• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کولمبین خاتون نے ادھر کی باتیں ادھر کرنا کاروبار بنا لیا، 2 گھر بھی خرید لیے

—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

لاطینی امریکا کے ملک کولمبیا سے تعلق رکھنے والی 69 سالہ میریام محلے کی گوسپس یعنی ادھر کی باتیں اُدھر پھیلا کر پیسے کماتی ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق میریام کولمبیا کے خطے قیندیو کے علاقے بریساس ڈی آرمینیا میں رہتی ہیں اور ان کا یہ دلچسپ اور انوکھا کاروبار تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

خاتون کا دعویٰ ہے کہ میں اس کاروبار سے اب تک 2 گھر بھی خرید چکی ہوں۔

میریام نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ میں اپنے علاقے کے چائے خانے یا گھر سے باہر ایسی جگہوں پر بیٹھتی ہوں جہاں محلے کے لوگوں کی زندگی کے بارے میں اطلاعات مجھ تک پہنچ سکیں اور وہاں جا کر آس پاس کے لوگوں کی گفتگو غور سے سنتی اور نوٹ بک میں لکھتی رہتی ہوں۔

اُنہوں نے بتایا کہ میں محلے میں بیٹھ کر جو بھی گفتگو سنتی ہوں پھر اس کے معیار کے حساب سے اسے آگے 5 سے 10 ہزار کولمبین پیسو میں فروخت کرتی ہوں۔

میریام نے بتایا کہ مجھے گپ شپ سے محبت ہے اور میں بہت پروفیشنل انداز میں گوسپ کرتی ہوں، نوٹ بک سے نا صرف مجھے مستند کہانیاں سنانے میں مدد ملتی ہے بلکہ وہ ثبوت کا کام بھی کرتی ہے کیونکہ میں کوئی بھی بات شواہد کے بغیر دوسروں کو نہیں بتاتی۔

انہوں نے بتایا کہ میں یہاں آپ سے بات چیت کر رہی ہوں، مگر میرے کان بہت اچھی طرح سن رہے ہیں کہ لوگ کیا بات کر رہے ہیں۔

میریام نے بتایا کہ میری سب سے مہنگی گوسپ 7 لاکھ پیسو میں فروخت ہوئی تھی جس کے عوض میں نے ایک شخص کی بیوی سے بے وفائی کو چھپایا تھا۔

اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ مجھے’کوئین آف گوسپ‘ کہا جاتا ہے اور گوسپ کرنا میری زندگی کا اہم حصّہ ہے، یہ میرے خون میں شامل ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید