امریکی ریاست مشی گن کی ایک کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) جین اسمتھ کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک پوسٹ پر عوامی سطح پر شدید ردِعمل کے بعد عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تنازع کی وجہ مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ایک تصویر بنی، جس میں جین اسمتھ کے اہلِ خانہ ایسے سویٹ شرٹس پہنے دکھائی دیے جن پر ’لیک امریکا‘ درج تھا۔
یہ نام امریکی وفاقی سطح پر جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے سے متعلق ایک متنازع صدارتی حکم نامے کی جانب براہِ راست اشارہ تھا۔
یہ اس وقت شروع ہوا جب جین اسمتھ اور ان کے اہلِ خانہ کینیڈا کے شہر ہیلی فیکس جانے کی تیاری کر رہا تھا، جہاں انہیں 10 روزہ چھٹیاں گزارنی تھیں۔
گریٹ لیکس سے متعلق جاری سیاسی بحث کے دوران ایک غیر رسمی گفتگو میں جین اسمتھ نے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال کرتے ہوئے اپنے خاندان کے سادہ کپڑوں پر ڈیجیٹل طور پر لیک امریکا کا جملہ شامل کیا۔
بعد ازاں انہوں نے ترمیم شدہ تصویر اپنے نجی فیس بک پروفائل پر شیئر کی۔
انہوں نے واضح طور پر بتایا تھا کہ تصویر اے آئی سے تیار کی گئی ہے اور ساتھ ہلکے پھلکے انداز میں کیپشن لکھا تھا کہ ہماری سویٹ شرٹس کیسی لگ رہی ہیں؟ یقین نہیں کہ کینیڈا کو پسند آئیں گے، ہاہا۔
معاملہ اس وقت اچانک سنگین ہو گیا جب خاندان کے ایک فرد نے تصویر کو اے آئی سے تیار کردہ ہونے کی نشاندہی کے بغیر عوامی طور پر ری شیئر کر دیا۔
دیکھنے والوں نے تصویر کو ایک حقیقی سیاسی اقدام سمجھ لیا، جس کے نتیجے میں کینیڈین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شدید تنقید شروع ہو گئی۔ اس وقت صورتِ حال مزید حساس ہو گئی کیونکہ یہ پوسٹ 11 ستمبر کے موقع کے ساتھ سامنے آئی تھی، جس کی وجہ سے سرحد پار تاریخی معاملات کے تناظر میں ردِعمل میں مزید شدت پیدا ہوئی۔
شدید آن لائن ردِعمل اور دھمکیوں کے بعد جین اسمتھ اور ان کے خاندان کو اپنی چھٹیاں مختصر کر کے واپس آنا پڑا، واپسی کے بعد جین اسمتھ کی کمپنی نے انہیں عہدے سے برطرف کر کے سی او او کو عبوری سی ای او مقرر کر دیا۔