوار گزار جغرافیہ اور خواتین اساتذہ کی کمی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، بلوچستان کمزور اداروں، وسیع فاصلے اور غیر فعال اسکولوں کے باعث شدید بحران کا شکار ہے، جبکہ وفاقی علاقوں میں نسبتاً بہتر مجموعی اندراج کے باوجود اندرونی عدم مساوات موجود ہے۔رپورٹ میں پنجاب کو ملک کا سب سے بڑا تعلیمی بوجھ اٹھانے والا صوبہ قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہاں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے ایک کروڑ 4 لاکھ کے درمیان ہے۔ پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی 2026 کی بنیادی رپورٹ کے مطابق 64 لاکھ بچوں نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا جبکہ مزید 31 لاکھ 60 ہزار بچے تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف داخلے کا نہیں بلکہ بچوں کو نظامِ تعلیم میں برقرار رکھنا بھی بڑا چیلنج ہے۔