• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’ ہم نہ ہوتے توآپ آج فرانسیسی بول رہے ہوتے‘‘۔ برطانیہ کے شاہ چارلس سوم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے یہ جملہ کہا تو محفل زعفران زار ہوگئی ۔بے ساختہ بلند ہوتے قہقہوں اور تالیوں کی گونج میں صدر ٹرمپ کا حصہ بھی شامل تھا۔ مقام وائٹ ہائوس واشنگٹن اور موقع شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا کے اعزاز میں دئیے گئے ریاستی عشایئےکا تھا۔ شاہی جوڑا 27اپریل 2026ء کو چار روزہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچاتھا۔28اپریل کو وائٹ ہاؤس میں ’’اسٹیٹ ڈنر‘‘ کے دوران کہے گئے اس فقرے کو مبصرین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سے زائد بار کہے گئے اس جملے کے لطیف جواب کے طور پر دیکھا جس میں وہ یورپی ملکوں کو ہلکے پھلکے انداز میں پیغام دے رہے تھے کہ نیٹو اور دفاع کے مشترکہ معاملات میں امریکہ کا تاحال جاری حصہ غیر معمولی ہے۔صدر ٹرمپ کی زبان سے پہلی بار ادا ہوتے ہی شہرت پانے والا جملہ یہ تھا:’’ اگر امریکہ نہ ہوتا تو آج یورپ والے جرمن بول رہے ہوتے‘‘۔ ٹرمپ اپنی کاروباری شہرت اور ٹریڈ ڈپلومیسی پر ناز کرتے ہیں جبکہ سوشل میڈیا یا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر سنجیدہ بیانات کیساتھ ساتھ دلچسپ جملے اور کارٹون وغیرہ بھی پوسٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ انکی لکھی ہوئی کتابوں میں ایسی کتابوں کی تعداد اور شہرت زیادہ ہے جو کاروبار کے مختلف پہلوئوں سے متعلق ہیں جبکہ انکی میزبانی میں برسوں مقبولیت کے جھنڈے گاڑنے والا ٹی وی رئیلیٹی شو بھی تجارتی امور سے متعلق ہوتا تھا۔ یہ تعارف اس ٹرمپ کے حوالے سے ضروری معلوم ہوتا ہے جسکا دعویٰ ہے کہ اس نے پچھلے برس(مئی2025ء) کی چارروزہ پاک بھارت جنگ میں ثالثی کرتے ہوئے تجارت کا’’ اِمرت دھارا‘‘ استعمال کیا اور جنگ رکوادی۔ (’’امرت دھارا‘‘ پچھلی صدی میں اس دوا کو کہا جاتا تھا جو ہر مرض کے علاج کیلئے کارگر ہوتی ہو)۔ دعوے کے بموجب صدر ڈونلڈ ٹرمپ دیگر سات جنگیں بھی اسی نسخے کے ذریعے رکواچکے ہیں۔ پچھلے دنوں انہیں یورپی اتحادیوں سے کچھ شکایتیں رہیں تو انہیں لطیف انداز میں یہ جتانا شاید ضروری محسوس ہوا کہ ’’امریکہ نہ ہوتا تو یورپ والے جرمن بول رہے ہوتے‘‘۔ ٹرمپ دوسری جنگ عظیم کی صورتحال کی ایک خاص کیفیت یاد دلانے کیساتھ لین دین کے اس پہلو کی طرف بھی متوجہ کررہے ہیں جو کئی معاملات میں انکا خصوصی موضوع ہے ۔امریکی صدریاد دلارہے ہیں کہ جب نازی جرمنی نے پورے یورپ کوزیر نگیں لانے کے منصوبے اور بھرپور تیاری کیساتھ جنگ کی بساط پھیلائی تو براعظم سنگین جدوجہد کی کیفیت سے گزر رہاتھا۔ ایسے وقت میں واشنگٹن کی اس جنگ میں بھرپور وسائل کیساتھ شمولیت نے اتحادی قوتوں کا پلڑا بھاری کردیا۔ امریکی صدر کا جملہ دعویٰ کرتا محسوس ہورہا ہے کہ جدید یورپ کی صورت گری صرف یورپ کاکمال نہیں، امریکہ کا بھی اس میں قابل ذکر کردار ہے۔ وہ جتا رہے ہیں کہ واشنگٹن نے یورپ کی سلامتی کیلئے جنگ عظیم دوم کے دوران اور بعد میں بھی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے، انکا موقف ہے کہ اب اپنی دفاعی صلاحیت اور نیٹو( معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم) کے اخراجات میں یورپ کو موثر حصہ دار ہونا چاہئے۔ اس موقف اور دلیل کو وہ مختلف انداز میں دہراتے رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی خصوصی ضیافت میں جب شاہ چارلس سوم نے مذکورہ جملے کا بالکل اسی انداز میں جواب دیا تو حاضرین کیساتھ امریکی صدر نے بھی اسکی داد دی بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پر دونوں رہنماؤں کی تصویر کیساتھTwo Kingلکھ کر علامتی اور تحسینی انداز میں دونوں شخصیات کی اہمیت اور باہمی احترام کو نمایاں کیا۔ اسی دورے میں شاہ چارلس نے امریکی پارلیمنٹ (کانگریس) سے خطاب کیا تو نیٹو اور باہمی اتحاد کے حوالے سے انکی گفتگو کو سراہتے ہوئے ارکانِ مقننہ نے تقریباً12 دفعہ کھڑے ہوکر اور تالیاں بجاکر توثیق واحترام کا اظہار کیا ۔شاہ چارلس نے اسٹیٹ ڈنر میں جو جملہ کہا، اسے سمجھنے کیلئے اٹھارہویں صدی کی طرف جانا ضروری ہے جب اس وقت کی بڑی نوآبادیاتی طاقتوں میں مقبوضات بڑھانے کی کشمکش امریکہ سے انڈیا تک مختلف زمینوں اور سمندروں میں جاری تھی۔ شمالی امریکہ ان دونوں کے درمیان اہم میدان تھا جہاں زمین تجارت اور اثرورسوخ کیلئے مقابلہ جاری تھا۔ یورپ سے نکل کر شمالی افریقہ، ہندوستان، کیریبین اور افریقہ کی زمینوں اور سمندروں میں لڑی گئی سات سالہ جنگ 1755-1762))کو مورخین حقیقی پہلی جنگ عظیم کہتے ہیں۔ برطانیہ کی فیصلہ کن فتح کی صورت میں ختم ہونیوالی اس جنگ کے بعد شمالی امریکہ میں فرانسیسی اثرکم ہوا اور برطانوی قبضے نے انگریزی کے پھیلاؤ میں کردار ادا کیا۔ اس لحاظ سے شاہ چارلس کا مطلب یہ تھا کہ اگر برطانیہ نے فرانس کو شکست دیکر کینیڈا اور شمالی امریکہ کے وسیع علاقوں پر قبضہ نہ کیا ہوتا تو وہ برطانوی نوآبادیاں مضبوط نہ ہوتیں جن سے بعد میں امریکہ وجود میں آیا۔ بعد میں اسی برطانوی غلبے نے ایسے حالات پیدا کئے کہ امریکی نو آبادیات میں بے چینی بڑھی۔ 1775سے1783تک جاری آٹھ سالہ جدوجہد پیرس معاہدے کی صورت میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی اور فریقین کے تعلقات بھی اس طرح استوار ہوئے کہ ادارہ جاتی ڈھانچے برقرار رہے اور انگریزی زبان غالب رہی ۔ امریکی جنگ آزادی میں فرانس کی بھرپورمدد کے باعث ایک اورمورخانہ جملہ مسکراتا ہوا سامنے آگیا’’ برطانیہ نہ ہوتا تو امریکی فرانسیسی بول رہے ہوتے اور فرانس نہ ہوتا تو امریکہ آزاد ہی نہ ہوتا‘‘۔

اس وقت کی صورتحال یہ ہے کہ انگریزی انگلستان کی زبان ہونے کیساتھ ساتھ تلفظ کے معمولی فرق سے امریکہ کی بھی زبان ہے جبکہ برطانوی نوآبادیات اور بعدازاں امریکی طاقت کے اثرات نے اسےعالمی رابطے کی زبان بنادیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے انگریزی کا عالمی غلبہ صرف برطانوی سلطنت کی وجہ سے نہیں، امریکی طاقت کی وجہ سے بھی ہوا۔ اسی لئے آج کی عالمی انگریزی برطانیہ اور امریکہ دونوں کا ورثہ ہے۔صدر ٹرمپ اورشاہ چارلس کے جملےبظاہر حس مزاح کا اظہار تھے مگر انکے پس منظر میں تاریخ کا ایک بڑا سبق پوشیدہ ہے:جنگیں صرف سرحدوں کا نقشہ نہیں بدلتیں۔زبانیں بدل دیتی ہیں، تہذیبوں کارخ موڑ دیتی ہیں، قوموں کی شناخت تشکیل دے دیتی اور آنیوالی نسلوں کی تقدیر بھی رقم کردیتی ہیں۔

تازہ ترین