• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امام اہل سنت امام احمد رضا قادری نور اللہ مرقدہ کثير الجہات، جامع العلوم اور جامع الصفات شخصیت ہیں۔ وہ اپنے عہد کے عظیم مفسر، محدث، فقیہ، عظیم متکلم اور مصلح تھے۔ وہ شرک و بدعت اور فروغ منکرات کے سخت خلاف تھے، مگر خانہ ساز تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ ان پر شرک و بدعت اور فروغ منکرات کا الزام لگایا گیا۔

طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا گیا لیکن یہ سب اتہامات والزامات مفروضوں کی بنیاد پر عائد کیے گئے، نہ کوئی حوالہ دیا گیا اور نہ ان کے فتاویٰ اور تصانیف کو پڑھنے کی کوشش کی گئی۔ گویا: ؎

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے

اہلسنت و جماعت کو قبوری اور قبر پرست کہا جاتا رہا ہے۔ امام اہلسنت لکھتے ہیں: ”مسلمان!اے مسلمان!اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان ! جان کہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے روانہیں غیر اللہ کو سجدئہ عبادت تو یقیناً اجماعاً شرک اور واضح کفر ہے نیز سجدئہ تعظیمی یقیناً حرام اور گناہ کبیرہ ہے اس کے کفر ہونے میں علمائے دین کا اختلاف ہے اور فقہاء کی ایک جماعت نے اسے کفر قرار دیا ہے“ ۔

آپ نے سجدئہ تعظیمی کی حرمت پر قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ سے استدلال کرتے ہوئے با قاعدہ ایک رسالہ لکھا جو”الزّبدة الزكیه لتحريم السجود التحیة “ کے نام سے طبع ہوا۔ آپ نے فقہ حنفی کے مسلمہ فتاویٰ وائمہ احناف کے حوالے سے لکھا: ” عالموں اور بزرگوں کے سامنے زمین چومنا حرام ہے، اور چومنے والا اور اس پر راضی ہونے والا دونوں گناہ گار، کیونکہ یہ بت پرستی کے مشابہ ہے“ ۔

مزید لکھتے ہیں:”زمین بوسی حقیقی سجدہ نہیں کہ سجدے میں پیشانی رکھنا ضرور ہے تو جب ظاہری مشابہت کی ممانعت ہے تو حقیقی سجدے کی حرمت کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تو بت پرستی کے مشابہ ہے“۔

نیز لکھتے ہیں:” مزارات کو سجدئہ تعظیمی یا مزار کے سامنے زمین چومنا حرام اور حد رکوع تک جھکنا ممنوع“۔ اولیائے کرام کے مزارات کی بات تو چھوڑ یئے وہ لکھتے ہیں : ”روضہء اطہر(ﷺ) کی زیارت کے وقت نہ دیوار کریم کو ہاتھ لگائے، نہ چومے، نہ اس سے چمٹے، نہ طواف کرے، نہ زمین کو چومے کہ یہ سب قبیح بدعات ہیں“۔

مزید لکھا:”مزار کو سجدئہ تعظیمی تو در کنار بت پرستی سے مشابہت کی وجہ سے کسی قبر کے سامنےاللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنا بھی جائز نہیں اگر چہ قبلے کی طرف ہو“۔ نیز لکھتے ہیں: ”قبرستان میں نماز مکروہ ہے کہ اس میں کسی قبر کی طرف رُخ ہوگا اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے البتہ قبرستان میں مسجد یا نماز کا چبوترا ہو تو اس میں حرج نہیں ہے“۔

امام احمد رضا سے مزارات اولیا ئے کرام کے طواف کی بابت سوال ہوا تو لکھا: ”بلاشبہ بیت اللہ کے علاوہ روضہء رسول (ﷺ)سمیت قبور کا طواف تعظیمی نا جائز ہے بوسہء قبر میں علماء کا اختلاف ہے عوام کے لیے محتاط ترین قول ممانعت کا ہے خصوصاً مزارات طیبہ اولیائے کرام کہ ہمارے علماء نے تصریح فرمائی کہ کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر کھڑا ہو، یہی ادب ہے پھر چومنا کیسے متصور ہو سکتا ہے عوام کو اسی کا فتویٰ دیا جاتا ہے اورتحقیق کا مقام دوسرا ہے“ ۔

امام اہلسنت امام احمد رضا سے سوال ہوا: کیا فلاحِ آخرت کے لیے مرشِد ضروری ہے، آپ نے جواب میں لکھا:” یہ ضروری نہیں ہے، ایک مرشد عام ہوتا ہے، فلاحِ ظاہر ہو یا فلاحِ باطن، اس مرشد سے چارہ نہیں، جو اس سے جُدا ہے، بلاشبہ کافر ہے یا گمراہ اور اس کی عبادت تباہ و بر باد“۔اس کی مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا: ”عوام کا رہنما کلام علماء ، علماء کا رہنما کلام ائمہ، ائمہ کا رہنما کلام رسول اور رسول اللہﷺ کا رہنما کلام اللہ “۔

شیخِ ایصال اور مرشد کامل کے لیے آپ نے چار کڑی شرائط بیان کی ہیں جن پر لفظاً و معناً پو را اُترنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔ آپ سے سوال ہوا: کیا فرضی مزار بنانا، اس پر چادر چڑھانا، فاتحہ پڑھنا اور اصل مزار کا سا ادب کرنا جائز ہے؟ آپ نے جواب میں لکھا:”یہ نا جائز اور بدعت ہے، اگر کوئی بزرگ کسی کو خواب میں مزار بنانے کا حکم دے تو ایسے خوابوں کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں ہے“۔

بعض لوگ مستحبات میں مشغول ہو کر فرائض کو نظر انداز کر دیتے ہیں، آپ نے” فتوح الغیب“ کے حوالے سے لکھا: ”ایسے شخص کی سنتیں اور نوافل قبول نہیں ہیں“۔ کئی لوگ ہیں جن کی آمدنی حرام کی ہے لیکن وہ عاشق رسول بن کر محافل منعقد کرتے ہیں، لنگر چلاتے، پیسہ لٹاتے ہیں، ان کی بابت آپ سے سوال ہوا تو آپ نے لکھا:”جو حرام مال پر نیاز دیتا ہے اور کہتا ہے کہ نبی کریمﷺ قبول فرماتے ہیں، اس شخص کا یہ قول صراحتاً غلط اور باطل ہے، خبردار! حرام مال اللہ کی بارگاہ میں ہرگز قبول نہیں ہے اور اُسے راہِ خدا میں صرف کرنا جائز نہیں ہے بلکہ نرا و بال ہے“۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں کو قرآن وسنت سے جوڑ کر رکھا جائے ،کیونکہ ایک طرف تو لبرل ازم کے نام پر اباحتِ کلی کی فکر کو فروغ دیا جا رہا ہے اور دوسری جانب رشد و ہدایت کے منصب پر غیر متشرع، غیر متدین اور آوارہ منش لوگ از خود فائز ہو گئے ہیں ان کے ہاں بے عملی اور بے راہ روی کا ماحول پروان چڑھ رہا ہے اگر شریعت کی رو سے گرفت کی جائے تو کرائے پر علماء دستیاب ہیں جو کہیں نہ کہیں سے حوالہ نکال لائیں گے۔

اس لیےامام احمد رضا نے لکھا:”واعظ کے لیے صحیح العقیدہ اہل سنت ہونا چاہیے، اُسے عالم ہونا چاہیے، جاہل کا وعظ کرنا نا جائز ہے بلکہ حدیث پاک میں اس کی بابت وعید آئی ہے“ اللہ تعالیٰ علم حق کو یونہی بندوں کے درمیان سے اُٹھا نہیں لیتا بلکہ علمائے حق کے اُٹھ جانے ( اور اُن کا بدل نہ ہونے ) کے سب اللہ تعالیٰ علم کو اُٹھا لیتا ہے یہاں تک کہ جب کوئی عالمِ حق باقی نہ رہے تو لوگ جاہلوں کو اپنا ( مذہبی) پیشوا بنا لیتے ہیں پھر لوگ ان سے شرعی مسائل دریافت کرتے ہیں اور وہ جہل پر مبنی فتوے دیتے ہیں، خود بھی گمراہ ہوتے اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ اعلیٰ حضرت، امام احمد رضاقادری اپنے عہد کے عظیم ترین مفسر، محدث، فقیہ اور دینی وعصری علوم کے جامع تھے۔

ان کی شخصیت پر ’’جامع الکل فی الکل ‘‘ کا اطلاق سجتا ہے ۔ 33ضخیم مجلدات پر ان کا مجموعۂ فتاویٰ الموسوم ’’العطایا النبویہ فی الفتاوٰی الرضویہ‘‘ اردو زبان میں تحقیقی فتاویٰ کا سب سے بڑا مجموعہ ہے، بلکہ یہ کہنا بجا ہے کہ بہت سے نامی گرامی علمی اداروں کا فقہ وفتاویٰ کا مجموعی علمی اثاثہ بھی اس کے ہم پلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ مجموعۂ فتاویٰ تمام علوم کا جامع ہے اور اگر کوئی اسے کسی ماہرِ فقہ وفتویٰ سے سمجھ کر پڑھ لے تومحض فتاویٰ رضویہ کے بَل پر بھی ایک مستند وثقہ مفتی بن سکتاہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید