• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فکری دہشت گردی عملی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، طاہر اشرفی

مدینہ منورہ(شاہد نعیم) چیئرمین پاکستان علماء کونسل، سیکریٹری جنرل انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل اور کوآرڈینیٹر قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ عملی دہشت گردی سے زیادہ فکری دہشت گردی خطرناک ہے اور اس کے سدباب کے لئے علماء، مشائخ، جامعات، مدارس، مذہبی قوتوں اور حکومتوں کو مشترکہ طور پر ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بنے، طالبان القاعدہ داعش حوثیوں کے افکار بے نقاب کرنا ہوں گے۔حرمین شریفین کی سلامتی پر حملہ امت کیلئے ناقابل قبول،سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو اسلام اور جہاد کے نام پر گمراہ کرنے والے عناصر نے مسلم دنیا کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ نوجوان نسل کو ان گمراہ کن افکار سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انتہاپسند اور دہشت گرد گروہوں کے نظریات، مقاصد اور طرزِ عمل کو علمی اور فکری انداز میں بے نقاب کیا جائے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہم گزشتہ پینتالیس سال سے حالتِ جنگ میں ہیں اور 1990 سے آج تک ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ہمیں ان تمام قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا جو مذہب، اسلام اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہیں، خواہ وہ طالبان، القاعدہ، داعش یا حوثیوں کے نام سے ہوں۔ ان کے منحرف افکار کو بغیر کسی خوف، دباؤ یا مصلحت کے لوگوں، بالخصوص نوجوان نسل کے سامنے رکھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسلام امن، اعتدال، عدل اور انسانی حرمت کا دین ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ فکری انحراف کا مقابلہ صرف سکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ تعلیم، علم، مکالمے، علماء کی رہنمائی اور صحیح اسلامی فکر کے فروغ سے بھی کرنا ہوگا۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان معاملہ نہ شیعہ سنی تنازع ہے اور نہ محض دو ملکوں کا باہمی معاملہ۔ حوثی ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو یمن میں بے گناہ انسانوں کو قتل کرتی ہے۔

اہم خبریں سے مزید