• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب بھی کسی ملک کا سفر کروں ،میری اولین ترجیح وہاں کے تاریخی، ثقافتی اور روحانی مقامات کی زیارت ہوتی ہے،ساتھ یہ جاننے کی بھی کوشش کرتی ہوں کہ وہاں کی حکومتوں نے عوامی فلاح و بہبود کیلئے کون سے منصوبے شروع کیے ہیں اور ان کے نتائج کیا ہیں۔

ان دنوں میں اسپین کے شہر بارسلونا میں ہوں، اب تک بارسلونا شہر کے اندر اور اطراف کے کئی مقامات کا دیدار کر چکی ہوں ، بلند ترین پہاڑی پر واقع چرچ تبی دابو، دو اڑھائی صدیوں سے زیرِ تعمیر اس سال مکمل ہونے والا ساگرادا فامیلیا، شاہی قلعے اور مونٹ سیراٹ کے دورے نے جہاں بہت خوشی سے سرشار کیا ہے، وہیں خوبصورتی، نفاست، صفائی اور بہترین انتظامات نے بھی بے حد متاثر کیا۔

سب سے زیادہ قابلِ تعریف بات یہ لگی کہ اسپین نے اپنی تاریخی اور ثقافتی وراثت کو کس محبت اور ذمہ داری کے ساتھ محفوظ رکھا ہے،صدیوں پرانے قلعوں، عمارتوں اور نوادرات کو نہ صرف سنبھال کر رکھا گیا ہے بلکہ انہیں اس انداز سے عوام کے لیے پیش کیا گیا ہے کہ روزانہ ہزاروں سیاح ان کا رخ کرتے ہیں،اس سے ایک طرف حکومت کو آمدنی حاصل ہوتی ہے اور دوسری طرف لوگوں کو علم، تفریح اور انسانی تاریخ سے آگاہی ملتی ہے۔بارسلونا کا شاہی قلعہ جو آج ایک شاندار میوزیم کی صورت اختیار کر چکا ہے کو دیکھتے ہوئے مجھے بار بار لاہور کا شاہی قلعہ یاد آتا رہا،ہمارا قلعہ تعمیراتی حسن، تاریخی اہمیت اور ثقافتی عظمت کے اعتبار سے دنیا کے بہترین آثارِ قدیمہ میں شمار ہو سکتا ہے لیکن افسوس کہ اس کی بیرونی دیواریں جگہ جگہ خستہ حالی کا شکار ہیں،بعض مقامات پر اینٹیں تک اکھاڑ کر لے جائی جاتی ہیں اور اس قومی ورثے کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔اندرونی حصوں میں بھی سیاحوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لیے خاطر خواہ سرگرمیوں اور جدید نمائشوں کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔اسپین میں یہ دیکھ کرخوشی ہوئی کہ ہر عوامی مقام، خواہ وہ چرچ ہویاقلعہ ، پارک ہو یا لائبریری، وہاں بچوں کی دلچسپی کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے ، جھولے اور مختلف تفریحی سرگرمیاں موجود ہوتی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پورے خاندان خوشی سے ان مقامات کا رخ کرتے ہیں اور بچے بھی تاریخ و ثقافت سے جڑتے ہیں۔

بارسلونا میں دو ایسی چیزیں دیکھنے کو ملیں جنہوں نے مجھے بے حد حیران کیا،پہلی چیز یہاں کا کئی منزلہ قبرستان ہے،دور سے نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شیشوں سے مزین کوئی بلند و بالا عمارت ہولیکن قریب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل ایک خوبصورت قبرستان ہے جو پارک کا منظر پیش کرتا ہے،پھولوں، درختوں اور سبزے سے آراستہ یہ جگہ خوف کے بجائے ایک عجیب سی طمانیت اور سکون کا احساس دلاتی ہےیہ قبرستان پہاڑی ڈھلوان پر تعمیر کیا گیاہے۔ یہاں قبریں نہیں بلکہ ایک مخصوص جگہ جو بظاہر بڑے کمرے کی طرح دکھائی دیتی ہے میں ایک قطار کی صورت بکسے رکھ دیے جاتے ہیں اورنام لکھ کر باہر کی طرف شیشہ لگا دیا جاتا ہے ، جب کمرہ بھر جاتا ہے تو اُس چند انچ پر چھت ڈال کر دوسری منزل بنا دی جاتی ہے، یوں تہہ درتدفین کے باعث ایک کمرے کی جگہ سینکڑوں لوگ دفنا دئیے جاتے ہیں۔سڑک سے گزرتے ہوئے درختوں کے جھنڈ اور پہاڑی ماحول کے درمیان یہ قبرستان ایک خوبصورت منظر پیش کرتا ہے،ہمارے ہاں قبرستان کا تصور عموماً خوف اور اداسی سے وابستہ ہے لیکن یہاں اسے اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ زندگی اور موت ایک دوسرے کے قریب محسوس ہوتے ہیں۔

بارسلونا کی دوسری قابلِ ذکر خصوصیت اس کی رہائشی منصوبہ بندی ہے، میں نے پورے شہر میں کوئی الگ تھلگ گھر یا وسیع و عریض کوٹھی نہیںدیکھی ، بہت خوشحال اور کامیاب کاروباری افراد بھی اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں، شہر کے اندر نجی ولاز یا وسیع کوٹھیوں کی تعمیر کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی، نتیجتاً پورا شہر بلند و بالا اپارٹمنٹس پر مشتمل دکھائی دیتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دفاتر بھی اپارٹمنٹس والی عمارتوں میں قائم ہیں ، اس طرزِ تعمیر کی وجہ سے شہر بے ہنگم انداز میں پھیلنے سے محفوظ رہتا ہے، ایک ہی عمارت میں سینکڑوں افراد کی رہائش، سہولتوں اور تحفظ کا انتظام ممکن ہو جاتا ہے جبکہ زمین کا ضیاع بھی کم سے کم ہوتا ہے۔

جب میں اس صورتحال کا موازنہ اپنےشہر لاہور سے کرتی ہوں تو ایک بڑا فرق محسوس ہوتا ہے،ہمارے ہاں شہر اس قدر بے ترتیب انداز میں پھیلتے ہیں کہ ایک شہر دوسرے شہر سے جا ملتا ہے،زرعی زمینیں کم ہوتی جاتی ہیں، ٹریفک کے مسائل بڑھتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں اضافہ ہوتا ہے،دوسری طرف وسیع و عریض سرکاری رہائش گاہیں آج بھی نوآبادیاتی دور کی یادگار کے طور پر موجود ہیں۔کہیں پچپن کنال کی کوٹھی ہے، کہیں اس سے بھی زیادہ رقبے پر محیط سرکاری رہائش جبکہ ہزاروں سرکاری ملازمین اور بے گھر افراد مناسب رہائش سے محروم ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ماضی کی ان فرسودہ روایات پر نظرِ ثانی کریں اور جدید جمہوری معاشروں کے کامیاب ماڈلز سے سیکھیں،اگر وسیع سرکاری رہائش گاہوں کی جگہ جدید پندرہ یا بیس منزلہ اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں اور انہیں آسان اقساط پر سرکاری ملازمین اور کم آمدنی والے خاندانوں کو فراہم کیا جائے تو نہ صرف رہائش کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے بلکہ ماحول، زمین اور شہری سہولتوں کا تحفظ بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔سمندر کنارے رونقیں دیکھ کر سوچتی ہوں کراچی کے ساحلوں کی کب سُنی جائے گی۔

تازہ ترین