• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی افواج کا 23 سال بعد عراق میں مشن آج مکمل، انخلاء کر لیا

—تصویر بشکریہ رائٹرز
—تصویر بشکریہ رائٹرز

امریکی افواج نے عراق میں 2 دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط جنگ کے بعد اپنا مشن آج ختم کر دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق سے امریکی افواجی انخلاء کے بعد سیکیورٹی خلاء پیدا ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس صورتِ حال سے ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا کو تقویت مل سکتی ہے اور داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔

آخری امریکی فوجیوں کی واپسی کو تہران اور اس کے اتحادیوں نے فتح کے طور پر پیش کیا، تاہم متعدد عراقی شہریوں کو تشویش ہے کہ ان کی اپنی سیکیورٹی فورسز ملک کی حفاظت کی ذمے داری سنبھالنے کے لیے ابھی پوری طرح تیار نہیں۔

واضح رہے کہ امریکی افواج کے انخلاء پر 2024ء میں جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں اتفاق کیا گیا تھا، جس پر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایسے وقت میں عمل درآمد کیا جب وہ پڑوسی ملک ایران کے خلاف جنگ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ انخلاء امریکا کی قیادت میں اتحادی افواج کی جانب سے صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے 23 سال بعد عمل میں آیا ہے، جس کے بعد عراق میں کئی برس تک بدامنی اور انتشار جاری رہا۔

امریکی فوجی ابتدائی طور پر 2011ء کے اختتام پر عراق سے نکل گئے تھے، تاہم 3 سال سے بھی کم عرصے بعد اس وقت واپس آئے جب داعش کے جنگجوؤں نے عراق کے تقریباً ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔

امریکا کی اس صدی کی سب سے بڑی جنگ میں ساڑھے 4 ہزار سے زائد امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جو افغانستان میں لڑی جانے والی متوازی جنگ میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سے تقریباً دوگنا ہے۔

عراق باڈی کاؤنٹ منصوبے کے مطابق عراق میں 2 لاکھ سے زائد شہری بھی مارے گئے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید