• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گیس اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے والا انوکھا بیگ ایجاد

فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا
فوٹو بشکریہ غیر ملکی میڈیا

افریقی ملک کیمرون کی طالبہ نے گیس اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے والا انوکھا بیگ ایجاد کر لیا۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کیمرون کی ایک فزکس کی طالبہ نے ایسا تھرمل کوکنگ بیگ تیار کیا ہے جس کی مدد سے کھانا پکانے کے لیے مسلسل گیس، لکڑی یا بجلی کی ضرورت نہیں رہتی۔

رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ خصوصی بیگ موٹے انسولیشن میٹریل سے تیار کیا گیا ہے جو کہ ایک’سلو کُکر‘ کی طرح کام کرتا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق اس بیگ میں کھانا پکانے کے لیے ابتداء میں برتن کو تقریباً 5 سے 10 منٹ تک گیس یا لکڑی کے چولہے پر گرم کیا جاتا ہے، جب کھانا ابلنے لگے تو ڈھکن سمیت برتن کو چولہے سے اتار کر انسولیٹڈ بیگ میں رکھ دیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا ہے کہ بیگ برتن کے اندر موجود حرارت کو برقرار رکھتا ہے، جس کے باعث کھانا مزید ایندھن استعمال کیے بغیر آہستہ آہستہ پکتا رہتا ہے۔ چاول، دالیں اور گوشت جیسی ایسی غذائیں جنہیں پکنے میں زیادہ وقت لگتا ہے، اس طریقے سے تیار کی جا سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس بیگ میں سوپ بھی صرف 20 منٹ میں تیار ہو سکتا ہے، سوپ کو تقریباً 10 منٹ تک ابالنے کے بعد برتن کو بیگ میں رکھ دیا جائے تو برقرار رہنے والی حرارت اسے مزید پکاتی رہتی ہے اور تقریباً 20 منٹ میں سوپ تیار ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس ہاتھ سے تیار کیے گئے کوکنگ بیگ کے استعمال سے ایندھن کی کھپت میں 70 فیصد تک کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق اس بیگ سے لکڑی کے استعمال میں کمی اور روایتی چولہوں سے پیدا ہونے والے دھوئیں سے لوگوں کی نمائش کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

 رپورٹ میں بتایا ہے کہ کیمرون کی مختلف مارکیٹوں میں ایسے 2 ہزار سے زائد کوکنگ بیگ فروخت ہو چکے ہیں، جس سے اس سادہ مگر کارآمد ٹیکنالوجی میں لوگوں کی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔

دلچسپ و عجیب سے مزید