• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مختلف اصنافِ ادب میں اظہارِ خیال کرنیوالے کچھ تخلیق کار ایسے خوش بخت ہوتے ہیں کہ اُن کا ہر اظہار توانا ،منفرد اور الگ شناخت کا حامل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر انعام الحق جاوید بھی ایسی ہی ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ وہ اردو و پنجابی تخلیقی ادب، تحقیق، تنقید،سنجیدہ اور مزاحیہ شاعری کے میدان میں پاکستان کی ایک معتبر اور درخشاں شخصیت ہیں۔ وہ اسلام آباد کے اکثر علمی و ادبی اداروں میں خدمات انجام دے چکے ہیں،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں مادری زبانوں کے شعبے کے قیام اور استحکام میں ان کا کردار نمایاں رہا جبکہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے ہر سال کتابوں کی نمائش کو ایک حقیقی عالمی ادبی و ثقافتی میلے کی صورت دینا بھی ان کا منفرد کارنامہ ہے۔ڈاکٹر صاحب سے میرا پچیس برس پر محیط عقیدت، محبت اور احترام کا رشتہ ہے،ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہوگا کہ میں اسلام آباد گئی ہوں اور ان سے ملاقات نہ ہوئی ہو،وہ ایک نہایت مثبت، مہذب ، حلیم اور روادار شخصیت کے مالک ہیں، ان کی صحبت میں اپنائیت، خلوص، شگفتگی اور خیر خواہی کی فضا دل و دماغ پر خوشگوار اثر چھوڑتی ہے۔گزشتہ دنوں وہ لاہور تشریف لائے تو اپنی تین کلیات اور پنجابی سنجیدہ شاعری کا ایک مجموعہ مجھے عنایت کیا۔ ان کی کلیات میں سنجیدہ اردو شاعری ، مزاحیہ پنجابی شاعری اور طنز و مزاح پر مشتمل شاعری کا دل آویز امتزاج موجود ہے۔ اس کے علاوہ پنجابی سنجیدہ شاعری کا مجموعہ’بُشکا‘ ان کے فکری اور تخلیقی سفر کا ایک اہم حوالہ ہے۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید عموماً مشاعروں میں مزاحیہ شاعری سناتے ہیں کیونکہ سامعین کی جانب سے زیادہ تر اسی کی فرمائش کی جاتی ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں ان کی سنجیدہ شاعری شعریت ،فکری گہرائی اور وسعت کی حامل ہے۔ ان کے بیشتر اشعار جذبے کی سچائی، زبان کی لطافت، احساس کی نزاکت اور تخیل کی جولانی کا مظہر ہیں۔بظاہر ہنسی مذاق کرنے اور مزاحیہ شاعری سنانے والے شاعر نے اپنے عہد، معاشرے اور انسانی احساسات و جذبات کو جس سادگی اور اثر انگیزی کے ساتھ شعر کے قالب میں ڈھالا ہے وہ بہت قابل ستائش ہے ۔آج میں آپ کو ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی اردو شاعری کی چند خوبصورت غزلوں سے متعارف کرانا چاہتی ہوں۔

ہر لفظ کو کاغذ پر اتارا نہیں جاتا

ہر نام سرِعام پکارا نہیں جاتا

ہوتی ہیں محبت میں کئی راز کی باتیں

ویسے ہی تو اس کھیل میں ہارا نہیں جاتا

تب تک نہیں کھلتے کبھی اسرارِ محبت

جب تک کوئی اس راہ میں مارا نہیں جاتا

جھانک کر آنکھ کے پردے سے لگے زینے میں

ہم اُتار آئے ہیں دل اپنا تیرے سینے میں

کل تو سچ یہ تھا کہ منزل نہ کوئی رستہ تھا

آج سچ یہ ہے کہ لطف آنے لگا ہے جینے میں

لفظ قاصر ہیں بہر طور بیاں کرنے سے

لطف جو آتا ہے دیدار کی مے پینے میں

یہ جو دِن نکلتا ہے یہ جو رات ہوتی ہے

آسماں پہ کوئی تو واردات ہوتی ہے

برف اور بارش تو ظاہری مظاہر ہیں

بادلوں کی اپنی ہی کائنات ہوتی ہے

آندھیاں بجھاتی ہیں یوں ہی کب چراغوں کو

لازماً پسِ پردہ کوئی بات ہوتی ہے

جس جگہ پہ ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے

اس جگہ پہ جا کر ہی ہم کو مات ہوتی ہے

تلاش کرنے پہ آئیں تو کیا نہیں ملتا

بس ایک وہ ہے کہ جس کا پتہ نہیں ملتا

میں اس کی کھوج میں پہنچا تو ہوں کنارے تک

پر اس کے بعد کوئی نقش پا نہیں ملتا

مقابلے کی سکت بھی نہیں رہی باقی

فرار کا بھی کوئی راستہ نہیں ملتا

یہ اور بات کہ خود بچ بچا کے چلتا ہوں

وگرنہ راہ میں کب حادثہ نہیں ملتا

میں اپنے آپ میں چپکے سے لوٹ آتا ہوں

کسی بھی سمت سے جب حوصلہ نہیں ملتا

بجا ہے جاگتے رہنا پہ سونا بھی ضروری ہے

اگر ہنسنا ضروری ہے تو رونا بھی ضروری ہے

بہت ہی لازمی ہے روز جانا اس کی محفل میں

کبھی پر اس کی محفل میں نہ ہونا بھی ضروری ہے

خود نہیں بولتا فن کار کا فن بولتا ہے

جِس طرح حُسن کا بے ساختہ پن بولتا ہے

عشق کے شہر کی اپنی ہی زباں ہوتی ہے

ہونٹ چاہے نہ ہلیں چاہِ ذقن بولتا ہے

دستِ فطرت نے سرِ شوق تراشا ہو جسے

سات پردوں میں بھی اُس بُت کا بدن بولتاہے

بات خوشبو کی جو آ جائے تو اُس کے حق میں

صرف اِک پھول نہیں سارا چمن بولتا ہے

تازہ ترین