• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنوبی کوریا: شارک کا سمندر میں جانے سے انکار، چند گھنٹوں بعد دوبارہ نہر میں آ گئی

---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---تصویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

جنوبی کوریا کے شہر بوسان کی ایک نہر سے سمندر کی جانب لے جانے کی کوشش کے باوجود مشہور شارک چند گھنٹوں بعد دوبارہ نہر میں واپس آ گئی۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ’بُکھانگی‘ کے نام سے مشہور شارک کو گزشتہ ماہ بوسان کی مصنوعی آبی گزرگاہ میں دیکھا گیا تھا، ماحولیاتی کارکنوں نے اس کی آمد کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا تھا۔

حکام نے ابتداء میں شارک کو خود سمندر کی طرف جانے کا موقع دینے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم اس کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھنے پر اسے نکالنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔

حکام کے مطابق بدھ کی رات کارکنوں نے تیرتے پلیٹ فارمز پر نصب جالوں کی مدد سے شارک کو آہستہ آہستہ نہر سے باہر لے جانے کی کوشش کی، لیکن وہ ایک جال کے نیچے سے نکل کر دوبارہ نہر میں واپس آ گئی۔

وزارتِ سمندر کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ شارک اس وقت بیرونی جال اور نہر کے اندر 30 سے 40 میٹر کے فاصلے پر نصب ایک اور جال کے درمیان موجود ہے۔

اہلکار کے مطابق جمعرات کی صبح اسے نکالنے کی نئی کوشش شروع کی گئی، جس کے دوران بیرونی جال کو اوپر اٹھایا گیا تاکہ شارک کو نہر سے باہر نکلنے کا راستہ مل سکے۔

اس سے قبل بھی حکام پانی کی تیز دھاروں اور جالوں کی مدد سے شارک کو سمندر کی جانب لے جانے کی 2 کوششیں کر چکے تھے، جو ناکام رہی تھیں۔

3 میٹر لمبی یہ شارک گرم اور استوائی علاقوں میں پائی جاتی ہے، اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بوسان کی نہر پر 16 لاکھ سے زائد افراد آ چکے ہیں۔

شارک کی غیر متوقع آمد نے مقامی معیشت اور سیاحت کو بھی فروغ دیا ہے، بوسان کے میئر چون جے سو نے اس حوالے سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شارک نے شہر کو ایسی تشہیر فراہم کی جس پر کھربوں کی لاگت آ سکتی تھی۔

دوسری جانب ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سمندری درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث گرم پانیوں میں رہنے والی مچھلیاں شمال کی جانب منتقل ہو رہی ہیں اور ان کے تعاقب میں نیم استوائی علاقوں کی شارکس بھی نئے علاقوں کا رخ کر رہی ہیں۔

دلچسپ و عجیب سے مزید