اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) چار پاکستانی ریفائنریز، جنہوں نے براؤن فیلڈ کی بڑی اپ گریڈیشن کے لیے 24 ستمبر کو حکومت کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کئے تھے، نے تاحال اپنے تفصیلی منصوبے باضابطہ طور پر انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کو جمع نہیں کرائے ہیں۔ آئی ایس جی ایس ایک سرکاری کمپنی ہے جسے ریفائنری اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر عمل درآمد کی نگرانی اور اس سے وابستہ اپ گریڈیشن مراعاتی اکاؤنٹس کو منظم کرنے کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ان ریفائنریز- اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل)، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ (این آر ایل)، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (پی آر ایل)اور سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ (سی پی ایل) -نے گرین فیول، باٹم آف دی بیرل(بی او بی) کنورژن، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور پیٹرولیم مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے سے متعلق سرمایہ کاری کرنے کا عزم کیا ہے۔ تاہم، یہ منصوبے ابھی انجینئرنگ اور فزیبلٹی کے مختلف مراحل میں ہیں۔ ریفائنریز اس وقت فزیبلٹی اسٹڈیز اور فرنٹ اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن مکمل کر رہی ہیں، جس کے بعد ان کے تفصیلی اپ گریڈیشن منصوبے متعلقہ سرکاری ادارے کو جمع کرائے جائیں گے۔