• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپنے والد اور والدہ کی قبروں کی تعمیر نوکیلئے میں نے لاہور کی بہاولپور روڈ کا رخ کیا، جہاں تجہیز و تکفین و تدفین کے سامان کی ایک بہت بڑی" مارکیٹ"ہے۔ میں نے اپنی گاڑی ایک بڑی "فرم "کے "دفتر "کے سامنے روکی اور اسکے ایم ڈی کے پاس گیا جو دفتر سے باہر اسٹول پر بیٹھا بال پنسل سے کان کی میل نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے اسے اپنا مسئلہ بیان کیا ، وہ اندر گیا اور وہاں سے ایک خوبصورت کیٹلاگ اُٹھا لایا جس میں مختلف ڈیزائن کی قبریں تھیں ، اس نے یہ کیٹلاگ میرے سامنے رکھی اور کہا آپ قبر پسند فرمائیں ان میں سے کچھ قبریں اتنی خوبصورت تھیں اور ان کا طرزِ تعمیر اتنا مختلف تھا کہ لگتا تھا نیر علی دادا کی ڈیزائن کی ہوئی ہیں، کچھ قبریں نقاشی اور کچھ خطاطی کے کمالات کی حامل بھی تھیں ، کچھ پر چھتیں تھیں اور کچھ بغیر چھت کے تھیں ۔ بعض قبروں کے ساتھ چھوٹا سالان بھی تھا تا کہ مرحوم کو چہل قدمی کیلئےزیادہ دور نہ جانا پڑے ۔ ٹوئن بیڈ کی طرح ٹوئن قبروں کے ڈیزائین بھی کیٹلاگ میں موجود تھے میں نے ان میں سے دو سادہ سی قبروں کے ڈیزائن پسند کیے اور ایم ڈی صاحب سے معاملات طے کر کے اپنے دوسرے کام نمٹنانےکیلئے اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔

میں جتنی دیر یہ کیٹلاگ دیکھتا رہا، میرا ذہن اس دوران زندگی اور موت کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش میں بھی مشغول رہا مگر پھر میں نے سوچا کہ موت کی بجائے زندگی کےبارے میں کیوں نہ سوچا جائے کیونکہ موت تو ان دنوں ہمارے چاروں طرف دھمالیں ڈالتی نظر آ رہی ہے جبکہ زندگی کے آثار معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ موت کے ساتھ تو کچھ لوگوں کی رغبت کا یہ عالم ہے کہ وہ صبح کا آغاز ہوتے ہی موت کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ میرے ایک دوست ہیں وہ عموماً نماز فجر کے بعد میری طرف تشریف لاتے ہیں۔چہرےپر حزن و ملال کی کیفیت ہوتی ہے۔ غم واندوہ میں ڈوبے ہوئے لگتے ہیں۔ سلام دعا کے بغیر کہتے ہیں یار،" یہ موت کیا چیز ہے؟" میں اس وقت ناشتے کی میز پر ہوتا ہوں۔ رات اچھی نیند سونے کی وجہ سے طبیعت ہشاش بشاش ہوتی ہے۔ باد نسیم کے جھونکے مشامِ جاں کو معطر کر رہے ہوتے ہیں۔ رنگ برنگے پرندوں کی چہکار سنائی دے رہی ہوتی ہے۔ چنانچہ میں اسے کہتا ہوں میرے دوست، کیوں نہ ہم اپنی صبح کا آغاز موت کی بجائے زندگی سے کریں؟’’وہ کہتا ہے‘‘ کہ ’’زندگی تو رستے کا ایک پڑاؤ ہے ہماری اصل منزل تو موت ہی ہے!‘‘ میں کہتا ہوں"تم ٹھیک کہتے ہو لیکن یہ زندگی بھی اللہ ہی کی دی ہوئی ہے۔ اس کا حق بھی ادا کرو، انسان کو چاہیے کہ وہ موت کو خوش دلی سے قبول کرے لیکن جب تک زندہ ہے، اپنے ارد گرد کے ماحول کو ماتم کدہ نہ بنائے،" مگر میرا یہ دوست تو شادی کی تقریب میں بھی رونے لگتا ہے۔ حتیٰ کہ روتے روتے اس کی ہچکی بندھ جاتی ہے اور مجھ سے پوچھتا ہے یہ سب لوگ اتنے خوش کیوں نظر آ رہے ہیں، کیا انہیں موت یاد نہیں؟ میں خاموش رہتا ہوں کیونکہ مجھے علم ہے اس کے اپنے سولہ بچے ہیں!

میرا ایک اور دوست بھی موت سے بہت رغبت رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مقوی قسم کی معجونیں بھی بہت باقاعدگی سے استعمال کرتا ہے۔ اسے اُردو کے تمام شاعروں میں سے صرف فانی بدایونی پسند ہیں، وہ اکثر ان کے اس شعر پر سر دھنتا رہتا ہے۔

فانی ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گور و کفن

غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا

یا اسے قمر جلالوی کا یہ شعر بہت پسند ہے:

دبا کے قبر میں سب چل دیے دعا نہ سلام

ذرا سی دیر میں کیا ہو گیا زمانے کو

کتابوں میں سے" موت کا منظر عرف مرنے کے بعد کیا ہوگا ؟" اور" حسن پرستوں کا انجام" اسے پسند ہیں، اسے خوشبویات میں سے صرف مشک کافور کی خوشبو اچھی لگتی ہے، پھولوں میں سے قبر پر پڑے ہوئے گلاب کے پھول پسند ہیں۔ میرے اس دوست نے اپنی زندگی میں اپنی قبر تیار کر رکھی ہے اور ہر اتوار کو وہ اس میں لیٹ کر اخبار پڑھتا رہتا ہے۔

دوسری طرف ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں سرے سے موت یاد ہی نہیں ہے ۔ وہ اسی زندگی کو حاصل ِ زندگی سمجھتے ہیں۔ چنانچہ لوٹ مار اور مار دھاڑ میں مشغول رہتے ہیں۔انہیں تمام اچھے لطیفے کسی جنازے کو کاندھا دیتے وقت ہی یاد آتے ہیں اور وہ ساری گلوبل پالیٹکس کسی عزیز کے قلوں میں بیٹھ کر ڈسکس کرتے ہیں۔ ان کی تمام زندگی ہاہا، ہو ہو کرتے گزر جاتی ہے۔ کسی کی آنکھ کے آنسو ان کے دل پر کوئی اثر نہیں کرتے اور کسی کا دکھ انہیں اپنا دکھ محسوس نہیں ہوتا ۔ ایک اسی طرح کے صاحب سے میری آشنائی ہے۔ گزشتہ روز میرے پاس تشریف لائے ، اپنی جائیداد کی تفصیل بیان کرنے لگے، انہیں اس جائیداد کے حصول بلکہ اس پر قبضہ کیلئے جو جتن کرنا پڑے تھے وہ انہیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ وہ میرے علم میں تھے۔ آخر میں کہنے لگے یار، لاہور شہر میں موجود کسی خوبصورت سی عمارت کی نشاندہی کرو ، دولت سنبھالی نہیں جا رہی ، میں وہ خریدنا چاہوں گا ۔میں نے ان کا ہاتھ پکڑا ، اپنی گاڑی میں بٹھایا اور بہاولپور روڈ پر لے آیا ، میں نے قبروں کی کیٹلاگ میں سے ایک نہایت عالی شان اور خوبصورت قبر کی تصویر پر انگلی رکھی اور کہا " اس کے متعلق کیا خیال ہے؟" یہ سن کر انہوں نے بھر پور قہقہہ لگایا اور اپنے سامنے پھیلے ہوئے میانی صاحب کے قبرستان کو استہزائی نظروں سے دیکھنے لگے۔

تازہ ترین