• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جناب شفیق الرحمن ایک کرم ہم پر یہ کرتے تھے کہ طنز و مزاح پر مشتمل انگریزی کتابیں اور رسالے ہمیں گاہے گاہے ایک وزنی پیکٹ کی صورت میں ارسال کرتے رہتے تھے، چنانچہ ہمارے پاس’’ پنچ‘‘کے پرانے پر چوں کا ڈھیر اور کتابوں کی ڈھیریاں لگ گئیں ۔ گزشتہ ہفتے ان میں ہمیں دو کتابیں Two Thousand Insultsاور Two Thousand More Insults نظر آئیں ۔ ہم نے ان کتابوں کے اُردو نام ہتک آمیز مواد اور مزید ہتک آمیز مواد تجویز کیے ہیں۔ یہ کتابیں مختلف النوع افراد کے بارے میں دو دو ہزار کٹیلےجملوں پر مشتمل ہیں ۔ ہم نے قارئین کی دلچسپی کیلئے اس ہتک آمیز مواد کے کچھ حصے ترجمہ کیے ہیں اور انہیں اس کالم میں پورے دھڑلے کے ساتھ درج کر رہے ہیں کہ یہ وہ ہتک آمیز مواد ہے جو سنسر سے منظور شدہ ہے۔ اس ہتک آمیز مواد کا کچھ حصہ ذیل میں پیش خدمت ہے۔

میاں بیوی

وہ دانتوں کے علاج کیلئے ہمیشہ کسی خاتون دندان ساز کے پاس جاتا ہے دراصل اسے اس امر سے ریلیف ملتا ہے کہ خاتون خانہ کے برعکس یہ خاتون اسے منہ بند رکھنے کی بجائے منہ کھولنے کیلئے کہتی ہے۔

واضح اعداد و شمار کے باوجود وہ یہ بات تسلیم نہیں کرتا کہ غیر شادی شدہ کے مقابلے میں شادی شدہ افراد کی عمر طویل ہوتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ شادی شدہ افراد کی عمر طویل نہیں ہوتی بلکہ انہیں صرف محسوس ہوتی ہے۔ان کی شادی کو پانچ برس گزر گئے ہیں مگر خاتون خانہ نے شوہر کی ماہانہ آمدنی شوہر سے ابھی تک چھپا رکھی ہے۔

کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے سامنے گھٹنوں کے بل جھک جاتی ہے اور کہتی ہے کہ اب چار پائی کے نیچے سے نکل آؤ۔جھگڑے کی صورت میں وہ تلخی ختم کرنے کیلئے جلد ہی سمجھوتے پر پہنچ جاتے ہیں یعنی شوہر خیر سگالی کے طور پراپنی غلطی تسلیم کر لیتا ہے اور وہ خیر سگالی کے طور پر اسے معاف کر دیتی ہے۔

عورتیں اور عمر

اس کا ایک جڑواں بھائی ہے جو ہو بہو اس کے مشابہ ہے۔ ایک ہی روز پیدا ہونے والے اس بھائی بہن میں ایک معمولی سا فرق ہے اور وہ یہ کہ بھائی 49 سال کا ہے جبکہ وہ ابھی 39 سال ہی کی ہے۔ اس کا خاوند ڈپلومیٹ ہے چنانچہ وہ اپنی بیوی کی سالگرہ یا د رکھتا ہے، یہ بھول جاتا ہے کہ کتنی ویں سالگرہ ہے؟اسکی زندگی کے بہترین دس سال وہ تھے جو اس نے 29 اور 30برس کی عمر کے دوران گزارے۔ اسے وہ لوگ برے نہیں لگتے جو اس سے تعلقات کا ڈھونڈورا پیٹ دیتے ہیں، کیونکہ وہ جس عمر میں ہے اسے اس قسم کی پبلسٹی کی شدید ضرورت ہے۔

خود پرست

اس کا خیال ہے کہ اس کے چہرے سے شعاعیں پھوٹتی ہیں چنانچہ جب آپ اسے دیکھنے لگتے ہیں ، وہ دھوپ کی عینک آپ کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔اس کا قد پانچ چھ انچ اور اس کی انا چھ فٹ پانچ انچ ہے۔جب آپ اس کی ذہانت کی تعریف کریں گے تو وہ انکساری سے کہے گا میں شرط لگانے کو تیار ہوں کہ تم یہ بات ہر اس شخص کو کہتے ہو جو ذہین ہے۔اپنی گزشتہ سالگرہ پر اس نے اپنے والدین کو مبارک باد کا تار بھیجا !اس کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے محتاط رہیں، کیونکہ آپ اس شخص کے بارے میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

بور شخصیتیں

وہ اتنا بور ہے کہ ایٹمی حملے کے دوران بھی کوئی شخص اس کی خندق میں پناہ لینا پسند نہیں کرے گا !وہ صرف اسی صورت میں اپنی زبان کھولتا ہے جب اسکے پاس کہنے کیلئے کچھ نہیں ہوتا ۔وہ آپ کو کمپنی دیے بغیر پرائیویسی سے محروم کر دیتا ہے ۔اگر آپ کو ایک جگہ بیٹھے دو آدمیوں میں سے ایک سخت بور نظر آئے تو جان لیں کہ بور آدمی دوسرا ہے !وہ بہت کلچرڈ ہے وہ آپ کو ہر موضوع پر بور کر سکتا ہے۔اگر آپ اس کی کمپنی میں خوش ہوتے ہیں تو یہ آپ کی اپنی خوشی ہے ۔

آخر میں امریکہ میں مقیم شاعر احمد ندیم رفیع کی ایک دعائیہ نظم

اے مرے مالک ! مجھےکربِ رسائی نہ  دے 

ذوقِ سفر دے  مگر    آبلہ   پائی    نہ    دے 

 یا مری گویائی کو  جراَتِ گفتار   بخش 

یا  مرے   انفاس   کو   نغمہ سرائی    نہ   دے

یا مرے سوزِ دروں سے مجھے آزاد کر

یا لبِ فریاد کو شعلہ نوائی نہ دے

یا  مرے  احساس کی  کاٹ  دے ساری رگیں 

یا  کسی  خوش شکل  کو دستِ حنائی  نہ دے

علم و ہنر کے لئے، خام ہے میرا جنوں

درسِ خودی دے مگر دستِ گدائی نہ دے

ایسا نہ ہو  زخم   یہ،  بھر  نہ سکے  پھر کبھی

ایک  خطا  پر   ہمیں   اتنی   جدائی   نہ  دے 

ایسے  کسی  وقت سے  مجھ   کو  ہمیشہ  بچا  

سوچنا  چاہوں   مگر   کچھ  بھی سجھائی  نہ  دے

میری  ہر اک  چال  پر  تیری  نظر  ہے  جہاں

ایسے قفس  سے   مجھے  اذنِ رہائی نہ   دے

سامنے   رکھنا    مرا    نامۂ اعمال    جب 

اتنا کرم  کیجیو،  مجھ  کو   دکھائی   نہ  دے

تازہ ترین