استنبول میں آر 4 ملکوں کے وزرائے خارجہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا، جس میں سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا استنبول میں اجلاس ہوا، جس میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مشرق وسطیٰ، خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی کارروائیاں یمن میں انسانی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہیں، سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں، خصوصاً شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہیں، حوثی ملیشیا فوری طور پر فوجی کارروائیاں اور حملے بند کرے۔ اعلامیہ میں یمن کی حکومت اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری سے ممکن ہے، تنازع میں شہریوں، شہری تنصیبات اور جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ پاکستان میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی حمایت، تنازع کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت اور جہاز رانی کی آزادی ناگزیر ہے، محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت فوری اور مکمل بحال کی جائے، سمندری راستوں میں رکاوٹیں عالمی سپلائی چین، توانائی، کھاد اور خوراک کی ترسیل کو متاثر کرتی ہیں، قانونی بحری آمدورفت میں رکاوٹیں ڈالنے والے اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔
اعلامیہ میں علاقائی معاملات پر قریبی مشاورت اور رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیہ کے مطابق اسرائیلی قبضہ خطے اور اس سے باہر عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب نے فلسطین میں دو ریاستی حل پر جلد عمل درآمد کا مطالبہ کیا اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی حمایت کرتے ہیں اور مطالبہ کیا کہ فلسطین میں جاری اسرائیلی تشدد فوری طور پر بند کیا جائے، یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں بند کی جائیں۔
مشترکہ اعلامیہ کے مطابق مغربی کنارے اور یروشلم میں اسرائیلی آبادکاری کی تمام سرگرمیوں اور فلسطینیوں پر آبادکاروں کے تشدد کی مذمت کی گئی اور غزہ میں بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی اور تعمیر نو کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔