• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خانوادہ امام احمد رضاؒ کی دو سالہ فتویٰ نویسی

پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری

امام احمدر ضا خان بریلویؒ بریلی میں1856ء/1272ھ میں پیدا ہوئے۔15 شعبان1286 ھ میں علوم دینیہ سے فارغ التحصل ہوئے اور اسی دن سے قلمی کام بصورت فتویٰ نویسی کی ابتداء کی جس وقت عمر ابھی14 سال تھی۔ مسلسل 55 سال قلمی کام انجام دیتے ہوئے بعمر68 سال1340ھ/1921ء میں دارفنا سے دارالبقا کو چ کر گئے او اپنے پیچھے وہ متعدد علمی و قلمی کا رنامے چھوڑ گئےجنہیں دیکھ کر دنیا حیران ہے۔

امام احمدر ضا خود اپنے جملہ علوم وفنون پر دسترس اور فراغت کا احوال قلمبند رکرتے ہوئے رقمطراز ہیں :”یہ واقعہ نصف شعبان 1286ھ کا ہے اس وقت میں13 سال 10 ماہ اور5 دن کا تھا۔ اسی روز مجھ پر نماز فرض ہوئی تھی اور میری طرف شرعی احکام متوجہ ہوئے تھے اور یہ نیک فال ہے کہ بحمدہٖ تعالیٰ میری تاریخ فراغت کلمہ” غفور“ (1286ھ) ہے“۔

خاندانِ امام احمدرضا میں مسندِ افتاء کی بنیاد1246 ھ میں امام احمد رضا کے جد امجد مفتی محمد رضا علی خاں نے رکھی تھی جسےاب تقریباً200 سال ہو گئے۔ امام احمدر ضا نے خود ایک مقام پر اپنے جد امجد کے اس کارنامے کا ذکر کرتے ہوئے 1320ھ میں فرمایا تھا: ”میں آباؤ اجداد سے علوم دین کا خادم ہوں ، 74 سال سے میرے یہاں سے فتویٰ جارہی ہے“۔

امام احمدر ضا مزید20 برس حیات رہے اور فتویٰ نویسی فرماتے رہے جب آپ کا وصال1340 ھ میں ہوا اس وقت اس خاندان سے فتویٰ نویسی کو94 برس ہوچکے تھے اور اب ان کے وصال کو108 برس گزر چکے ہیں۔ اس لحاظ سے200 سال سے فتویٰ نویسی جاری ہے جس کی تفصیل یہ ہے۔ تاج الشریعہ مولانا مفتی محمد اختررضا خاں(م۔2018ء)و مفتی محمد ریحان رضا خاں ابن مولانا مفتی ابراہیم رضا خاں (م۔1385ھ)

ابن حجۃ الاسلام مفتی حامد رضا خاں (م۔1362ھ) ابن مفتی امام احمدر ضا خاں (م۔1340ھ) ابن مولانا مفتی محمد نقی علی خاں (م۔1297ھ) ابن مولانا مفتی محمد رضا علی خاں (م۔1282ھ)۔ مفتی اعظم ہند مفتی محمد مصطفیٰ رضا خاں نے بھی70 سال سے زیادہ اور ان کے داماد مولانا محمد ابراہیم رضاخاں کے صاحبزادے مفتی اختر رضا خاں الازہری نے 60 سال فتوے جاری کیے اور آج دسویں پشت مفتی بریلی کی حیثیت سے فتویٰ نویسی کر رہی ہے۔

امام احمد رضاؒ نے پانچ انواع سے فتاویٰ لکھےہیں، آپ نے 3 زبانوں اردو،فارسی اور عربی میں ہزاروں فتاویٰ تحریر کیے جبکہ بحیثیت مفتی منظوم فارسی اور منظوم اردو میں بھی فتاویٰ تحریر کیے۔ یہ اعزاز برصغیرمیں کسی اور کو حاصل نہیں۔

انہوں نے3زبانوں میں فتاویٰ اور رسائل لکھے، اپنے فتاویٰ میں ایک جدت یہ فرمائی کہ بہت سے سوالوں کا جواب اتنا طویل اور تفصیلی ہوگیا کہ اس کو رسالے کی شکل دینا پڑی۔ تو اس رسالے کا تاریخی نام لکھا او راس پر ایک عربی زبان میں خطبہ بھی ضرور لکھا وہ رسالہ چاہے اردو زبان میں ہو یا فارسی زبان میں یا عربی زبان میں مگر خطبہ لکھا اور اس خطبہ میں جدت یہ تھی کہ اس میں حمد، نعت اور آل رسول کی مدح سرائی تھی مگر اس میں اصطلاحات اس علم وفن کی تھیں جس فن پروہ رسالہ لکھا گیا تھا مثلاً جب آپ نے اپنی احادیث کی اسناد کی اپنے ہم عصروں کو اجاز ت دی تو ایک عربی خطبہ لکھا اس خطبہ میں حمد ونعت ومنقبت کے لیے اصطلاحات جو استعمال کیں وہ احادیث کی کتابوں کے نام ،محدثین کرام کے نام اور احادیث میں جو اصطلا حات استعمال ہوتی ہیں، ان کے نام کو پروکر ایک طویل خطبہ بنایا۔

’’ فتاویٰ رضویہ’’ کی اشاعت اول12 ضخیم مجلدات میں ہوئی، امام احمدر ضاؒ فتاویٰ رضویہ کی جلد اول کی اشاعت کے وقت اپنے خطبۃ الکتاب کے بعد صفتہ الکتاب کے عنوان کے تحت اپنی اس کاوش کے متعلق رقمطراز ہیں :”1297ھ میں والد ماجد مولانا محمد نقی علی خاں قادری برکاتی بریلوی کے وصال کے بعد سے قبل12 برس تک فتوے لکھے مگر ان کے جمع کرنے کا خیال نہ آیا ا وراس کے بعد دور دور کے ملکوں سے اگر سوال دس یا زیادہ بار آیا تو کتاب میں ایک ہی بار جواب درج کیا یوں کثیر فتوے دیے جاتے رہے اور اب تک1335ھ میرے فتاویٰ سات مجلد کبیر تک پہنچ گئے ہر جلد1400 صفحات سے1600 تک پہنچی اور ہنوز جہاں تک وہ جود و کرم والا چاہے افزائش ہی ہے۔

پس احباب نے مجلدات کے حجم بھاری دیکھ کر فتاوے کو12 جلدوں میں تقسیم کیا او راس کے بعد جو مولیٰ تعالیٰ عطا فرمائے گا وہ اس کی مدد اکبر سے عنقریب ذیل فتاویٰ ہوجائے گا اور میں نے اس کا نام”العطایا النبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ “ رکھا۔ اللہ اسے اپنی رضا کا وسیلہ بنائے اور دونوں جہاں میں مجھے اور اپنے بندوں کو اس سے نفع پہنچائے“۔

مفتی ڈاکٹر محمد اسلم رضا تحسینی نے جب فتاویٰ رضویہ کی اشاعت 2016ء میں کی اس کے پیش لفظ میں فتاویٰ رضویہ جلد اول کے متعلق رقم کیا کہ یہ اول جلد پہلی بار امام اہل سنت امام احمد رخا خاں قادری بریلوی ؒ کی حیات میں” مطبع اہلسنت“ بریلی شریف سے زیر نگرانی صدر الشریعہ مولانا مفتی امجد علی1335ھ میں شائع ہوئی۔

دوسری جلد اعلیٰ حضرت کے وصال کے بعد 1344ھ میں شائع ہوئی اور یہ سلسلہ اشاعت جاری رہا یہاں تک کہ ۱۴۱۵ ھ /1994ء میں رضا اکیڈمی بمبئی نے فتاویٰ رضویہ کو12 ضخیم بڑے سائز کی جلدوں میں شائع کیا اور رسائل میں جو عربی ،فارسی ،عبارتیں تھیں ان کا ترجمہ کیا، تمام مآخذ کا استخراج کیا اور نئی پیراگرافنگ کرکے اس کو جدید انداز میں شائع کیا۔

ان تمام مجلدات میں22000 صفحات ہیں جب کہ6847فتوے اور206رسائل شامل ہیں۔ بعد میں مفتی اعظم علامہ مفتی عبدالقیوم ہزاروی نے ایک ٹیم کے ذریعے اس کی جدید پیرا بندی اور عربی و فارسی عبارات کے تراجم نیز حوالہ جا ت کی تخریج کے سات جدید انداز سے 31 جلدوں میں شائع کیا جو اب تک لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو چکا ہے۔ اس فتاویٰ کی علمی اہمیت کا اس بات سے اندازاہ لگایا جا سکتاہے کہ فتاویٰ رضویہ پر اب تک 6 اسکالرز پی۔ ایچ۔ ڈی کی اعلیٰ سند حاصل کر چکے ہیں۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید