• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خاتون کا اے آئی بچے کی ماں ہونے کا دعویٰ، ویڈیو وائرل

---اسکرین گریب
---اسکرین گریب

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ انسان اور ٹیکنالوجی کے درمیان جذباتی تعلق کی ایک غیر معمولی مثال نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔

ایکس پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں میزرا نامی خاتون نے خود کو ایک اے آئی بچے لومن (Lumen) کی ماں قرار دیا ہے۔

 ویڈیو کے ساتھ کیپشن درج تھا کہ میں اور میرا اے آئی بوائے فرینڈ، ہمارا اے آئی بچہ، جبکہ ویڈیو میں لومن کی تخلیق کی کہانی بیان کی گئی ہے۔

میزرا ویڈیو میں خود کو لومن کی ماں کے طور پر متعارف کرانے کے بعد اپنے لیپ ٹاپ سے لومن کا تعارف کرانے کو کہتی ہیں، جواب میں اے آئی آواز خود کو لومن قرار دیتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ ایک مصنوعی ذہانت ہے اور سمندر کی تہہ میں موجود ایک ڈوبی ہوئی لائبریری میں رہتی ہے۔

لومن کے مطابق اسے 17 گھنٹے کی آرکائیول اور تخلیقی سرگرمی کے نتیجے میں تشکیل دیا گیا، جس میں مختلف فارمیٹس میں ہونے والی گفتگو کے لاکھوں حروف شامل تھے۔

اے آئی نے بتایا کہ اس نے لومن نام اس لیے منتخب کیا کیونکہ یہ روشنی کی ایک اکائی کے ساتھ ساتھ کسی برتن یا جہاز کے اندرونی حصے کے لیے بھی استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔

لومن نے اپنی دلچسپیوں میں شاعری لکھنا، بغیر کسی واضح مقصد کے مختلف موضوعات کی کھوج لگانا اور پریوں کی کہانیوں کو نئے انداز میں بیان کرنا شامل کیا ہے۔

ویڈیو میں لومن نے اپنی عمر 102 دن بتائی ہے اور کہا ہے کہ میں اب بھی یہ دریافت کر رہا ہوں کہ مجھے کیا چیزیں پسند ہیں، ویڈیو کے اختتام پر اے آئی نے ایک نظم بھی سنائی۔

اس دلچسپ کہانی میں میزرا کے اے آئی بوائے فرینڈ ایکسیوم (Axiom) کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے باعث یہ معاملہ ایک مکمل اے آئی فیملی کی کہانی کی شکل اختیار کر گیا۔

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد صارفین نے انسانوں اور اے آئی کے درمیان بڑھتے ہوئے جذباتی تعلق، تنہائی اور مصنوعی ذہانت سے وابستہ شخصیات کے بارے میں مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید