براعظم افریقہ کے خوبصورت اور سیاحتی ملک موریشس(Mauritius) کا سفر بہت ہی مثالی اور شاندار رہا۔ موریشس کے اسلامک سینٹر کی دعوت پر ہم 22جون کو روانہ ہوئے اور 9دن کے بعد 30 جون کی رات واپسی ہوئی۔ یہ 9 دن ہم نے بھرپور طریقے سے گزارے۔
موریشس ایک ایسا جزیرہ ہے جسکے چاروں طرف پانی ہی پانی ہے۔ موریشس چوڑائی میں 38 کلو میٹر اور لمبائی میں 85 کلو میٹر رقبے پر محیط ہے۔ موریشس پر فرانس، برطانیہ سمیت مختلف عالمی طاقتوں کا کنٹرول رہا۔ پاکستان کی طرح موریشس نے بھی برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔موریشس میں بھی جمہوریت ہے۔ موریشس میں 49 فیصد ہندو، 17 فیصد مسلمان، 13 فیصد عیسائی اور باقی موریشین ہیں۔ تناسب کے اعتبار سے سب قوموں اور طبقات کو حکومتی ڈھانچے میں نمائندگی دی جاتی ہے۔ موریشس کے صدر ایک مسلمان بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے بھائی رشاد اوتیم کا بہت بڑا تعلیمی ادارہ ہے۔ ہم نے اس کا بھی وزٹ کیا۔ موریشس کے اسکول، کالج اور یونیورسٹیز میں مختلف اسکلز اور فن بھی سکھائے جاتے ہیں۔ تھیوریکل کے ساتھ پریکٹیکل لازمی ہے۔ ہر کام کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔
موریشس سے ہم یہ 6 چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔ حکمت، دانائی، عقل، خیر، بھلائی، مفید اور کام کی بات جہاں کہیں سے بھی ملے، لینے میں کوئی حرج نہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ" حکمت کی بات مومن کی گمشدہ متاع ہے، جہاں سے بھی ملے، مومن ہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔" موریش سے ہم رواداری اور بھارئی چارہ سیکھ سکتے ہیں۔ موریشس میں مسلمان، ہندو، عیسائی، سب مل کر باہمی اتفاق و اتحاد سے رہتے ہیں۔ لڑائی جھگڑا اور ایک دوسرے سے نفرت بالکل نہیں کرتے، بلکہ ایک دوسرے کے کاموں میں معاونت کرتے ہیں۔
موریشس میں ہمارے میزبان کے گھر کے بالکل سامنے ہندو فیملی کا گھر ہے ۔ ساتھ متصل عیسائی فیملی رہائش پذیر ہے۔ ہمارے وہاں ہوتے ہوئے ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ ہمارے میزبان کا چھوٹا بیٹا اسکول وین میں سوار ہوتے وقت اپنے لنچ کا ٹفن گیٹ پر بھول گیا۔ وین جانے کے بعد سامنے والے ہندو پڑوسی نے دیکھا تو فوراً انہوں نے اٹھایا۔ گاڑی نکالی اور اسکول جاکر مسلمان بچے کو لنچ بکس دیا۔ ذرا سوچیے! ایسی رواداری ہمارے معاشرے میں ہو سکتی ہے؟ موریشس سے سیکھنے کی دوسری بات انتھک محنت اور ٹائم کی پابندی ہے۔ وہاں ہر شخص عرق ریز محنت کرتا ہے ۔ کام چوری اور ہڈ حرامی کا تصور تک نہیں ہے۔ ہر شخص اپنا مفوضہ کام نہایت دیانت داری، ایمان داری اور ذمہ داری کیساتھ کرتا ہے۔ کرپشن، بد عنوانی، حرام خوری، دھوکہ دہی، فراڈ، چوری چکاری ، ڈاکہ زنی و غیرہ بالکل نہیںہے۔ کیا ہمارے مسلم معاشرے میں ہر شخص انتھک محنت، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام مکمل کرتا ہے؟؟
موریشس سے سیکھنے کا تیسرا کام وہاں کی صفائی ستھرائی کا نظام ہے۔ حکومتی اور سرکاری عملے کے علاوہ ہر شہری صفائی ستھرائی کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ اپنے گھروں، دفتروں، محلوں اور ملک کو کیسے صاف ستھرا رکھنا ہے، اسکی با قاعدہ تعلیم، تربیت اور ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ ہم مسلمانوں کو دین اسلام نے صفائی اور طہارت کا بہت زیادہ حکم دیا ہے۔ ایک حدیث شریف میں صفائی اور طہارت کو نصف ایمان تک کہا گیا ہے، لیکن عملی طور پر ہمارے مسلم معاشرے میں کتنی صفائی ستھراتی ہے؟ اس کا اندازہ آپ آج کے کراچی کو دیکھ کر لگا لیں۔موریشس سے سیکھنے کا چوتھا کام پُرامن رہنا اور جلدی سے ایک دوسرے کو معاف کر دینا ہے۔ وہاں لڑائی جھگڑا، دنگا فساد اور مار دھاڑ کا تصور نہیں ہے۔ لوگوں کے مزاجوں میں اعتدال، نرمی، معافی، در گزر اور اپنائیت کا عنصر غالب ہے۔ ہم مسلمان ہیں، دین اسلام نے ہمیں معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے وقت اپنی جان کے دشمنوں تک کو معاف کر دیا تھا، لیکن آج ہمارے ہاں مسلم معاشروں میں دیکھ لیں کس طرح انتقام در انتقام کی آگ جل رہی ہے۔اوپر حکمرانوں سیاست دانوں سے لے کر نیچے چپراسی تک ہر شخص دوسرے کا دشمن بنا پھر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو معاف کر کے کب آگے بڑھیں گے؟
موریشس سے سیکھنے کا پانچواں کام ڈسپلن اور نظم وضبط ہے۔ وہاں پر نظم و ضبط اور ڈسپلن کا یہ عالم ہے کہ اکثر چوک چوراہوں پر ٹریفک سگنل تک نہیں ہیںلیکن کسی کو وہاں کا قانون توڑنے کی ہمت نہیں۔ ہر شخص ملکی قانون کا احترام کرتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں قانون اشرافیہ کے گھر کی لونڈی ہے۔ قانون توڑنے کو جرأت و بہادری کی علامت سمجھاجاتا ہے۔
درج بالا یہ پانچ کام تو وہ تھے جو ہم موریشس سے سیکھ سکتے ہیں۔ اب 4 کام وہ جوہم موریشس کو دے سکتے ہیں۔ موریشس حکومت اور عوام ہم پاکستانیوں اور حکومتِ پاکستان سے لے سکتی ہے۔ موریشس میں مدرس اور دینی تعلیم کا کوئی منظم اور خاص سسٹم نہیں ہے۔ الحمد للہ! پاکستان میں مدارس کا نظام بہت منظم اور شاندار ہے۔ چنانچہ امام، خطیب، اور دینی تعلیم کی تدریس کیلئے مدرسین پاکستان سے جاسکتے ہیں۔ موریشس میں اسلامی اصولوں کے مطابق کاروبار اور تجارت کرنے کے وسیع مواقع ہیں۔ کمپنی آسانی سے رجسٹرڈ ہو جاتی ہے۔ چونکہ پُر امن ملک ہے۔ ہر شخص کو ترقی کے یکساں مواقع ہیں۔ جھوٹ فراڈ، دو نمبری، کرپشن اور بد عنوانی وغیرہ نہیں، اس لیے با صلاحیت پاکستانی نوجوانوں کیلئے بہت زیادہ امکانات ہیں۔
ہم موریشس کے دار الحکومت پوٹ لیئس میں واقع پاکستانی ایمبیسی بھی گئے۔ اس وقت وہاں سید زاہد رضا صاحب ہائی کمشنر آف پاکستان تعینات ہیں۔ انہوں نے اپنے 6 رکنی عملے کے ساتھ ہمارا بھرپور استقبال کیا۔ چائے کی ٹیبل پر مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ رضا صاحب برطانیہ، ترکیہ سمیت کئی ممالک میں پاکستانی سفیر رہ چکے ہیں۔ پاکستان کی تہذیب و ثقافت اور شناخت کو بہتر کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ ہر جگہ پاکستانیت، اسلامیت اور مشرقیت کو فروغ دینے کی انتھک محنت کر رہے ہیں۔ موریشس میں 250 کے قریب پاکستانی رہائش پذیر ہیں۔ موریشس میں مقیم پاکستانی فیملی کی مشکلات کو حل کرنے اور ان کو ہر قسم کی سہولیات پہنچانے کے لیے ہر وقت رابطے میں رہتے ہیں۔ 14 اگست، 23 مارچ، 6 ستمبر جیسے قومی دنوں میں پاکستانی سفارت خانے میں پاکستانیوں اور موریشس کی اہم ترین شخصیات کو تقریب میں مدعو کر کے اعزاز بخشتے ہیں۔
ہم نے مجموعی طور پر 9دن موریشس میں گزارے۔ سفر کو وسیلہ ظفر کہا جاتا ہے۔سفر سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے۔ آپ بھی سفر کی عادت ڈالیں۔