پی آئی اے کی کراچی سے جدہ پہنچنے والی پرواز کے طیارے کے انجن نمبر دو میں پارکنگ کے دوران آگ کی اطلاع ملنے پر مسافروں نے ہنگامی اخراج کیا تاہم پی آئی اے کے ترجمان نے آگ لگنے کی تردید کی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایئر بس طیارے کو جدہ ایئرپورٹ کے پارکنگ اسٹینڈ پر پارکنگ کے دوران مذکورہ واقعہ پیش آیا جہاں انجن میں آگ کی اطلاع پر پائلٹ نے ہنگامی انخلاء کا عمل شروع کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافروں کو ہنگامی اخراج کے راستوں سے سلائیڈز کھول کر بحفاظت باہر نکال لیا گیا تاہم اس دوران چند مسافروں کو معمولی چوٹیں آئیں، مسافروں کو طبی معائنے اور علاج کے لیے جدہ ایئر پورٹ کے کلینک منتقل کیا گیا۔
جدہ ایئر پورٹ کے فائر شعبے کے حکام بھی فوری فائر بریگیڈ کے ہمراہ طیارے کے پاس پہنچے جہاں پی آئی اے جدہ حکام نے ایئر پورٹ کے تمام حکام اور سیکیورٹی ڈپارٹمنٹ کو فوری طور پر مطلع کیا جبکہ جدہ ایئرپورٹ حکام نے پی آئی اے کے عملے سے معاملے کے متعلق پوچھ گجھ بھی کی۔
دوسری جانب ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ طیارے کی جدہ ایئر پورٹ پر نارمل لینڈنگ ہوئی، طیارہ جیٹی پر لگا تھا کہ اس دوران گراؤنڈ اسٹاف نے طیارے کے ایک انجن میں آگ کا شبہ ظاہر کیا، پائلٹ نے ایس او پی کے تحت مسافروں کو باہر نکالنے کے لیے طیارے کے ایمرجنسی سلائیڈز (شوٹ) کھولے۔
ترجمان نے کہا کہ کچھ مسافر جیٹی کے ذریعے طیارے سے باہر آئے اور باقی مسافروں کو ایمرجنسی سلائیڈز (شوٹ) کے ذریعے طیارے سے باہر نکالا گیا جبکہ کارروائی کے دوران کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا اور تمام مسافر محفوظ ہیں۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق طیارے کی تفصیلی جانچ پڑتال کے بعد آگ کا شبہ غلط ثابت ہوا، متاثرہ طیارے کی جدہ لاہور پرواز 20 سے 22 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوگئی، جدہ لاہور پرواز کے 40 مسافروں کو ہوٹل بھیج دیا گیا جبکہ باقی مسافر گھر چلے گئے۔