دنیا کے تمام ممالک اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اپنی تجارتی اور معاشی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں اور بدلتے ہوئے عالمی حالات کے مطابق اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات کو فروغ دیتے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان کو بھی اپنی معاشی مشکلات سے نکلنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنےکیلئے حقیقت پسندانہ اور قومی مفاد پر مبنی پالیسیاں اختیار کرنا ہوں گی۔ حکومت محض بیانات اور اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کرے اور ایران کیساتھ تجارتی معاہدوں کی تکمیل کو یقینی بنائے۔ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو بھی مہنگائی کے بوجھ سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔ اس وقت ایران سے پٹرولیم مصنوعات ،گیس سمیت دیگر ضروری تجارتی اشیا کی خرید و فروخت کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی کیساتھ اس جانب پیش رفت کرے تو توانائی کے شعبے میں اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔ قومی مفاد کے معاملات میں سیاسی مصلحتوں اور غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا جانا چاہیے المیہ یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ بجلی، گیس، پٹرول اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافےنے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ دوسری جانب دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں بھی پاکستان کا چوتھا نمبر آنا تشویشناک امر ہے۔ عالمی شہرت یافتہ ادارے ”ہینلے اینڈ پارٹنرز“ کی جانب سے پاسپورٹ انڈیکس پر پاکستان کے پاسپورٹ کا کمزور ترین پاسپورٹس میں شمار ہونا ہمارے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں، سیاسی عدم استحکام اور معاشی کمزوریوں کا واضح ثبوت ہے۔ ہینلے پاسپورٹ انڈیکس میں پاکستانی پاسپورٹ کا 100 ویں نمبر پر آنا لمحہ فکریہ ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ آج بنگلہ دیش اور ایران جیسے ممالک بھی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں، جبکہ پاکستانی شہری صرف 30 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن آرائیول کی سہولت کیساتھ سفر کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال دنیا میں پاکستانی شہریوں کے وقار اور عالمی سطح پر ملک کے مقام و مرتبے کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستانی پاسپورٹ کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، مگر بدقسمتی سے کرپشن، بدانتظامی، معاشی بحران، کمزور سفارتی حکمت عملی اور عالمی سطح پر غیر مؤثر نمائندگی کے باعث پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ہماری ماضی کی حکومتوں نے بھی قومی وقار کی بحالی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کئے جسکے نتیجے میں آج پاکستانی شہریوں کو دنیا کے مختلف ممالک میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مسلسل دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار پانیوالے سنگاپور کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس نے مضبوط معیشت، شفاف طرز حکمرانی، مؤثر خارجہ پالیسی اور عالمی اعتماد کی بنیاد پر اپنے شہریوں کیلئے دنیا کے بیشتر ممالک کے دروازے کھول دیے ہیں۔ پاکستان کو بھی اسی طرز پر اپنی خارجہ، معاشی اور داخلی پالیسیوں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ قومی وقار کی بحالی، معیشت کے استحکام، گڈ گورننس، کرپشن کے خاتمے اور مؤثر سفارتی روابط کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی بہتر ہو اور پاکستانی شہری دنیا بھر میں عزت، وقار اور اعتماد کیساتھ سفر کر سکیں۔ ملکی مسائل کے ساتھ ساتھ چند روز قبل لاہور میں ہونیوالے واقعے نے بھی ہر دردمند پاکستانی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لاہور کے علاقے کاہنہ میں بالائی منزل پر جاری تعمیراتی کام کے دوران ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کا حالیہ المناک حادثہ انتہائی دلخراش اور تکلیف دہ ہے۔ اس سانحے میں معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع ناقابل تلافی ہے اور متاثرہ خاندانوں کا دکھ کسی صورت الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹیوشن سینٹر کی عمارت میں تعمیراتی کام جاری تھا، جسکے باعث چھت گرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ اس حادثے کے نتیجے میں 14 معصوم بچے شہید جبکہ متعدد بچے زخمی ہوئے ہیں۔ معصوم ، پھول سے بچوں کا اس طرح اچانک دنیا سے رخصت ہو جانا ہر درد مند دل کو غمزدہ کر دینے کیلئے کافی ہے۔ اس افسوس ناک واقعے میں جن خاندانوں نے اپنے لخت جگر کھوئے ہیں، انکے غم میں پوری قوم برابر کی شریک ہے۔ پنجاب سمیت ملک کا ہر دردمند شہری شہید بچوں کے درجات کی بلندی، لواحقین کیلئے صبر جمیل اور زخمی بچوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کیلئے دعا گو ہے ۔ لاہور کے عوامی اور سماجی حلقوں نے حکومت پنجاب اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہےکہ واقعے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اس سانحے کے ذمہ دار عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ محض رسمی اور روایتی کارروائیوں سے ایسے حادثات کی روک تھام ممکن نہیں ۔ اسلئے اس واقعہ میں مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کرنیوالے تمام افراد اور اداروں کیخلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جانی چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی اداروں، ٹیوشن سینٹرز اور دیگر عوامی مقامات پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا حکومت اور متعلقہ محکموں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عمارتوں کی تعمیر، مرمت اور توسیعی کام کے دوران حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرنا انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے بھر میں اسکولوں، اکیڈمیوں اور ٹیوشن سینٹرز کی عمارتوں کا فوری سروے کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔