• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ پولیس کے شعبہ تفتیش کی جانب سے سنگین مقدمات کی تحقیقات میں مبینہ تاخیر

کراچی (مطلوب حسین)سندھ پولیس کے شعبۂ تفتیش کی جانب سے سنگین مقدمات کی تحقیقات میں مبینہ تاخیر، شواہد کے حصول میں کمزوری، ملزمان تک بروقت رسائی نہ ہونا اور مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں ناکامی کے باعث نہ صرف متاثرہ شہریوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ رہی ہے بلکہ ملزمان کے بروقت قانون کی گرفت میں نہ آنے کے باعث مزید جرائم کے امکانات بھی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔شہر میں درج متعدد سنگین مقدمات کی تفتیش کے حوالے سے متاثرہ شہریوں کے بیانات اور شکایات کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ تفتیشی افسران کی جانب سے ابتدائی کارروائی اور کاغذی تقاضے مکمل کرنے کے بعد کئی کئی روز تک تفتیش میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو پاتی، جس کے نتیجے میں متاثرین کو اپنے مقدمات کے مستقبل اور پولیس کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات کے بارے میں تشویش لاحق رہتی ہے۔ایک گھر میں ڈکیتی کے مقدمے کے مدعی نے بتایا کہ واردات کے روز پولیس موقع پر پہنچی، تاہم ان کے مطابق وقوعے کے تین روز تک مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیشی افسر ان کے پاس آتے ہیں، ضروری کارروائی مکمل کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں، لیکن انہیں یہ اعتماد نہیں دلایا جاتا کہ مقدمے کی تفتیش کس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ملزمان تک پہنچنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔مدعی کے مطابق گھر سے لوٹے گئے سامان میں نقدی، طلائی زیورات اور موبائل فون بھی شامل تھے، تاہم واردات کو دس روز سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود موبائل فون کی لوکیشن یا اس کے ذریعے ملزمان تک پہنچنے کے حوالے سے پولیس کی جانب سے کوئی تسلی بخش پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔مقدمے کے حوالے سے ایک اور اہم پہلو کرائم سین یونٹ کی جانب سے حاصل کیے گئے فنگر پرنٹس کا ہے۔

اہم خبریں سے مزید