سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتوار کو ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو میں ولی عہد نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی جائے اور ہر ممکن کوشش کی جائے تاکہ حالات کو پرسکون بنا کر سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر کسی بڑے حملے کے خلیجی خطے کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، اسی تناظر میں ولی عہد نے خلیجی خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور ایسے وسیع تر تنازع سے بچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے جس کے اثرات علاقائی اور عالمی امن و سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایکسویس کی رپورٹ کے مطابق اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے میزائل حملے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں خلل کے بعد امریکی صدر ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔
ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل عبداللّٰہ بن فرح الشایہ نے امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کا ویژن 2030ء محض ایک معاشی منصوبہ نہیں بلکہ ایک جامع قومی منصوبہ ہے، جس کا مقصد متنوع اور پائیدار معیشت کی تشکیل اور سرمایہ کاری، توانائی، لاجسٹکس، سیاحت اور جدت طرازی کے عالمی مرکز کے طور پر مملکت کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔
سعودی عرب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتا ہے، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات بھی رہے ہیں، تاہم ایران سے متعلق کشیدگی سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ہونے والی مشاورت میں سعودی عرب بدستور اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔
امریکا کی سابق دفاعی عہدیدار اور مشرقِ وسطیٰ کی ماہر ڈانا اسٹرول نے کہا ہے کہ سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے لیے صرف فوجی طاقت کافی نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی بار بار کی فوجی کارروائیاں بھی حوثیوں کے خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہیں۔
ڈانا اسٹرول نے یہ بھی کہا کہ اگر سعودی عرب ایک مرتبہ پھر حوثیوں کے ساتھ کسی بڑے تنازع میں الجھتا ہے تو اس کے ویژن 2030ء پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
