تین برس کے دوران نہ کبھی اپنے اعزاز میں کوئی تقریب منعقد کروائی نہ کسی مشاعرے یا کانفرنس میں اپنا نام شامل کروانے کی کوشش کی اور نہ ہی اپنے لیے کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ کیا ۔گرمی، سردی اور دھند زدہ موسم میں منعقدہ ہر اجلاس میں شریک ہوئی تاکہ اپنے سپرد کردہ فرائض میں کوئی کوتاہی نہ رہ جائے۔ لاہور اسلام آباد پروازیں بند ہونے کے بعد کراچی،کوئٹہ اور گلگت سے آنے والے اراکین کو ہوائی ٹکٹ فراہم کیے جاتے رہے جبکہ لاہور اور پشاور کے اراکین کو گورنمنٹ کےطے شدہ کلومیٹر ریٹ کے مطابق واجبات ملتے تھے،یوں اکثر نصف پٹرول اپنی جیب سے ڈال کر بھی اس اطمینان کے ساتھ اجلاسوں میں شرکت کرتی رہی کہ مادری زبانوں خصوصاً پنجابی کی نمائندگی کرنا میرے لیے اعزاز ہے اور اعزاز میں نفع نقصان نہیں دیکھا جاتا۔ میرا دل مطمئن ہے کہ ان تین برسوں کے دوران میں نے ہر مثبت کاوش میں بھرپور تعاون کیا۔جب لاہور میں ہونے والی ایک خصوصی وظائف میٹنگ کے بعد وسطی پنجاب کے درجنوں ادیبوں کے وظائف بند کر دیے گئے تو میں نے اکادمی کے فورم پر اس مسئلے کو پوری قوت سے اٹھایا اور مسلسل اس فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتی رہی۔متاثرہ ادیبوں کی پریشانی دیکھتے ہوئے خصوصی طور پر چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف سے ملاقات کر کےاُنھیں یہ مسئلہ حل کرنے کی درخواست کی جسے انہوں نے تسلیم کیا، بعد ازاں ایک طویل انتظامی عمل کے ذریعے تمام وظائف بحال ہو گئے۔ 21جولائی کو اس بورڈ آف گورنرز اور چیئرپرسن کے دورِ ذمہ داری کا آخری اجلاس تھا۔تمام صوبوں کے اراکین اور اکادمی کے عملے سے ملاقات ضروری تھی مگر اسی روز فیصل آباد میں میری بھتیجی کی شادی بھی تھی۔ جب میں نے اپنی مجبوری سے اکادمی کو آگاہ کیا تو کراچی، کوئٹہ اور گلگت کے اراکین کو ٹکٹ جاری ہو چکے تھے لہٰذا طے پایا کہ میں آن لائن شرکت کر لوں گی،ویسے بھی اکثر اجلاسوں میں ایک دو اراکین آن لائن شریک ہوتے ہیں اور بعض اوقات پورا اجلاس ہی آن لائن منعقد ہوتا ہے۔اس اجلاس کے ایجنڈے میں سالانہ بجٹ کی رسمی منظوری اور ملازمین کے سروس معاملات کےسوا کوئی ایسا متنازعہ موضوع شامل نہیں تھا جس پر بات کرنا بہت ضروری ہو ۔اراکین میں مختلف وفاقی محکموں کے سیکریٹریز، صوبائی حکومتوں کے نمائندے اور مادری زبانوں کے نمائندگان شامل ہوتے ہیں۔اجلاس سے قبل زوم لنک گروپ میں شیئر کیا گیا جسے میں نے فیصل آباد جاتے ہوئے استعمال کرنے کی کوشش کی مگر شدید بارش کے باعث رابطہ ممکن نہ ہو سکا۔ماضی میں جب بھی آن لائن شرکت درکار ہوتی تو نواز سولنگی صاحب اور دیگر ساتھی رابطہ کرکے آن لائن ہونے تک مسلسل رہنمائی کرتے رہتے تھے اور جب تک آن لائن نہ ہو جاتے فون اور میسجز آتے رہتے۔اس مرتبہ شاید یہ ذمہ داری کسی اور کے سپرد تھی اس لیے نہ الگ سے رابطہ کیا گیا اور نہ شرکت کی یاد دہانی کروائی گئی۔ممکن ہے موسمی حالات اُس طرف بھی اس کی وجہ رہے ہوں۔بعد ازاں کچھ پنجابی دوستوں نے پریس ریلیز میں پنجابی نمائندے کا نام شامل نہ ہونے پر سوشل میڈیا پر تشویش کا اظہار کیا جو ان کا حق تھاتاہم جب وضاحتی بیان میں میرا نام شامل کر دیا گیا تو بعض پڑھے لکھے اور سرکاری عہدوں پر فائز افراد کے تبصرے دیکھ کر حیرت ہوئی۔وہ اس بات پر ناراض تھے کہ اجلاس میں کسی دوسرے پنجابی ادیب یا کارکن کو مدعو کیوں نہیں کیا گیا۔بعض دوستوں کا خیال تھا کہ پنجابی زبان میں زیادہ نثر لکھنے والوں یا پنجابی ایکٹوسٹس کو رکن ہونا چاہیے تھا، حالانکہ ان میں سے کئی حضرات ماضی میں خود اکادمی کے رکن رہ چکے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اکادمی کسی رکن کی غیر موجودگی میں اپنی مرضی سے کسی دوسرے شخص کو شامل نہیں کر سکتی،یہی اصول تقریباً ہر سرکاری بورڈ آف گورنرز پر لاگو ہوتا ہے۔اکادمی کے اراکین کے انتخاب کا ایک باقاعدہ طریقۂ کار موجود ہے،ہر صوبے سے متعدد ادیبوں کے نام وزیرِاعظم ہاؤس کو ارسال کیے جاتے ہیں اور وہاں سے منتخب نام واپس بھیجے جاتے ہیںان اجلاسوں میں نہ نعرے بازی ہوتی ہے، نہ خطابت کے مقابلے اور نہ ہی کسی دوسری زبان کی تحقیر۔زیادہ تر معاملات انتظامی اور پالیسی نوعیت کے ہوتے ہیں اس لیے اراکین میں متعلقہ شعبوں اور زبانوں کے سرکاری یا ریٹائرڈ افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تمام زبانوںکے نمائندے ضابطے کے مطابق اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران تمام اجلاس خوشگوار، باوقار اور مثبت ماحول میں منعقد ہوئے۔چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کا رویہ ہمیشہ نہایت شائستہ، دوستانہ اور غیر جانبدار رہا، انہوں نے کبھی اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اکثریتی فیصلوں کا احترام کیا۔گزشتہ کئی برسوں سے اکادمیِ ادبیات پاکستان کو دیگر اداروں میں ضم کرنے کی کوششیں جاری ہیں جنہیں ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنی ذاتی کاوشوں سے روکے رکھا،اب مستقبل کیا رخ اختیار کرتا ہے،یہ وقت بتائے گا، البتہ اتنا ضرور ہے کہ مادری زبانوں اور ادبی سرگرمیوں کے لیے کام کرنے والے اس واحد وفاقی ادارے کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔