ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے زیر اہتمام’عالمی سطح پر تحقیقی اثر و رسوخ کے جشن اور قومی جدت طرازی کے لیے مؤثر راستوں کے استحکام‘ کے موضوع پر تقریب منعقد ہوئی جس میں ملک کے ممتاز سائنس دانوں اور محققین کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
تقریب سے گورنر سندھ نہال ہاشمی، صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز اسماعیل راہو، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد، ایچ ای سی کے رکن حبیب علی بخاری اور مشیر برائے تحقیق ڈاکٹر محمد ناصر نے خطاب کیا۔
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب مسلمان علم اور تحقیق سے وابستہ تھے تو دنیا میں قیادت ان کے ہاتھ میں تھی، لیکن تحقیق سے دوری نے قوموں کو زوال سے دوچار کیا، قرآن مجید انسان کو کائنات میں غور و فکر اور تحقیق کی تلقین کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی محققین اور سائنس دان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور جدید سائنس و تحقیق نے قومی دفاع، معیشت، زراعت، صحت اور خوراک سمیت زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔
نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سائنس دانوں اور محققین کی صلاحیتوں کی بدولت بڑے قومی معرکے سر کیے اور مستقبل کی ترقی بھی تحقیق اور جدت سے وابستہ ہے۔
صوبائی وزیر برائے جامعات و بورڈز اسماعیل راہو نے کہا کہ سائنس دانوں اور محققین کا بنیادی کام نئی ایجادات اور دریافتیں کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان تحقیق میں دنیا کی رہنمائی کرتے تھے اور مغربی دنیا ان کی تقلید کرتی تھی، مگر جب مسلم معاشرہ علم اور تحقیق سے دور ہوا تو ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے رہ گیا۔
اسماعیل راہو نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک آج بھی تحقیق اور اختراع کی بدولت دنیا میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کہا کہ تحقیق کا اصل مقصد صرف تحقیقی مقالات شائع کرنا نہیں بلکہ اس کے اثرات معاشرے میں نمایاں ہونا چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے، جس نے تعلیم، تدریس اور تحقیق کے روایتی طریقۂ کار کو تبدیل کر دیا ہے۔
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال سے اب 2 گھنٹے کے لیکچر کا خلاصہ چند منٹوں میں تیار کیا جا سکتا ہے، اس لیے اساتذہ اور محققین کو بھی اپنے طریقۂ کار کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہو گا۔
اس موقع پر چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد نے بتایا کہ سندھ حکومت نے سائنس اور تحقیق کے فروغ کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے کی جامعات میں تقریباً 62 ہزار اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں 40 فیصد پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر ہیں۔
ڈاکٹر نیاز احمد نے کہا کہ تحقیقی منصوبوں کے لیے ہزاروں درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے جانچ پڑتال کے بعد 142 تحقیقی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
ایچ ای سی کے رکن حبیب علی بخاری نے کہا کہ تقریب کا مقصد عالمی سطح پر نمایاں تحقیقی اثر و رسوخ رکھنے والے 90 پاکستانی سائنس دانوں اور محققین کی خدمات کا اعتراف کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیق اور اختراع ہی جدید معیشتوں اور ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد ہیں۔
ایچ ای سی کے مشیر برائے تحقیق ڈاکٹر محمد ناصر نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے محققین کی سہولت کے لیے تحقیقی سفری گرانٹس میں اضافہ کر دیا ہے تاکہ پاکستانی سائنس دان بین الاقوامی کانفرنسوں اور تحقیقی سرگرمیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں شرکت کر سکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت تحقیق کے فروغ اور عالمی سطح پر پاکستانی محققین کی نمائندگی مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔