• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوں تو پورے ملک میں آپا دھاپی پڑی ہے۔ کہیں شورہے کہ آٹا نہیں مل رہا ۔کہیں کے پی میں پہلے وزیر اعلیٰ جیسے ہی بدلا،ممبران نے پر نکالنے شروع کردیئے ایسے ویسے، اسمبلی میں آتے ہی نہ تھے جب آئے اور سناکہ اجلاس میں آتے رہو گے تو نیلے پاسپورٹ کے علاوہ دوسرے رنگوں کے پاسپورٹ صرف تمہیں نہیں،خاندان بھرکوملے گا، پیچھے سے آواز آئی’’ اور ہمارا حصہ ‘‘ جواباً کہا گیا ملے گا ، شور مت کرو۔ اب دیکھتے ہیں کہ باقی صوبوں میںاور کیاکیا دیا جائیگا البتہ غریب بے چارہ آٹا ہی مانگتا رہ جائے گا۔

ویسے بلوچستان میں پہلے، براھوی لوگوں کومارا جاتا تھا، اس وقت آنکھوں کے سامنے پورا قبرستان آرہا ہے۔ پھر باری آتی ہے پنجابیوں کی۔حیران کن بات یہ کہ باقاعدہ پوچھ کر آپ پنجابی ہو فوراً "گولی "تڑا تڑ۔ یہ قاتلانہ کھیل زیارت تک پہنچ گیا ہے۔ اب زیارت کے لوگ اپنے علاقے کے30بندوں کو قتل کرنے کی وجوہات مانگ رہے ہیں۔ زیارت قائد اعظم اور صنوبر کے درختوں کے باعث، بہت سیاحوں اور جڑی بوٹیاں زمین کھود کر نکالنے والے غیر ملکی لوگوں کا مرکز نگاہ رہا ہے۔

چندسال پہلے عاقبت نا اندیش فتنہ گروں نے پوری ریزیڈنسی کو جلاکر خاک کردیا تھا۔ تعریف، ان ماہرین کی کہ پورا ادارہ محنت کرکے دوبارہ بنالیا تھا۔ آجکل دہشت گردوں کا رخ زیارت کی جانب ہے۔ خود بھی مرتے ہیں اور معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی نے کیا کمال دکھایا ہے دوشہروں کو چار شہروں میں تقسیم کرکے بہت خوش ہیں۔ فائدہ کس کو ہوگا کہ یہ خبر اخبار تک تو آئی۔ اس پر بحث کرنے کے لئے وقت ہی نہیں بچتا کہ ٹرمپ صاحب پھر میزائل چلانے لگتے ہیں۔ بنی بنائی گیم ختم کرکے نیا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں ، نہ ہواکہ پرنس چارلس جیسا کوئی منہ توڑ جواب دیتا۔ اس نے ٹرمپ کو تقریرمیں جواب دیا کہ اگر بر طانیہ نہ ہوتا تو امریکی اب تک فرانسیسی بول رہے ہوتے۔ جنگیں سرحدوں کا نقشہ نہیں بدلتیں۔ قوموں کو شناخت دیتی ہیں۔ اب وہ زمانے نہیں رہے ۔اب جنگوں کی نہیں، امن، روٹی اور کم بچوں کے ساتھ صحت مند قومیں چاہئیں۔ ویسے ساری دنیا میں احتجاج نے آزادی اظہار کی جگہ بدل دی ہے۔ پورے بلوچستان میں معدنیات سے بھرے ٹرکوں پر بھی دہشت گرد حملے کررہے ہیں ایئر پورٹ پر کلو یا دوکلو چاندی اسمگل کرتی عورتیں پکڑی جاتی ہیں ، ویسے اس وقت پورے ملک کے ائیر پورٹس پر اسمگل ہوتی عورتیں پکری جارہی ہیں۔

میرے سامنے اخبار ہے جس میں پرانے چیف جسٹس کے فیصلوں پر اعتراضات میں نسلہ ٹاور، مونال ریسٹورنٹ گرانے کو غلط فیصلہ کہا گیا ہے۔ مجھے یاد آرہے ہیں وہ بزرگ جو ٹاور گرانے والوں کو دیکھ کر ، دل ہار بیٹھے تھے۔

وہ عورتیں جو نئے گھر کو سجانے کو اپنی اگلی تنخواہ کا انتظار کررہی تھیں اورمونال ریسٹورنٹ کے وہ سارے بیرے جنہوں نے ریسٹورنٹ گرانے کے حکم پر اپنی نوکریاں جانے پر لڑکیاں تو رونے لگی تھیں۔ یہ ریسٹورنٹ دودفعہ توڑا گیا اور ہر دفعہ اسی جگہ پر نئی بلڈنگ بنی، سرمایہ داروں کو یہ جگہ ہر دفعہ مفت مل جاتی ہے۔ شاید لین دین ہی سے کام چل جاتا ہوگا۔؟؟ نئے گج ڈیم کے لئے کہا گیا کہ تعمیر مکمل ہونے تک، عدالت کوئی فیصلہ نہیں کرئے گی۔ قلم یہ لکھنے کو بھی اٹھ رہے ہیں کہ آخر ایک محرم کو2برس بعد یہ کہہ کررہا کردیا گیا کہ بحث بہت ہوگئی، اب انہیں رہا کردو۔

اسی طرح بلوچستان میںماہ رنگ کو عمر قیددے دی گئی۔ ایمان مزاری کی بھی اس طرح تاریخ پہ تاریخ پڑتی جارہی ہے اور ڈاکٹر یاسمین کہ جو کینسر کی مریض ہے۔ ابھی تو بہت کچھ یعنی ناانصافیاں ،گل پلازہ جیسے کیس سامنے منہ کھولے کھڑے ہیں۔

ٹرمپ صاحب کو ہمارے عدالتی فیصلے دکھائیں مگر بیکار کہ وہ تو اگلے سانس میں ایرانیوں کو فنا کرنے کا اعلان کردینگے ، اب میں سناؤں دوروزہ کانفرنس کا احوال، میں ہوں کہ وہ ساری عورتیں جوامن چاہتی ہیں بلائی ہی نہیں گئیں اب تو شزا فاطمہ بہت کافی ہیں۔

تازہ ترین