دنیا کا ہر خطہ آج جن مختلف قسم کے سیاسی، سماجی اور معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ انکے حل کیلئے نوجوان قیادت کو آگے لانا بہت ضروری ہے، کل بھی اس حقیقت کا اظہار کیا جاتا تھا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے متحرک، باصلاحیت اور باخبر طبقہ ہوتے ہیں مگر آج کاسچ یہ ہے کہ تیزی سے بدلتے سائنسی، سیاسی اور معاشی منظرنامے میں نوجوانوں کی شرکت بطور رہنما زیادہ ضروری ہو گئی ہے، کیونکہ اب وہ صرف اپنے اردگرد کے حالات ہی سے واقف نہیںبلکہ عالمی سطح پر رونما ہونیوالے واقعات، نظریات اور تبدیلیوں سے بھی آگاہ ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی،سوشل میڈیا، یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع نے انھیں معلومات کے ایسے وسیع ذخیرے تک رسائی فراہم کر دی ہے جسکا تصور چند دہائیاں قبل بالکل ممکن نہیں تھا۔ ہماری نسل کی طرح آج کا نوجوان نہ کتابی کیڑا ہے نہ اسکا علم نصاب اور لائبریری کی کتابوں تک محدود ہے۔ اصل تاریخ تک بھی اسکی رسائی ہے، وہ مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرکے انکا تقابلی جائزہ لیتا ہے، حقائق کی چھان بین کرتا ہے اور پھر اپنی رائے قائم کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اندھی تقلید کے بجائے دلیل، شعور اور تحقیق کی بنیاد پر فیصلے کرنے کو ترجیح دیتا ہے، وہ سوال اٹھانے کی جرات رکھتا ہے، سچائی کی تلاش میں رہتا ہے اور اپنے عہد کے مسائل کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ حال ہی میں ہندوستان کے طلبہ کی ایک تحریک نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، اس تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت اسکا پرامن،منظم اور مقصدیت کا حامل ہونا تھا، طلبہ نے اپنی شکایات اور مطالبات کو واضح انداز میں پیش کیا اور ایک ماہ تک مسلسل جدوجہد جاری رکھی، انہوں نے نہ توڑ پھوڑ کا راستہ اختیار کیا، نہ تشدد کا سہارا لیا اور نہ ہی اپنے مقصد سے انحراف کیا، نہ وہ کسی سیاسی جماعت کے ہاتھوں ہائی جیک ہوئے نہ مذہبی گروہ کے ایجنڈے کا حصہ بنے ، نہ اندرونی و بیرونی قوتوں کے آلہ کار بنے ، مختلف دباؤ،طاقت کے استعمال اور مشکلات کے باوجود وہ اپنے مطالبات پر قائم رہے اور بالآخر حکومت کو انکے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑا۔
اس تحریک کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو اسکی ہمہ گیر نوعیت تھی، یہ کسی ایک مذہب، مسلک یا طبقے تک محدود نہیں تھی بلکہ مختلف مذاہب، مسالک، نظریات اور سماجی پس منظر رکھنے والے افراد اسکاحصہ بنے،انسانی حقوق کی تنظیموں، فنکاروں، ادیبوں، دانشوروں اور سیاسی شخصیات نے انکی ہمت اور حوصلے سے متاثر ہو کر انکی حمایت کی۔ اس طرح یہ تحریک اس حقیقت کی علامت بن گئی کہ جب نوجوان کسی مشترکہ مقصد کیلئے متحد ہو جائیں تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔یہ مثال برصغیر سمیت پوری دنیا کے نوجوانوں کیلئے ایک اہم پیغام رکھتی ہے، نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی توانائیاں تعمیری مقاصدکیلئے وقف کریں، انہیںمذہبی یا گروہی تعصبات سے بالاتر ہو کر تعلیم، تحقیق، مہارتوں کے حصول پر توجہ دینی چاہئے، کیونکہ قوموں کی ترقی جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ علم، محنت، کردار اور مثبت جدوجہد سے ممکن ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں انسانی حقوق اور معاشی مساوات کے حوالے سے بی ایل اے اور پی ٹی ایم جیسی تنظیمیں اور جماعتیں نوجوانوں کے جذبات کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں، انہوں نے کبھی لوگوں کی تعلیم ، صحت اور بنیادی ضرورتوں کیلئے بات نہیں کی بلکہ وہ ہمیشہ تقسیم، تشدد اور نفرت کو شعور کا نام دیکر نوجوانوں کی زندگیاں خراب کرتی رہی ہیں۔ انکے رہنما خود پر تعیش زندگی گزار رہے ہیں اور نوجوانوں کو موت کے منہ میں دھکیل رکھا ہے۔ اسلئے ہمارے نوجوانوں کو تقابلی جائزہ لینا چاہئے اور ایسے عناصر سے فاصلہ اختیار کرنا چاہئے جو عوامی مسائل اور محرومیوں کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو اشتعال کے اندھے رستے پر ڈال دیتے ہیں، کیونکہ اس سے حاصل کچھ نہیں ہوتا، بلکہ نتیجہ ہمیشہ معاشرتی تقسیم، بدامنی اور مزید محرومی کی صورت میں نکلتا ہے، نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ ہر نظریے اور ہر تحریک کا تنقیدی جائزہ لیں اور یہ دیکھیں کہ آیا اسکا مقصد واقعی عوام کی فلاح، تعلیم، روزگار اور خوشحالی ہے یا کسی گروہ کے اپنے مفادات۔
پاکستان کے نوجوانوں کے سامنے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ وہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، کاروبار، ادب، ثقافت، کھیل اور سماجی خدمت کے میدانوں میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں، چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں، مثبت سوچ اپنائیں اور اپنی توانائیوں کو ملک و قوم کی ترقی کیلئے استعمال کریں۔ آج کا دور نوجوانوں کا دور ہے۔ جہاں نوجوانوں کو شعور، برداشت، تحقیق اور مثبت عمل کو اپنا شعار بنانے کی ضرورت ہے وہیں حکومت اور سیاسی جماعتوں کو بھی ان کیلئے خاص منصوبہ بندی کرنا چاہئے۔ اقرار الحسن نے عوام راج جماعت بنا کر ملک کے نوجوانوں کو آگے لانے اور سیاسی و سماجی شعور کی یونین کا آغاز کیا ہے اسے آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ کوئی تو پلیٹ فارم ہو جو سیاست کی وراثت سے آزاد ہو۔
ہم سب کو ملک کی سب سے بڑی آبادی کے بارے میں سوچنے اور متحرک ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ کل بھی انکا ہے اور آج کو بھی وہ اپنی قوت سے ترقی، استحکام اور خوشحالی کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتےہیں۔ دیکھا جائے تو پوری دنیا کو نوجوان قیادت کی ضرورت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ایک بہتر اور روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔