جنگ کی بھی زبان ہوتی ہے، جس میں ماں کی لوری، چرواہے کی بانسری اور بچوں کی ہنسی آہستہ آہستہ دب جاتی ہے۔ صرف دھماکوں کی گونج، جلتے شہروں کا دھواں اور دل پر اترتا خوف رہ جاتا ہے۔ آج یہی مشرقِ وسطیٰ کی زبان ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے بڑھتے حملوں نے عبوری سمجھوتہ ختم کرکے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔جمعرات کو امریکی طیاروں نے شمالی ایران، تہران کے گردونواح اور صوبہ سمنان میں کئی اہداف پر حملے کیے۔ سمنان ایران کے بیلسٹک میزائل اور خلائی پروگرام کا اہم مرکز ہے۔ اس سے پہلے آبنائے ہرمز کے جزیرۂ گریٹر تنب پر ایرانی دفاعی اور میزائل تنصیبات بھی نشانہ بن چکی تھیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق388ویں میکانائزڈ انفنٹری بریگیڈ کی بیرک پر تیرہ میزائل داغے گئے، جہاں زیرِ تربیت اور مستقل فوجی موجود تھے۔ ایران نے سات فوجیوں کی ہلاکت اور کئی کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔ایران کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں پینتیس سے زیادہ افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ محض اعداد نہیں؛ ہر عدد کے پیچھے ایک نام، گھر، خاندان اور ماں کی دعا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ فوجی تنصیبات کی آڑ میں ریاستی، سائنسی اور مواصلاتی ڈھانچہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ایران کا بنیادی مؤقف ہے کہ جنگ اس نے شروع نہیں کی۔ 28فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایرانی سرزمین پر حملوں نے اسے جوابی کارروائی پر مجبور کیا۔ تہران کےمیزائل اور ڈرون حملے ، انتقام نہیں، دفاع تھا۔ اسی دفاع میں بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پرحملے کیے۔عرب عوام اس کا ہدف نہیں۔جنگ کا مرکز آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے عالمی توانائی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔آغاز میں ایران نے اسے مؤثر طور پر بند کر دیا تھا، جس سے خام تیل پچاسی ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جو جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً پندرہ فیصد زیادہ تھا، مگر بحران کے عروج پر پہنچنے والی ایک سو بیس ڈالر کی سطح سے کم تھا۔ عبوری معاہدے کے دوران بعض جہاز عمان کے قریب امریکی نگرانی والے ایسے راستے سے گزرنے لگے جو تہران کے براہِ راست اختیار سے باہر تھا۔ ایران نے اس راستےکے جہازوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ نے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی۔ ایران نے اسے خودمختاری اور تجارت کے خلاف جنگ قرار دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی تیل اور گیس دنیا تک نہیں پہنچ سکتے تو دوسرے ممالک کی توانائی برآمدات بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔ پاسدارانِ انقلاب کا اعلان تھا: خطے سے تیل اور گیس کی برآمد یا تو سب کیلئے ہوگی یا کسی کیلئے نہیںاس بات میں ایک تلخ منطق موجود ہے۔ ایران کی تجارت سمندر سے خارج کی جا رہی ہے تو وہ دوسروں کی تجارت کیوں محفوظ رہے؟ تاہم مظلومیت اور اجتماعی سزا کا فرق مٹنا نہیں چاہیے۔تہران کی شکایت ہے کہ امریکہ ایک طرف مذاکرات کرتا اور دوسری طرف بمباری، ناکہ بندی اور اقتصادی محاصرہ بڑھاتا ہے۔ معاہدے کے کاغذ کے ساتھ بندوق رکھی ہو تو دستخط آزاد مرضی نہیں رہتے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ نے عبوری سمجھوتے کی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو ایران مکمل تصادم کیلئے تیار ہوگا۔ دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے، اور سمجھوتا نہ ہوا تو امریکہ تنازع”ختم “ کر دے گا۔ یہ واضح نہیں کہ اس اختتام سے مراد امن ہے یا مزید تباہی۔ایران نے ہرمز پر انحصار گھٹانے کیلئے متبادل راستے بنائے ہیں۔چابہاربندرگاہ اسے بحیرۂ عمان کے ذریعے بھارت، افغانستان اور وسطی ایشیا سے ملاتی ہے۔ گورہ سے جاسک پائپ لائن ایرانی تیل کو ہرمز سے باہر لے جاسکتی ہے۔ بین الاقوامی شمال۔جنوب راہداری بحیرۂ کیسپین، آذربائیجان اور روس تک پہنچتی ہے۔ مشرق میں ترکمانستان، قازقستان، ازبکستان اور چین، مغرب میں ترکی اور عراق، جبکہ پاکستان کے ذریعے جنوبی ایشیا تک تجارت ممکن ہے۔ مگر ریل، سڑک اور پائپ لائنیں لاکھوں بیرل لے جانیوالے جہازوں کا بدل نہیں۔ یہ زخم پر پٹی ہیں، کٹی شریان کا علاج نہیں۔ایک پوشیدہ خطرہ سمندر کی تہہ میں بچھی فائبر آپٹک کیبلز ہیں، جن سے عالمی انٹرنیٹ، بینکاری، اسٹاک مارکیٹ، ہوائی اڈے، بندرگاہیں، کلاؤڈ سروسز، طبی معلومات اور ذاتی رابطے منسلک ہیں۔ جنگ، لنگر، دھماکے یا تخریب سے کیبلز متاثر ہوئیں تو مالیاتی لین دین رک سکتا ہے، تجارتی ڈیٹا تاخیر کا شکار اور مواصلاتی نظام مفلوج ہوسکتا ہے۔ مگر یہ آگ دوست اور دشمن میں فرق نہیں کرے گی۔ دوسرے کی آواز کاٹنے والا خود بھی دنیا سے کٹ سکتا ہے۔امریکہ آزاد جہاز رانی کا دعویٰ کرتا ہے، مگر ایرانی تجارت روکنے کیلئے طاقت استعمال کرتا ہے۔ یہ دریا کو سب کیلئے آزاد کہہ کر ایک کنارے کے لوگوں کو پانی سے محروم کرنے جیسا ہے۔ قانون اسی وقت معتبر ہوتا ہے جب اس کا پیمانہ دوست اور دشمن کیلئے یکساں ہو؛ ورنہ وہ طاقتور کے ہاتھ کی لاٹھی بن جاتا ہے۔امریکہ کے پاس بڑے بحری بیڑے، جدید طیارے اور دورمار میزائل ہیں، مگر ایران کے پاس جغرافیہ ہے: تنگ پانی، چھوٹے جزائر، ساحلی پہاڑ، زیرِ زمین تنصیبات اور طویل ساحل۔ ہرمز کو چند دن کھولنا اور مہینوں محفوظ رکھنا الگ باتیں ہیں۔ ایران کو ہر جہاز ڈبونے کی ضرورت نہیں؛ صرف خطرہ مہنگی انشورنس، کپتانوں کو محتاط اور تاجروں کو راستے بدلنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ جنگ میں خوف بھی بارودی سرنگ کی طرح راستے بند کرتا ہے۔عراق اور افغانستان نے ثابت کیا کہ مختصر جنگ کا وعدہ اکثر طویل المیہ بن جاتا ہے۔ ایران ان دونوں سے بڑا، پیچیدہ اور گہرے ریاستی ڈھانچے والا ملک ہے۔ اس جنگ کا دروازہ کھولنا آسان، واپسی کا راستہ مشکل ہوگا۔صدر ٹرمپ کی ذہنی حالت کے متعلق امریکہ کے ذہنی صحت کے بڑے اداروں کو سوچنا چاہئے۔