• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سہیل آفریدی فیصلہ کریں، پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے؟ عطاء اللّٰہ تارڑ

وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ—فائل فوٹو
وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ—فائل فوٹو

وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی فیصلہ کریں کہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے؟

اسلام آباد میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں پر آپ کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبے کے حالات بدلنے کے لیے ساڑھے 12 سال کافی ہوتے ہیں، اے این پی، مسلم لیگ ن، جے یو آئی کی قیادت دہشت گردی کے خلاف جانوں کی قربانی دے چکی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ صرف پی ٹی آئی کو دہشت گرد کچھ نہیں کہتے، ایسا کیوں ہے؟ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث ہے، یہ ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ کے پی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کیوں چل رہی ہیں؟ کے پی میں موٹر سائیکل پر بھی نمبر پلیٹ موجود نہیں، پی ٹی آئی خیبر پختون خوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو جان بوجھ کر قانونی دائرے میں نہیں لا رہی، یہی نان کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

PTI کا افغانستان کے بارے میں نرم رویہ کیوں ہے؟ طلال چوہدری

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کا افغانستان کے بارے میں نرم رویہ کیوں ہے؟ دہشت گردی کے واقعات جہاد نہیں، اس کے بدلے انہیں ڈالرز ملتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملوں کے آلۂ کار ہماری مشرقی اور مغربی سرحد کے پار موجود ہیں، ڈی آئی خان حملے کے بعد زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر فائرنگ سے 2 اہلکار شہید ہوئے۔

طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ آپ کو بلٹ پروف گاڑیاں دی جاتی ہیں، آپ وہ واپس کرتے ہیں، نیا پولیس ایکٹ جو آیا ہے اس میں پولیس کا اختیار لینے کی کوشش کی۔

قومی خبریں سے مزید