کراچی (سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے اپنے اجلاس کے دوران سندھ حکومت کے نمائندے کی جانب سے پالیسی ساز ممبران کی تقرریوں میں صوبائی کوٹے کی خلاف ورزی پر اٹھائے گئے اعتراض کا نوٹس لے لیا ہے اور ہدایت کی کہ باقی ماندہ آسامیوں اور آئندہ اشتہارات میں صوبائی کوٹے اور متوازن علاقائی نمائندگی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ چیرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے منٹس کے مطابق۔ ایچ ای سی سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی توثیق کرتے ہوئے گریڈ 19 اور 20 کے متعدد افسران کی ترقیوں اور اہم پالیسی ساز عہدوں پر تقرریوں کی منظوری دے دی گئی، جبکہ چند اہم عہدوں پر نئی بھرتیوں، بعض کیسز کے التوا اور ایک عہدے کو دوبارہ مشتہر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ کمیشن نے جنرل کیڈر میں ڈائریکٹر جنرل (بی پی ایس 20) کے عہدے پر سید نوید حسین شاہ اور انجینئر وحید احمد کی ترقی کی منظوری دی، جبکہ سلیمان احمد کی ترقی کا کیس مؤخر کر دیا گیا۔ اسی طرح ڈائریکٹر (بی پی ایس 19) کے عہدوں پر رضوان شوکت، عفیفہ ارشد، وسیم خالق داد، پرویز اقبال، عائشہ حنا فاروق اور حمیرا قدوس کو ترقی دینے کی منظوری دی گئی، جبکہ سید ثامر سبطین کا کیس بھی مؤخر کر دیا گیا۔ آئی ٹی کیڈر میں ڈائریکٹر جنرل (بی پی ایس 20) کے عہدے پر انجینئر جاوید علی میمن کو ترقی دی گئی، جبکہ ڈائریکٹر (آئی ٹی) بی پی ایس 19 کے عہدوں پر وقاص احمد خان اور کامران عابد کی ترقی کی منظوری دی گئی۔ کمیشن نے ممبر اسٹریٹجک پلاننگ کے کنٹریکٹ عہدے کے لیے ڈاکٹر شفیق الرحمن، ممبر کوالٹی ایشورنس کے لیے ڈاکٹر ناصر محمود خان، ممبر ریسرچ، ڈویلپمنٹ اینڈ انوویشن کے لیے ڈاکٹر سید حبیب علی بخاری اور منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل اکیڈمی آف ہائر ایجوکیشن (NAHE) کے لیے ڈاکٹر نور آمنہ ملک کو بطور پرنسپل امیدوار منظور کیا۔ تاہم ممبر اکیڈمکس (بی پی ایس 22) کی آسامی کو دوبارہ مشتہر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں لیب فیسلٹیز کی مضبوطی کے قومی منصوبے کے لیے پروجیکٹ ڈائریکٹر (PPS-10) کے عہدے پر ذیشان خان کو بطور پرنسپل امیدوار منتخب کیا گیا، جبکہ ڈائریکٹر انفارمیشن سیکیورٹی (بی پی ایس 19) کے لیے وقاص مسعود کی منظوری دی گئی۔ کمیشن نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر سلیمان احمد کی جانب سے ڈاکٹر مختار احمد کے دور میں اپنی سالانہ خفیہ رپورٹس (PERs) میں درج منفی ریمارکس ختم کرنے کی درخواست پر بھی غور کیا، تاہم حتمی فیصلہ کرنے کے بجائے انہیں آئندہ اجلاس میں ذاتی سماعت کا موقع دینے کا فیصلہ کیا گیا۔