پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ دانشور اور لکھاری ایسے گزرے ہیں جنکی اصل شناخت انکے عہد سے نہیں بلکہ انکے افکار کی دائمی معنویت سے ہوتی ہے، جو خود تاریخ کا حوالہ بن جاتے ہیں کہ انکی فکر وقت کی قید سے آزاد ہو کر آنیوالی نسلوں کی رہنمائی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حریت فکر کے علمبردار اور معروف ترقی پسند لکھاری پروفیسر وارث میر بھی ان گنے چنے دانشوروں میں شامل تھے جنہوں نے قلم کو روزگار کا وسیلہ بنانے کی بجائے اسے عوام کی امانت سمجھ کر استعمال کیا۔ انہوں نے ایسے وقت میں جمہوریت، آئین اور آزادیٔ اظہار کی چومکھی جنگ لڑی جب اختلافِ رائے کو بغاوت، سوال کرنے کو جرم اور ریاستی بیانیے سے انحراف کو غداری قرار دیا جاتا تھا۔ انکی زندگی کی کہانی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حق اور سچ بات کرنیوالے کو جسمانی طور پر تو مٹایا جا سکتا ہے، لیکن انکے نظریات و خیالات کو دفن نہیں کیا جا سکتا۔جب 9جولائی 1987ء کو صرف 48برس کی عمر میں اور پراسرار حالات میں وارث میر کا اچانک انتقال ہوا تو پاکستان پر جنرل ضیاء الحق کی فوجی آمریت پوری شدت سے مسلط تھی۔ وہ دور محض سیاسی پابندیوں کا نہیں بلکہ فکری گھٹن، صحافتی سنسرشپ، عدالتی دباؤ، سماجی خوف اور ریاستی جبر کا دور تھا۔ بہت سارے لکھاری اور اہل قلم خاموش ہو چکے تھے، بہت سے مصلحت کا شکار ہوئے اور صاحب اقتدار کے قصیدے لکھنے لگے، لیکن وارث میر نے اپنے قلم کو اپنے ضمیر کا تابع رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ انکی تحریریں آج بھی پاکستان میں جمہوریت اور شخصی آزادیوں کی جدوجہد کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔وارث میر کی فکری شناخت کسی ایک سیاسی جماعت، نظریاتی گروہ یا مکتبِ فکر تک محدود نہیں تھی۔ انکی اصل وابستگی ان اصولوں سے تھی جن پر ایک مہذب معاشرے کی بنیاد استوار ہوتی ہے؛ یعنی آئین کی بالادستی، منتخب نمائندوں کا حق حکمرانی، عدل، انسانی وقار، اظہارِ رائے کی آزادی اور اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ۔ وہ ریاست کی طاقت کو عوام کی آزادیوں پر فوقیت دینے کے مخالف تھے۔ انکے نزدیک ریاست کا وجود شہریوں کے حقوق کے تحفظ کیلئےہے، نہ کہ ان کی آواز دبانے کیلئے۔جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں مذہب، سیاست اور ریاستی طاقت کے امتزاج نے اختلاف کرنیوالوں کیلئے زمین مزید تنگ کر دی۔ ایسے ماحول میں سچ بولنا خطرات کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ لیکن وارث میر نے اس خطرے کو قبول کرتے ہوئے اپنے قلم کو خوف کے بجائے سچائی کا ترجمان بنایا۔انکا استدلال تھا کہ جب ریاست سوال کرنے کو جرم بنا دےتو قومیں صرف سیاسی طور پر نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ انکے بقول کسی قوم کی ترقی اور تنزلی میں اس کے اہلِ فکر و دانش کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا اگر یہی طبقہ مصلحت کا شکار ہو جائے تو پھر معاشرے میں جھوٹ فروغ پاتا ہے اور طاقت اور جبر کا بیانیہ ہی واحد سچ بن کر رہ جاتا ہے۔ضیاء دور میں جب صحافت پر سنسرشپ کا شکنجہ سخت تر کر دیا گیا تو وارث میر نے اہلِ قلم کو انکی ذمہ داری کی یاد دہانی کراتے ہوئے لکھا کہ ’’زندہ قوم کی ایک نشانی یہ ہے کہ اسکے لکھنے اور پڑھنے والوں کو پابندیوں کی کتنی ہی بیڑیاں کیوں نہ پہنا دی جائیں، انکے منہ پر کتنے ہی تالے کیوں نہ لگا دیے جائیں، وہ کسی نہ کسی طرح آہ یا سسکی بھر کر احتجاج کا اظہار کر ہی دیتے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید لکھا کہ ’’ایک سچا لکھنے والا کسی حکومت، جماعت یا ادارے کا ایجنٹ یا آلۂ کار نہیں بن سکتا کیونکہ وہ عوام کے ضمیر کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کا قلم عوام کی امانت ہوتا ہے، لہٰذا اسے حاکم وقت کی خوشنودی کیلئے نہیں بلکہ سچائی کے اظہارکیلئے استعمال ہونا چاہیے۔‘‘یہی تصور دراصل انکی صحافت کی بنیاد تھا۔1977 میں بھٹو حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قابض ہونیوالے جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب سنسرشپ اپنے عروج پر تھی، اخبارات پر پابندیاں لگ رہی تھیں اور صحافیوں کو کوڑے مارے جا رہے تھے، تب وارث میر نے یہ لکھنے کی جرات کی کہ پاکستان میں اصل مسئلہ صرف حکومتوں کی تبدیلی نہیں بلکہ اقتدار کے اس ڈھانچے کا ہے جو عوام کی رائے سے زیادہ بندوق کی طاقت پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو حکومت فوج کی طاقت کے سہارے قائم ہوتی ہے، وہ عوامی اعتماد سے محروم رہتی ہے۔وارث میر کا طرز تحریر اس لیے منفرد تھا کہ وہ صرف مخالفت برائے مخالفت نہیں کرتے تھے۔ وہ ہر مؤقف کو تحقیق کے ذریعے تاریخ، مذہب، آئین، فلسفے اور سیاسی فکر کی روشنی میں پرکھتے تھے۔ وہ قاری کو فیصلہ نہیں سناتے تھے بلکہ دلیل سے قائل کرتے تھے، وہ سوال اٹھاتے تھے اور سوچنے پر مجبور کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انکی تحریریں چار دہائیاں گزرنے کے باوجود اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ وارث میر کی فکری جدوجہد کا خلاصہ ایک فقرے میں بیان کرنا ہو تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ طاقت کے بجائے دلیل، جبر کے بجائے آزادی، خاموشی کے بجائے مکالمے اور آمریت کے بجائے جمہوریت پر یقین رکھتے تھے۔ انہوں نے کبھی بندوق کے مقابلے میں بندوق کی بات نہیں کی بلکہ قلم، دلیل اور شعور کو تبدیلی کا اصل ذریعہ قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ انکی شخصیت صرف ایک صحافی یا دانشور کی نہیں بلکہ پاکستان میں جمہوری فکر کی ایک مستقل روایت کی علامت بن چکی ہے۔انکی صحافت کا ایک نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ مایوسی نہیں پھیلاتے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ جمہوری اور ترقی پسند افکار اور سوچ کو وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، مگر انہیں ہمیشہ کیلئے شکست نہیں دی جا سکتی۔ اپنے اسی یقین کی بدولت وہ تمام تر دباؤ کے باوجود ثابت قدم رہے اور یہی انکی فکری میراث کا سب سے مضبوط پہلو بھی ہے۔