• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کام کی کارکردگی میں مسلسل کمی ڈیمینشیا کی پہلی علامت ہو سکتی ہے: نئی تحقیق

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ملازمت کے دوران کارکردگی اور پیداواری صلاحیت میں مسلسل کمی ابتدائی عمر میں ہونے والے ڈیمینشیا (Early-Onset Dementia) کی ابتدائی علامات میں شامل ہو سکتی ہے، جو بیماری کی تشخیص سے 15 سال پہلے بھی ظاہر ہونا شروع ہو سکتی ہیں۔

ابتدائی عمر میں ڈیمینشیا سے مراد وہ حالت ہے جو 65 سال سے کم عمر افراد میں پیدا ہو، یہ بیماری یادداشت، سوچنے کی صلاحیت، جذباتی کیفیت اور روزمرہ و پیشہ ورانہ ذمے داریاں انجام دینے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چونکہ ڈیمینشیا کو عموماً عمر رسیدہ افراد کی بیماری سمجھا جاتا ہے، اس لیے کم عمر افراد میں اس کی علامات اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں، جس کے باعث تشخیص میں تاخیر ہوتی ہے۔

فن لینڈ کے محققین نے تقریباً 800 ایسے افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جنہیں بعد میں ابتدائی عمر میں ڈیمینشیا کی تشخیص ہوئی، جبکہ ان کا موازنہ 7 ہزار سے زائد صحت مند افراد سے کیا گیا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق جن افراد میں بعد میں ڈیمینشیا تشخیص ہوا، ان کی ملازمت کی کارکردگی اور آمدنی میں بیماری کی تشخیص سے تقریباً 15 سال پہلے ہی نمایاں کمی آنا شروع ہو گئی تھی۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ افراد کی سالانہ آمدنی اوسطاً 13 ہزار 800 امریکی ڈالرز کم تھی، جبکہ 12 سال کے دوران مجموعی طور پر انہیں تقریباً 86 ہزار امریکی ڈالرز کی آمدنی کا نقصان اٹھانا پڑا۔

تحقیق کے سربراہ اور ماہرِ اعصاب ڈاکٹر اینو سولجے نے کہا ہے کہ ابتدائی عمر میں ڈیمینشیا کی بیماری متاثرہ افراد کو ان کی زندگی کے سب سے زیادہ پیداواری دور میں متاثر کرتا ہے، جس کے نتیجے میں کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، ملازمت چھوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے یا قبل از وقت ریٹائرمنٹ اختیار کرنا پڑ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کی ملازمت کی کارکردگی میں بغیر کسی واضح طبی یا ذاتی وجہ کے مسلسل کمی آ رہی ہو تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے، کیونکہ بر وقت تشخیص سے مریض کو جلد علاج، مناسب دیکھ بھال اور ضروری معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔

تحقیق کے مطابق کام کرنے کی عمر کے افراد میں ذہنی صلاحیتوں میں طویل المدتی تبدیلیوں پر توجہ دینا ڈیمینشیا کی بر وقت تشخیص میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

خاص رپورٹ سے مزید