• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہمیں معرکۂ حق کی طرح معرکۂ ترقی بھی جیتنا ہے: احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو: پی آئی ڈی
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو: پی آئی ڈی

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہمیں معرکۂ حق کی طرح معرکۂ ترقی بھی جیتنا ہے۔ پاکستان کی ترقی کےلیے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں اڑان پاکستان کے تحت 11 قومی اقتصادی مشنز میں سے ساتویں مشن پر بریفنگ دی گئی۔ 

اس حوالے سے جاری اعلامیہ کے مطابق ساتواں مشن انسانی وسائل اور مہارتوں کے فروغ سے متعلق ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی بار ترقی کے منصوبے بنائے۔ سیاسی عدم استحکام نے پالیسیوں کے تسلسل کو متاثر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں معرکۂ حق کی طرح معرکۂ ترقی بھی جیتنا ہے۔ پاکستان کی ترقی کےلیے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کا مقصد سماجی شعبوں میں بہتری لانا تھا۔ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہونے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ صرف منصوبے بنانے کا وقت نہیں، ان پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔ ضلع کی سطح پر بااختیار محکمے قائم کرنا ہوں گے۔ عوام کو بنیادی سہولتیں ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہوں گی۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ایک صوبائی سیکریٹری پورے صوبے کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ اختیارات کو مقامی حکومتوں تک منتقل کرنا ہوگا۔ پاکستان کی شرح خواندگی 63 فیصد ہے۔ اس شرح کے ساتھ ہم مطلوبہ رفتار سے ترقی نہیں کرسکتے۔

احسن اقبال کی زیرصدارت ہاؤسنگ، تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ سے متعلق قومی اقتصادی مشن کا اجلاس ہوا۔ 

اس دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ برآمدات میں نمایاں اور پائیدار اضافے کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔ 2035 تک برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک لے جانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ تعمیراتی شعبہ 72 متعلقہ صنعتوں کو سہارا دیتا ہے۔ ملکی روزگار میں تعمیراتی شعبے کا حصہ تقریباً 9.5 فیصد ہے۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان میں رہائش کی سالانہ طلب 7 لاکھ یونٹس ہے۔ رہائش کی سالانہ رسد صرف 2 لاکھ 50 ہزار یونٹس ہے۔ پاکستان کو ہر سال تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار مکانات کی کمی کا سامنا ہے۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک کی شہری آبادی 2017 میں 7 کروڑ 60 لاکھ تھی۔ 2023 میں 9 کروڑ 40 لاکھ ہوگئی۔ محدود اراضی کے بہتر استعمال کیلئے عمودی تعمیرات کو فروغ دینا ہوگا۔ زرعی زمینوں کو بے ہنگم پھیلاؤ سے بچانے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ 2005 سے 2022 کے دوران اسلام آباد کے تعمیر شدہ رقبے میں 104 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اسی عرصے میں لاہور کے تعمیر شدہ رقبے میں 59 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2005 سے 2022 کے دوران کراچی کے تعمیر شدہ رقبے میں 43 فیصد، پشاور کے تعمیر شدہ رقبے میں 44 فیصد اور کوئٹہ کے تعمیر شدہ رقبے میں 72 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی، جدت اور موثر تعمیراتی طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ سرکاری اور نجی شعبے کو مستحکم معیشت کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کیلئے پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی استحکام بنیادی شرائط ہیں۔ تعمیراتی شعبے کو برآمدات، سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے حصول کا ذریعہ بنانا ہوگا۔

اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق ہاؤس اونرشپ پلان فار ایوری ون کے تحت سالانہ 3 سے 4 لاکھ رہائشی یونٹس کی فراہمی کا ہدف ہے۔ 2035 تک رہائشی قرضوں کو جی ڈی پی کے 0.5 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔

مالی سال 2029 تک اراضی ریکارڈ، قیمتوں کے تعین اور جائیداد کی منتقلی کو ڈیجیٹائز کرنے کا ہدف ہے۔

قومی خبریں سے مزید