پانچ کہانیاں اور ادھوری رہ گئیں۔
میرا عظیم وطن پانچ اور انسانوں کی صلاحیتوں سے محروم ہو گیا۔ دو نوجوان پاکستانی تین کمسن بیٹیاں دنیا چھوڑ گئیں۔ موت فلیٹوں میں جھانکتی ہے۔ زندگی بنگلوں میں مصروف رہتی ہے۔ موت غربت اور سفید پوشی کو آسان شکار سمجھتی ہے۔ زندگی تو غربت کا خاتمہ اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتی۔ فلک بوس فلیٹوں کی ایسوسی ایشنیں مکینوں سے ماہانہ خرچہ وصول کرتی ہیں۔ جسے دیکھ بھال کہا جاتا ہے دیکھ بھال صرف اینٹوں پائپوں کی در و دیوار تک محدود ہے۔ خرچہ دینے والے خاندانوں کی دیکھ بھال شامل نہیں ہے ۔بلند و بالا عمارتیں بنانے والے بلڈر کروڑوں وصول کر کے شہر میں کنکریٹ کے جنگل اگا رہے ہیں۔ ایک جنگل سے اپنی تجوریاں بھر کر دوسرے پلاٹ کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ ان کیلئے جیتے جاگتے انسان صرف ماہانہ قسطیں ہیں۔ پولیس اسٹیشن جنکی ذمہ داری اپنی حدود میں رہنے والے انسان ہیں وہ صرف حکومتی مخالفین کے گھروں پر چھاپے مارتے ہیں۔ علاقے میں انسانوں کی بچوں بچیوں کی حفاظت کیلئے فکرمند نہیں ہیں ۔بلدیاتی ادارے ہیں لیکن کونسلر کبھی اپنے ووٹرز کا حال احوال نہیں جانتے۔ انکے رہنے سہنے ٹرانسپورٹ غمی شادی میں حصہ نہیں لیتے۔
گھر پہلے خاندانوں کے مضبوط محفوظ قلعے ہوتے تھے۔ انسانوں کی یہ پناہ گاہیں اب مقتل بن گئی ہیں۔ ڈاکٹر عمر 45سال اہلیہ مہوش 35ایک بیٹی13 سال دوسری تیسری دس سال سے کم ایک ہنستا بستا گھرانہ جس نے کیا کیا خواب دیکھے ہونگے اور ایک اسلامی جمہوریہ میں آگے بڑھنے کی کیا کیا آرزوئیں کی ہوں گی۔ یہ تو ابھی معلوم ہوگا کہ موت نے بیک وقت پانچوں کو کیوں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آپ جب یہ سطور پڑھ رہے ہونگے اس وقت تک ممکن ہے کہ پوری تفتیش سامنے آ چکی ہو اور اپنے خاندانوں سے انکا رابطہ کیوں نہیں تھا یہ بھی معلوم ہو چکا ہو ۔
21 ویں صدی میں ٹیکنالوجی جب انسانوں میں رابطوں کا دعویٰ کر رہی ہے۔ بات کرنے کےپیکیج تیار کر کے موبائل کمپنیاں کروڑوں اربوں کما رہی ہیں۔ رشتوں میں بظاہر ربط کا شور مچاتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت قریبی خون کے رشتوں کو بھی دور کر رہی ہیں۔ ہم فون پر بات کر کے پیغامات بھیج کے خوش ہو جاتے ہیں کہ بات ہو گئی۔ ہم نے ٹیکنالوجی سے زیادہ امیدیں باندھ لی ہیں اسکو اپنا سہارا سمجھ لیا ہے۔ لیکن خاندانی سہاروں سے ہم دستبردار ہو رہے ہیں جو صدیوں سے ہمیں آپس میں مربوط رکھتے تھے۔انسان ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔ دوسرے کے لہجے سے بھانپ لیتے تھے کہ یہ کسی مشکل میں ہے۔ اب ہر ایک اتنی مشکل میں ہے کہ وہ دوسرے کی مشکل جاننا ہی نہیں چاہتا۔
پانچوں کی تدفین ہو گئی ہے تفتیش ہوتی رہے گی۔ کئی کئی کہانیاں سامنے آئیں گی۔ اس فلیٹ میں کوئی اور خاندان آبسے گا۔ ایک ملک کو ان پانچ کے جانے سے جس خلا کا سامنا ہے۔ اسکی فکر کوئی کیوں کرئیگا ۔جانے کتنے ڈاکٹر عمر اور مہوشیں ایسی ہی کٹھن صورتحال سے دوچار ہونگی۔ نیا دور نئی ٹیکنالوجی انسانوں کو ایک دوسرے سے، انسانیت سے دور تو کر رہے ہیں۔ انسان جس درد دل کیلئے پیدا کیا گیا وہ سب احساسات اب آن لائن کاروبار کی نذر ہو گئے ہیں۔ کوئی تحقیق نہیں کرئیگا۔ ایک ڈاکٹر جب خود ایک جان لیوا مرض میں مبتلا نکلا تو اس ہسپتال کو جہاں وہ کام کرتا تھا اسکے علاج کی فکر ہونی چاہیے تھی۔ اس وقت اسکے رفقائے کار ڈاکٹروں کوہمدردی ظاہر کرنی چاہیے تھی۔ میں تو ہر اتوار کو درخواست کرتا ہوں کہ دوپہر کے کھانے پر بیٹوں بیٹیوں، پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں کیساتھ بیٹھ کر تبادلہ خیال کریں اور عصر کے بعد محلے داری۔ اپنے پڑوسیوں سے ملیں۔ اپنے گھر بلا لیں یا کسی کے گھر اکٹھے ہو جائیں۔ ورنہ مسجد میں جمع ہو جائیں۔ احسن آباد کے ان فلیٹوں میں بھی مسجد تھی۔ کیا وہاں ڈاکٹر عمر کی کمی محسوس کی گئی۔ ڈکیتیاں فون پرس چھیننے کی وارداتیں عام ہو گئی ہیں۔ موٹر سائیکلوں پر گھومتے یہ راہزن مزاحمت پر جان بھی لے لیتے ہیں۔ یہ کہاں سے آتے ہیں ان کا سرپرست کون ہے اور انکی جوانی جرائم کی نذر کیوں ہو رہی ہے۔
ایک فلک بوس عمارت کی ساتویں منزل پر دو بیڈ روم کے فلیٹ میں پانچ انسانوں کی الم ناک موت جس بے بسی کا اظہار کر رہی ہے اسے صرف ایک انفرادی واقعہ سمجھ کر فراموش نہ کر دیا جائے۔ یہ ایک سماج کے ٹوٹ پھوٹ جانے کا مظہر ہے۔ سب سے پہلے تو یہ کہ ہر پاکستانی خاندان پر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے ۔آمدنی کم ہے اخراجات بہت زیادہ۔ پٹرول کی روز بڑھتی قیمتیں ۔بجلی کے ہوش ربا بل ۔نتیجے میں اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ۔ ہمارے سماجی ماہرین کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آمدنی اور خرچوں میں توازن۔ دولت کی مساوی تقسیم ایک سماج کی ذمہ داری ہے یا نہیں۔ قوم پر ہر روز قرضے بڑھ رہے ہیں۔ قوم کی آمدنی زیادہ تر قرضوں اور سود کی ادائیگی میں صرف ہو رہی ہے۔ حکمران سیاسی جماعتیں، اعلیٰ عہدیدار، وزرا برسوں سے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے دعوے تو کرتے ہیں۔ لیکن ایسا سسٹم وضع نہیں کر پا رہے۔ جس سے غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں کمی ہو جائے۔
آبادی میں بے ہنگم اضافہ ہو رہا ہے۔ اپنے وسائل بروئے کار لانے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ہمارا قومی بجٹ بھی دوسری قومیں بنا رہی ہیں۔ ہماری معاشی منصوبہ بندی آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کیلئے گروی رکھ دی گئی ہے۔ معاشی دباؤ کے ساتھ یہ فلیٹ کلچر بندوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہا ہے۔ یہ تو دیکھا جاتا ہے کہ لفٹ ٹھیک چل رہی ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ فلیٹ میں رہنے والوں کی سانسیں ٹھیک چل رہی ہیں یا نہیں ۔یہ نہ گارڈز دیکھتے ہیں نہ یونین نہ علاقے کا کونسلر نہ تھانے دار۔ خاندانی سہارے خود ختم کیے جا رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کو بلا سوچے سمجھے اپنایا جا رہا ہے۔ آلات احساس مروت کو کچل رہے ہیں۔ جن معاشروں میں یہ ٹیکنالوجی ایجاد ہو رہی ہے وہ تو اپنی سماجی روایات وضعداری کیلئے فکر مند ہیں۔ ایک امریکی ماہر سماجیات 78سالہ پروفیسر شیری ٹرکل نے اپنی تصنیفAlone together میں ایک بنیادی نکتہ اٹھایا ہے کہ ہم ٹیکنالوجی سے زیادہ توقعات رکھنے لگے ہیں ایک دوسرے سے کم۔ یہ کتاب ہمارے ماہرین کو بھی پڑھنی چاہیے۔ احسن آباد ساتویں منزل کا المیہ بکھرتے پاکستانی سماج کی واضح علامت ہے ۔صرف کراچی میں نہیں سب بڑے شہروں میں اجتماعی خودکشی کا رجحان پایا جاتا ہے۔ حکمرانوں کو تو یہ خطرے کی گھنٹیاں سنائی نہیں دیتی ہیں۔ یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں کو اس سماجی ٹوٹ پھوٹ کا تجزیہ کرنا چاہئے۔ فلاحی تنظیمیں اپنے علاقوں میں انسانوں کو ایک دوسرے کے قریب لائیں اور دیکھیں کہ مشترکہ خاندان کیوں تتر بتر ہو رہا ہے ۔خاندانی سہارے کیوں کام نہیں آرہے ہیں۔