• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کا خلیج میں امریکی فوجیوں کا سراغ انکے موبائل فونز سے لگانے کا انکشاف

—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
—تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

برطانوی و امریکی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے اب تک جاری تنازع میں ڈیجیٹل ٹریکنگ کے طریقوں کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے موبائل فونز کو نشانہ بنانے والی ایک مہم کا پتہ چلا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کے ماحول میں سامنے آئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی ہیکرز نے مشرقِ وسطیٰ کے ٹیلی کمیونی کیشن انفرااسٹرکچر کی پرانی اور کمزور سیکیورٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجیوں اور کنٹریکٹرز کے موبائل فونز کی لوکیشن معلوم کرنے کی کوشش کی۔

موبائل جاسوسی پر تحقیق کرنے والے تحقیقی ادارے موبائل سرویلنس مانیٹر کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے ٹیلی کام نیٹ ورکس کو حالیہ عرصے میں ایسی متعدد درخواستیں موصول ہوئیں جن کا مقصد اپنے اصل نیٹ ورک سے باہر رومنگ پر موجود مخصوص موبائل فونز کی موجودہ لوکیشن کا تعین کرنا تھا۔

ادارے کے بانی اور سائبر سیکیورٹی محقق گیری ملر کے مطابق دستیاب ڈیٹا ایک منظم اور مربوط حملہ آور مہم کی نشاندہی کرتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ سائبر حملے ایران پر مسلط کردہ امریکی و اسرائیلی جنگ کے آغاز سے قبل تیز ہوئے اور تنازع کے ابتدائی دنوں تک جاری رہے، یہاں تک کہ تہران نے جواباً خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

ایرانی حملوں کی نوعیت

بحرین سمیت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کے کئی ہزار اہلکار تعینات ہیں، گیری ملر کے نے دی نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ وہاں کے ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورکس کو بڑی تعداد میں SS7 پنگز موصول ہوئیں۔

SS7 پنگ دراصل عالمی ٹیلی کمیونی کیشن نیٹ ورک کے ذریعے بھیجی جانے والی ایک خاموش درخواست ہوتی ہے، جس کا مقصد کسی مخصوص موبائل فون کی لوکیشن معلوم کرنا یا یہ تصدیق کرنا ہوتا ہے کہ آیا وہ فعال ہے اور رومنگ پر موجود ہے یا نہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق خلیجی ممالک کے حکام کا خیال ہے کہ ایران یا اس کے اتحادی مقامی موبائل کمپنیوں کے ساتھ موجود رومنگ معاہدوں سے فائدہ اٹھا کر امریکی اہلکاروں کی لوکیشن معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گیری ملر کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس حقیقی وقت میں فوری اور مسلسل لوکیشن حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اگر ایران SS7 یا خطے کے موبائل نیٹ ورکس تک رسائی استعمال کر کے امریکی صارفین کی نگرانی نہ کر رہا ہو تو مجھے انتہائی حیرت ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ روکے گئے بعض ٹریکنگ حملوں کا تعلق ایک ایرانی موبائل آپریٹر سے جوڑا جا سکتا ہے، جس سے ایک ایسا ڈیجیٹل فنگر پرنٹ سامنے آیا ہے جو دیگر حملوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔

گیری ملر کے مطابق یہ کارروائی کسی عمومی نگرانی کا حصہ نہیں بلکہ مخصوص صارفین اور مخصوص ڈیوائسز کو نشانہ بنانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

امریکی اڈوں پر ایران کے حملے

ایران نے اپنی علاقائی اتحادی ملیشیاؤں کی مدد سے جنگ کے دوران عراق، بحرین جہاں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا ہیڈکوارٹر قائم ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں متعدد حملے کیے۔

ان حملوں میں بعض مواقع پر امریکی کنٹریکٹرز اور فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) سے وابستہ سائبر سیکیورٹی محقق نے دی نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ اہداف کی نشاندہی کے لیے موبائل نیٹ ورک سگنلز کا استعمال ایران کی سائبر جنگی صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کی علامت ہے، جو ایرانی میزائلوں کی زد میں موجود امریکی اہلکاروں کے لیے ایک ممکنہ خطرہ بن سکتی ہے۔

محقق نے کہا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اور خاص طور پر اس تنازع کے دوران ایران نے غیر معمولی تخلیقی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے، میرے نزدیک یہ اس کی بڑھتی ہوئی تکنیکی مہارت کی واضح علامت ہے۔

امریکی قانون سازوں کا انتباہ

اسمارٹ فونز کی ڈیوائس بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والی ایڈورٹائزنگ آئی ڈیز کئی برسوں سے کسی مخصوص فون یا فونز کے گروپ کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں، جبکہ امریکا خود بھی ماضی میں نگرانی کے لیے اشتہاری ٹیکنالوجی استعمال کرتا رہا ہے۔

تاہم امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ یہی ٹیکنالوجی اب دشمن ممالک بھی امریکی فوجی اہلکاروں کی نگرانی کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، جس پر امریکی قانون سازوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی فوج کا مؤقف

اپریل میں امریکی سینٹرل کمانڈ نے کانگریس کو بتایا تھا کہ اسے متعدد ایسی انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں مخالف عناصر کی جانب سے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے یا ان کی نگرانی کے لیے تجارتی لوکیشن ڈیٹا کے استعمال کا ذکر کیا گیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، جن کی تفصیلات سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید