• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آجکل میں ایک بہت دل کے قریب ملک ناروے میں ہوں اورناروے سے میری محبت کی کئی وجوہات ہیں،پہلی وجہ یہ ہے کہ یہاں ضلع گجرات، خصوصاً تحصیل کھاریاں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کی بڑی تعداد آباد ہے، اسی لیے بعض لوگ محبت سے اسے کھاروے بھی کہتے ہیں،یہاں آکر ایک عجیب سی اپنائیت محسوس ہوتی ہے۔ پہلی مرتبہ 2007ء میں جمشید مسرور صاحب کی دعوت پر ایک مشاعرے میں شرکت کیلئے ناروے آئی تھی اور اس دلفریب ملک کی محبت میں ایسی گرفتار ہوئی کہ ایک سہانی یاد کی طرح یہ ہمیشہ میرے حافظے میں رہا۔یہاں کا موسم،خوب صورت مناظر اور سب سے بڑھ کر لوگ مجھے بہت اچھے لگے،مثبت سوچ، روشن خیالی،زندگی سے محبت،تعصب سے دوری اور انسانی احترام یہاں کی سماجی زندگی کی نمایاں خصوصیات محسوس ہوئیں۔یہاں رہنے والے پاکستانیوں میں بھی ان معاشرتی اقدار کی جھلک دکھائی دیتی ہے، کیونکہ انسان جس معاشرے میں رہتا ہے، اس کی بہت سی خوبیاں غیر محسوس طور پر اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں۔اس بار گیارہ برس بعد چوتھی مرتبہ ناروے آنے کا موقع ملا۔پاکستان ڈے کی تقریبات کے سلسلے میں چوہدری اظہر اقبال صاحب کی دعوت نے یادوں کو تروتازہ کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ناروے میں پاکستانی ایمبیسی کی 14 اگست تقریب میں شرکت کا موقع ملا تو بچوں کی منفرد اور خوب صورت شمولیت نے خاص طور پر متاثر کیا۔عام طور پر یومِ آزادی کی تقریبات میں بچوں کو چاروں صوبوں کے ثقافتی لباس پہنا کر پروگرام پیش کروا دیے جاتے ہیں، لیکن یہاں بچوں نے پاکستان کے ہر ادارے کی نمائندگی کی۔محسوس ہوا جیسے پورا پاکستان ایک اسٹیج پر سمٹ آیا ہو، یہ سرگرمی محض تفریح نہیں بلکہ بچوں کو اپنے ملک، اس کے اداروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے متعارف کرانے کا ایک خوب صورت طریقہ تھی۔ اسی تقریب میں ناروے کی پارلیمنٹ کے رکن فرخ قریشی صاحب سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے محبت سے پارلیمنٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت دی۔شام چار بجے پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو دیکھا پارلیمنٹ کے گرد نہ ناکہ بندی ہے نہ پولیس کی نفری اور نہ خوف ۔عام شہریوں کی رسائی اور پارلیمنٹ کے درمیان فاصلہ بہت کم محسوس ہوا،سکیورٹی کے معمول کے مراحل کے بعد فرخ قریشی صاحب نے ہمیں پارلیمنٹ کے مختلف حصے دکھائے اور وہاں موجود تاریخی یادگاروں اور پارلیمانی روایات کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔یہ دورہ میرے لیے ناروے کی جمہوریت کو کتابوں کے بجائے عملی زندگی میں دیکھنے کا موقع تھا۔یہاں 18 برس کی عمر میں ووٹ دینے اور ممبر منتخب ہونے کا حق ملتا ہے اور نوجوانوں کی سیاسی شرکت کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ،مختلف پس منظر رکھنے والے افراد پارلیمنٹ تک پہنچتے ہیں،ملازمت پیشہ افراد بھی انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں اور منتخب ہونے کی صورت میں اپنی پارلیمانی ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے رخصت حاصل کر سکتے ہیں،یوں سیاست محض روایتی سیاسی خاندانوں یا مستقل سیاست دانوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ عام شہری بھی اپنی اہلیت اور عوامی اعتماد کے ذریعے قومی خدمت کا حصہ بن سکتے ہیں،خود فرخ قریشی نے پولیس کے محکمے میں ہوتے ہوئے الیکشن لڑا اور منتخب ہونے کے بعد چھٹی لی۔ناروے میں عدلیہ اپنے فیصلوں میں آزاد ہے، قانون سازی کا اختیار منتخب پارلیمنٹ کے پاس ہے، جبکہ پولیس اور دیگر ریاستی ادارے اپنی قانونی حدود میں کام کرتے ہیں،اختیارات کی یہ تقسیم اداروں کے درمیان توازن قائم کرتی ہے،طلبہ کو باقاعدگی سے پارلیمنٹ کے دورے بھی کرائے جاتے ہیں تاکہ وہ کم عمری ہی سے جمہوری اداروں، پارلیمانی نظام اور اپنی شہری ذمہ داریوں کو سمجھ سکیں۔پارلیمنٹ کی دیوار کے ساتھ عوام کیلئے مختص پارک بھی اس بات کی علامت ہے کہ شہری اپنی آواز منتخب نمائندوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ناروے کی پارلیمنٹ میں مختلف قومیتوں اور پس منظر رکھنے والے افراد کی نمائندگی اس معاشرے کے کثیرالثقافتی مزاج کی عکاس ہے،ایرانی نژاد سپیکر اسمبلی سمیت مختلف تارکینِ وطن پس منظر رکھنے والے لوگ بھی سیاسی نظام میں اہم ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، انسانی حقوق، انسانی وقار، مساوات اور آزادیٔ اظہار کے حوالے سے ناروے کا کردار بھی قابلِ احترام ہے۔یہاں جمہوریت محض انتخابی عمل نہیں بلکہ شہری زندگی کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔اس کے مقابلے میں پاکستان کے حالات یقیناً مختلف ہیں۔ہماری تاریخ، آبادی، سیاسی ارتقا اور سماجی مسائل کا تقابل ناروے سے براہِ راست نہیں کیا جا سکتا، لیکن جمہوری اقدار کے حوالے سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ہمارے ہاں بھی آئین، پارلیمنٹ، عدلیہ اور دیگر ادارے موجود ہیں، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اداروں پر اعتماد، قانون کی بالادستی، شفافیت، برداشت اور عوامی جواب دہی کو مزید مضبوط کیا جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ احساس پیدا ہونا چاہیے کہ منتخب نمائندے حکمران نہیں،عوام کے نمائندے اور خادم ہیں۔ پاکستان کمیونٹی ناروے کے زیرِ اہتمام چوہدری اظہر اقبال نے ایک بڑے ہال میں پاکستانی اوورسیز کنونشن منعقد کیا جس میں برطانیہ سے سید قمر رضا بخاری اور پاکستان سے راقم خصوصی طور پر شریک ہوئے، جرمنی سے اعجاز حسین پیارا،بلجیم سے راجہ سجاد حسین، اٹلی سے زوہیب اور برطانیہ سے محمود اصغر بھی موجود تھے،ناروے میں مقیم پاکستانیوں کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔ سید قمر رضا بخاری نے نہایت شائستگی اور انکساری سے خود کو اوورسیز پاکستانیوں کا خادم قرار دیا، انہوں نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بڑھتی ہوئی ترسیلاتِ زر کو ملکی معیشت کیلئے حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے وطن سے مضبوط تعلق، پاکستان میں سرمایہ کاری اور قومی ترقی میں کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔بیرونِ ملک مقیم پاکستانی واقعی پاکستان کے غیررسمی سفیر ہیں،وہ اپنی محنت سے نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ ملکی معیشت کو بھی سہارا دیتے ہیں،میرے خیال میں قومی اعزازات کے اصل حق داروں میں وہ پاکستانی ضرور شامل ہونے چاہئیں جو دیارِ غیر میں رہتے ہوئے پاکستان کا وقار بلند کرتے ہیں، اپنی شناخت پر فخر کرتے ہیں اور ملک کے ساتھ عملی رشتہ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان میں انویسٹ منٹ کرتے ہیں۔فرخ قریشی جیسے نوجوان پاکستانی نژاد پارلیمنٹیرین سے ملاقات نے اس احساس کو مزید گہرا کیا کہ سیاست کا اصل حسن خدمت، اہلیت اور ذمہ داری میں ہے۔ ان کی سادگی، متحرک مزاج اور مسائل کو حل کرنے کی کوشش قابلِ تحسین ہے دل چاہتا ہے کہ پاکستان کے نوجوان سیاست دان بھی سیاست کو اقتدار کے بجائے عوامی خدمت کا ذریعہ بنائیں۔ ،ناروے سے میری محبت کا راز شاید اب میرے لیے پہلے سے زیادہ واضح ہے۔ خوب صورت مناظر، خوش گوار موسم یا یہاں کے لوگوں کی شائستگی کی وجہ کے ساتھ ساتھ اس محبت کے پیچھے وہ اقدار بھی ہیں جو انسانی وقار، مساوات، قانون کی حکمرانی، برداشت اور عوامی خدمت کو اہمیت دیتی ہیں، شاید میں نے ان اصولوں کو شعوری طور پر کبھی نہیں پڑھا تھا مگر کہیں نہ کہیں میری روح ہمیشہ ان کی طرف کھنچتی رہی تھی ، اس بار ناروے آکر محسوس ہوا کہ بعض محبتوں کی وجہ ہمیں بہت دیر بعد سمجھ آتی ہے۔

تازہ ترین