کراچی (سید محمد عسکری) شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء (زابل ) نے 23 اور 24 ستمبر کو پیش آنے والے واقعات کے بعد 20 طلبہ کو فوری طور پر جامعہ سے خارج کردیا ہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن نے طلبہ کی برطرفی کو یک طرفہ اور من مانا اقدام قرار دیتے ہوئے فیصلے کی مذمت کی اور طلبہ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ جب کہ طلبہ نے احتجاجاً یونیورسٹی کے سامنے روڈ بلاک کردیا ہے۔جامعہ کے 25 ستمبر کو جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ڈسپلنری کمیٹی نے واقعے کا جائزہ لینے کے بعد متعلقہ طلبہ کو یونیورسٹی قوانین کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا۔ حکم نامے میں غیر مجاز اجتماع، کلاسوں میں خلل، مرکزی گیٹ بند کرنے، عملے کو یرغمال بنانے، دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے، یونیورسٹی ملازمین پر تشدد اور دفاتر میں زبردستی داخل ہونے سمیت متعدد الزامات درج ہیں۔حکم نامے کے تحت طلبہ کی جامعہ سے فوری برطرفی عمل میں لائی گئی ہے۔ انہیں کلاسوں میں شرکت، امتحانات دینے اور جامعہ کی دیگر سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنے کے علاوہ کیمپس میں داخلے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ دوسری جانب کراچی بار ایسوسی ایشن نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ طلبہ باقاعدہ کلاسوں کی بحالی اور تعلیم کے بنیادی حق کے لیے پُرامن احتجاج کررہے تھے۔ بیان کے مطابق احتجاج کو غیر قانونی اجتماع یا مجرمانہ عمل قرار دینا طلبہ کی آواز دبانے کے مترادف ہے۔