سیّد یوسف رضا گیلانی
(چیئرمین سینیٹ آف پاکستان)
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے عبقری ہیں۔ ان کی حیرت انگیز ذہانت و فطانت جودتِ طبع، کمال فقاہت، تبحر علمی اور علوم جدیدہ و قدیمہ پر کامل عبور کو دیکھ کر انسان ششدر رہ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کس طرح ایک انسان میں اتنی خوبیاں جمع فرما دیتا ہے۔ یقیناً اللہ اس بات پر قادر ہے۔
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ؒ ایک بڑے عالم ، مفکر اور مسلم رہنما تھے، ان کی ہزار کے قریب تصانیف، ترجمہء قرآن ’’ کنزالایمان ‘‘ فتاوٰی کا مجموعہ’’ فتاوٰی رضویہ‘‘ اور اُن کانعتیہ کلام ’’حدائق بخشش‘‘ سب اپنی جگہ اہم و مسلم ہیں مگر بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں اُن کا پیش کردہ ھدیہء سلام ’’مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘کا تو کہنا ہی کیا جو آج ساری دنیا کے مسلمانوں کی ہر دینی محفل میں پڑھا جاتا ہے، جو کہ ان کے سچے عاشق رسول ہونے کی علامت ہے۔
میرے نزدیک اعلیٰ حضرت بریلوی ؒ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ برصغیر پاک و ہند کے ان اولیائے کرام کی جماعت کے سچے وارث اور جانشین تھے کہ جن کی بدولت اس ظلمت کدئہ کفر میں اسلام کا نور پھیلا ۔ یہی سب سے بڑی دلیل ہے وہ یہ کہ آپ دورِ حاضر کی کسی بھی بڑی سے بڑی علمی شخصیت کا نام لے لیں تو اس سے صرف اس کی مخصوص شخصیت کا ہی تصور اُبھرتا ہے لیکن جب احمد رضا ؒ نام زبان پر آتا ہے تو معا ً ”عشق رسولؐ اور محبت رسولؐ “کا لاحقہ بھی زبان پر آتا ہے اور ذہن کہتا ہے وہی احمد رضا خان جس کی ہر ہر ادا سنت مصطفیٰ ہے۔ جس کے قلم سے علم کے دریا رواں ہیں اور دریا کی ہر ہر لہر سے” مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام“ کی دلنواز صدا گونجتی ہے۔
”محبت رسول“ اور فروغ عشق مصطفیٰﷺ یہی وہ مرکزی نکتہ ہے کہ جس کے گرداعلیٰ حضرت بریلویؒ نے مسلمانان برصغیر پاک و ہند کو جمع کرکے اسلامی سیاست کے رہنما اصول وضع کیے، اور جو آگے چل کر تحریک پاکستان کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ انہوں نے ہر اس شخصیت، ادارہ اور پارٹی سے مسلمانوں کو علیحدہ ہونے اور اس کا بائیکاٹ کرنے کی تلقین کی جو” محبت رسول اللہ “ کو مٹانے اور” سنت رسول اللہ“ کو ترک کرنے کی راہ بتاتی ہو۔
یہ امام احمد رضا محدث بریلویؒ ہی تھے جنہوں نے سب سے پہلے 1919ء اور پھر1920ء میں ہندوؤں اور انگریزوں کے خلاف فتویٰ صادر کر کے اس وقت کے مسلم لیڈروں کی رہنمائی کی کہ ہندو اور انگریز دونوں مسلمانوں کے دشمن ہیں، یہ مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہو سکتے، مسلمانوں کو محبت رسول سے سرشار ہو کر خود اپنی آزادی کی جدوجہد کرنی ہوگی، اور انتباہ کیا کہ:” مسلمان ہرگز ہر گز فریب میں نہ آئیں، اس لیے کہ انگریز اگر چلے بھی گئے تو مسلمان ہندوؤں کے غلام بن جائیں گے“
ادارئہ تحقیقات امام احمد رضاکراچی اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخاں فاضل بریلویؒ کی علمی و دینی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی اسلامی معاشی تعلیمات اور بلا سود بینکاری کے حوالے سے ان کے پیش کردہ نظریات کو عام کرتے ہوئے ”Modern Applications of the Economy Visionory Insights of Imam Ahmed Raza “ کے عنوان سےکراچی میں45 ویں امام احمد رضا کانفرنس کا اہتمام کر رہا ہے۔
میں اس احسن اقدا م پر ادارئہ تحقیقات امام احمد رضا کو دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اسلامی معاشی تعلیمات،کاغذی کرنسی نوٹ کے استعمال کا جواز اور بلا سود بینکاری کے آسان طریقہ کار پر امام احمد رضا خاں فاضل بریلویؒ کی کتب ”تدبیر فلاح و نجات و اصلاح“۔ ”کفل الفقیہ الفاھم“وغیرہ نہایت اہمیت کی حامل ہیں، بینک انڈسٹری کو ان سے بھر پور استفادہ کی ضرورت ہے۔ امید ہے اس سے بینکنگ انڈسٹری کو روشن رہنما اصول ملیں گے۔