یومِ استحصالِ کشمیر کے حوالے سے منعقدہ ایک مشاعرے میں شرکت کیلئے ریڈیو پاکستان لاہور جانیکا اتفاق ہوا۔ پروگرام سے قبل لاہور اسٹیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل احمر بسرا کے دفتر میں شہر کی ممتاز علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات جمع تھیں، حسبِ روایت مشاعرے سے پہلے چائے کی پیالیوں اور یادوں کے دریچوں کیساتھ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو موضوع ریڈیو پاکستان اور خصوصاً لاہور اسٹیشن کی موجودہ ناگفتہ بہ صورتِ حال بن گیا، یہ گفتگو محض ایک ادارے کی زبوں حالی پر افسوس تک محدود نہیں تھی بلکہ دراصل ہماری مجموعی ثقافتی ترجیحات کے زوال پر ایک اجتماعی نوحہ بھی تھی۔ تمام شاعر، ادیب اور دانشور بڑی حسرت سے اُس سنہری دور کو یاد کر رہے تھے جب ریڈیو پاکستان لاہور پورے پنجاب کا ایک مؤثر علمی، ادبی، ثقافتی اور اصلاحی مرکز ہوا کرتا تھا،یہ صرف ایک نشریاتی ادارہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا فکری اور تخلیقی مرکز تھا جہاں ادب، موسیقی، ڈراما، صحافت اور دانش ایک دوسرے سے ہم آغوش دکھائی دیتے تھے، یہاں کے اسٹوڈیوز میں صوفی تبسم، احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض، قتیل شفائی، احمد راہی، منیر نیازی اور دیگر نامور شعرا کے لکھے ہوئے ملی نغموں ، لوک گیتوں، ترانوں اور غزلوں کی دھنیں بنتیں اور ریکارڈ ہوتی تھیں، ان تخلیقات کو نور جہاں، مہدی حسن، فریدہ خانم، ثریا خانم، اقبال بانو ، غلام علی، نصرت فتح علی خان اور دیگر عظیم فنکار اپنی آوازوں کا جادو دیکر امر کر دیتے تھے۔ ریڈیو پاکستان نے صرف فن کو فروغ نہیں دیا بلکہ فنکار بھی پیدا کئے۔ موسیقی کے میدان میں یہ ادارہ ایک بڑی تربیت گاہ کی حیثیت رکھتا تھا، نامور موسیقار، طبلہ نواز، سارنگی نواز، بانسری نواز اور دیگر سازندے اس ادارے سے وابستہ رہے،یہاں صرف گانے ریکارڈ نہیں ہوتے تھے بلکہ فن کی باقاعدہ آبیاری کی جاتی تھی، نوجوان فنکار سینئر اساتذہ کی صحبت میں سیکھتے اور آگے بڑھتے تھے، ریڈیو پاکستان نے پاکستان کی کلاسیکی، نیم کلاسیکی اور لوک موسیقی کے تحفظ اور فروغ میں جو کردار ادا کیا ہے اسکا اعتراف کیے بغیر ہماری ثقافتی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔اسی طرح ادب اور نشریات کے میدان میں بھی یہ ادارہ ایک درسگاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اشفاق احمد، منو بھائی، عطا الحق قاسمی، امجد اسلام امجد، شجاعت ہاشمی، اے حمید، رشید احمد صدیقی ، خالد عباس ڈاراور بے شمار دوسرے اہلِ قلم اپنی تحریروں اور گفتگو کے ذریعے سامعین کی فکری تربیت کرتے تھے۔ مزاح ہو یا سنجیدہ ادب، سماجی مسائل ہوں یا قومی موضوعات، ہر میدان میں ریڈیو پاکستان ایک رہنما کردار ادا کرتا تھا،ریڈیو کے پروگرام صرف تفریح نہیں بلکہ علم، آگہی اور شعور کا ذریعہ بھی ہوتے تھے۔ ریڈیو ڈراما تو ایک منفرد کارنامہ تھا، باقاعدگی سے ڈرامے لکھے، ریکارڈ اور نشر کئے جاتے تھے، سماجی موضوعات پر لکھے گئے ان ڈراموں نے نہ صرف لاکھوں سامعین کو متاثر کیا بلکہ سیکڑوں اداکاروں، مصنفوں، تکنیکی ماہرین اور دیگر کارکنوں کو روزگار بھی فراہم کیا۔ ریڈیو پاکستان ہی وہ درسگاہ تھی جہاں سے بعد میں ٹیلی وژن، فلم اور تھیٹر کے بیشمار بڑے نام پوری آب وتاب سے جگمگائے اور ایک دنیا کو متاثر کیا، یوں یہ ادارہ فن پرور بھی تھا اور غریب پرور بھی، کیونکہ اس کے دروازے صلاحیت رکھنے والے ہر فرد کیلئے کھلے رہتے تھے۔
ریڈیو پاکستان لاہور کی وسیع و عریض عمارت ہر وقت زندگی اور سرگرمیوں سے چہکتی رہتی تھی، اہلِ قلم، فنکار اور دانشور مسلسل آتے جاتے دکھائی دیتے، پروڈیوسروں کے کمروں میں علمی و ادبی نشستیں جاری رہتیں، نئے پروگراموں کی منصوبہ بندی ہوتی اور تخلیقی سرگرمیوں کا ایک دلکش ماحول قائم رہتا، نوجوان ادیب اور شاعر اپنے سینئرز سے رہنمائی حاصل کرتے، فنکار ایک دوسرے سے سیکھتے اور یوں ایک صحت مند علمی و ثقافتی فضا تشکیل پاتی تھی۔ مگر وقت کیساتھ ساتھ حالات بدلتے گئے،نئی ٹیکنالوجی آئی، ذرائع ابلاغ کی نوعیت تبدیل ہوئی اور حکومتی ترجیحات بھی بدل گئیں، بدقسمتی سے ان تبدیلیوں کے دوران ریڈیو پاکستان کو وہ توجہ نہ مل سکی جسکا وہ مستحق تھا، نتیجتاً اس عظیم ادارے کو مالی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، آج صورتحال یہ ہے کہ پروڈیوسروں کے اکثر کمرے بند یا ویران نظر آتے ہیں، کہیں کہیں سرگرمیوں کی رمق ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر وہ وسعت، تنوع اور تخلیقی توانائی دکھائی نہیں دیتی جو کبھی اس ادارے کی شناخت تھی۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک آج بھی اپنے قومی ریڈیو کے اداروں کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں،برطانیہ کا بی بی سی ریڈیو، جرمنی، فرانس، ترکی اور دیگر ممالک کے عوامی نشریاتی ادارے جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال کر آج بھی قومی ثقافت، زبان اور فکری ورثے کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ریڈیو پاکستان کو محض ایک سرکاری ادارہ سمجھنے کے بجائے قومی ثقافتی اثاثے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔حکومت کو چاہئے کہ اس تاریخی اور قومی اہمیت کے حامل ادارے کی بحالی اور استحکام کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔جدید آلات، مناسب بجٹ، تخلیقی پروگراموں کی سرپرستی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے اسے دوبارہ فعال بنایا جا سکتا ہے۔ حکومت یہ بات مدنظر رکھے کہ بچت کا راستہ علمی، ادبی اور ثقافتی اداروں کے وسائل کم کرنے میں نہیں بلکہ غیر ضروری سرکاری اخراجات، پروٹوکول اور فضول خرچیوں میں کمی لانے میں تلاش کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ قومیں صرف معیشت سے نہیں بنتیں،ان کی روح بھی ہوتی ہے اور اس روح کی غذا ادب، فن، موسیقی، زبان اور ثقافت ہوتے ہیں۔جب کسی قوم کی علمی، ادبی، ثقافتی اور اصلاحی زندگی کمزور پڑ جائے تو معاشی ترقی بھی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ زندہ قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے نہیں بلکہ اپنے فکری، ادبی اور ثقافتی اداروں سے پہچانی جاتی ہیں، ریڈیو پاکستان لاہور ہماری قومی یادداشت کا ایک روشن باب ہے، اسے ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی ضرورت سمجھ کر زندہ رکھنا ہوگا۔